عاشورہ اور رنگ برنگے مولوی

uzair-khan

ایک دفعہ شاہ ولی اللہ کی کتاب کا اردو ترجمہ پڑھنے کا اتفاق ہوا۔ اگرچہ شاہ ولی اللہ کا بہت سا علمی اور تحقیقی کام وقت کی گردش کی نذر ہو کر کھو چکا ہے مگر یہ کتاب کسی نہ کسی طرح زمانے کی لہروں پر تیرتی ہوئی مجھ تک پہنچ گئی۔ اس کتاب کا مضمون قرآن پاک کی تفسیر ہے اور شاہ ولی اللہ نے تفسیر کے حوالے سے بنیادی اصول واضع کیے ہیں اگرچہ اس میں ہونے والی بیشتر باتیں صرف اور صرف مفسرین کے لئے تھیں اور میری چھوٹی سی عقل سے بہت بالا تھیں مگر ایک بنیادی اور عام فہم بات جو میری سمجھ میں آئی تو وہ یہ تھی کہ شاہ ولی اللہ کے نزدیک دین کو سب سے زیادہ نقصان ان مفسرین نے پہنچایا جو کہ قرآن کی تفسیر محض افسانوی کہانیوں اور غیر مستند روایات پر کرتے ہیں اور قرآن کی تفسیر ایک افسانے یا ناول کے انداز میں کرتے ہیں۔ اس ضمن میں ان کی سب سے بڑی دلیل یہ تھی کہ قرآن کا پیغام کسی خاص واقعے یا کسی خاص علاقے سے بالکل قطع نظر ہے۔ قرآن کا پیغام مکمل طور پرآفاقی اور دائمی ہے اس لئے قرآن کی آیات کو محض چند واقعات تک محدود کرنا اور اس کی تفسیر کے لئے محض قصے کہانیوں پر اکتفا کرنا انتہائی زیادتی ہے ۔ ہاں قرآن کی کسی آیت کو سمجھانے کے لئے کسی روایت کا سہارا تو لیا جا سکتا ہے مگر اس آیت کو صرف اسی روایت تک محدود نہیں کرنا چاہیے۔
شاہ ولی اللہ کا یہ پیغام مجھے عاشورہ کے دنوں میں شدت سے یاد آیا اور مجھے انتہائی افسوس بھی ہوا کہ ہم دین کے ساتھ کس طرح کھیل رہے ہیں۔
آپ نے عاشورہ کے دنوں میں دیکھا ہو گا کہ تقریباََ ہر ٹی وی چینل پر اس عظیم شہادت کا ذکر تھا، خاص کر 9اور10محرم کو تمام ٹی وی چینل پر صرف اسی بات کا تذکرہ تھا۔یہ بات اپنے طور پر بہت خوش آئند ہے کیونکہ حضرت امام حسینؑ اور انکے ساتھیوں کی قربانی اتنی عظیم اور سبق آموزہے کہ بدتر سے بدتر انسان کی زندگی میں اس کا تذکرہ انقلاب پیدا کر سکتا ہے اور بہ واقعہ امت مسلمہ کا قیمتی ترین اثاثہ ہے مگر افسوس کے ساتھ کے ٹی وی چینلز نے ریٹنگ کی دوڑ میں اس واقعہ کو اس حد تک کمرشل کرنے کی کوشش کی کہ دل خون کے آنسو رونے لگا۔
اس ضمن میں میرا سب سے پہلا اعتراض علمی سطح پر انتہائی کم تر درجے پر فائز اینکر حضرات اور خاص طور پر خواتین کی موجودگی ہے۔آپ دنیا میں کسی بھی مستند چینل کو دیکھ لیں اس میں نہ صرف موضوع کی مناسبت سے مہمان بلائے جاتے ہیں بلکہ میزبان بھی اتنے ہی قابل ہوا کرتے ہیں۔ مگر ہماری بدقسمتی کہ ہمارے چینلز پر صرف ایک مخصوص ٹولے کا اس ضمن پر ضیفہ ہے اور ان کی قابلیت محض ان کی خوبصورتی یا پھر ان کی جیب میں موجود پیسہ ہے۔ عید کے تہوار سے لے کر رمضان ٹرانسمیشن تک آپ کو یہی چہرے نظر آئیں گے۔
مجھے ان کی موجودگی پربالکل اعتراض نہ ہوتا اگر وہ علمی لحاظ سے تھوڑے سے مضبوط ہوتے مگر ان کی قابلیت کا یہ عالم ہے کہ آپ انہیں دینا کے کسی عنوان پر پانچ منٹ بولنے کا کہہ دیں تو دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہو جائے گا۔
جن کی ساری زندگی اپنے چہرے کے نین نقش کی قیمت لگوا کے گزری ہو اور معذرت کے ساتھ جن میں سے اکثرنے اخلاقی لحاظ سے انتہائی بدتر حالات میں پرورش پائی ہو ان کو عاشورہ اور رمضان ٹرانسمیشن جیسے پروگراموں کی میزبانی کروانا انتہائی نامناسب ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ میرا دوسرا اعتراض ان پروگراموں میں بیٹھ کر فتوے دینے والے انتہائی زرق برق لباس میں ملبوس انتہائی غیر مستند علماء ہیں جو مندرجہ بالا حسین چہروں کے جھرمٹ میں بیٹھ کر دین کے بارے میں انتہائی غیر مستند باتیں اتنے ایمان اور یقین کے ساتھ کر رہے ہوتے ہیں کہ کوئی بھی مسلمان شرمسار ہو جائے۔ان میں سے تو بعض ایسے ہیں کہ جن کو ابھی جمعہ جمعہ آٹھ دن نہیں ہوئے پیدا ہوئے اور اتنے حساس معاملات پر ان کی گفتگو کا ظرف باکمال ہے۔فرقہ وارانہ اختلافات سے قطع نظر اگر آپ ان کی باتیں انہی کے اپنے فرقے سے تعلق رکھنے والے مستند علماء کو سنوائیں تو وہ بھی میری بات کی تصدیق کریں گے۔
ان میں بعض ایسے افراد بھی شامل ہیں کہ جو دنیاوی لحاظ سے پہلے کسی اور شعبے سے منسلک تھے مگر اب ان کا دعویٰ ہے کہ اللہ نے ان کو ہدایت دے دی ہے مگر بھائی ہدایت ملی ہے تو فتوی دینے کا اختیار تو نہیں مل گیا۔ مگر کیونکہ شہرت بھی شیطان کے ہتھیاروں میں سے ایک ہتھیار ہے اور اس کے وار سے بچنا انتہائی مشکل ہے اور شاید اسی لئے ان حضرات کا ٹی وی سکرین سے غائب ہونے کا دل نہیں کرتا۔
اب آتے ہیں آخری اعتراض کی طرف وہ یہ ہے کہ اس حوالے سے ان پروگرامز میں ہونے والی گفتگو انتہائی سطحی اور انتہائی غیر مستند روایات پر مبنی ہے جس سے اصل مقصد کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔میں یہ بات بحثیت شیعہ یا سنی کے نہیں کر رہا بلکہ آپ کسی بھی فرقے سے اس بارے میں رائے معلوم کرلیں وہ میری اس بات سے اتفاق کرے گا۔
حضرت امام حسینؑ نے اتنی بڑی قربانی اس لئے نہیں دی تھی کہ امت اس کو ایک دردناک کہانی بنا کر سنتی رہے اور معاذ اللہ محظوظ ہونے کا ذریعہ بنائے۔ نہ تو یہ کوئی افسانہ یا ناول ہے اور نہ ہی کوئی لوک داستان یہ ایک عظیم مقصد کے لئے دنیا کے عظیم ترین خاندان کی قربانی ہے۔ مجھے بتائیے کہ ان چینلز میں سے کسی ایک نے اتنی توفیق کی کہ اس قربانی کی لاج رکھتے ہوئے اتنی توفیق کی ہو کہ نماز کے اوقات نشر کیے ہوں۔میں ایک بار پھر واضع کرنا چاہتا ہوں کہ میرا اعتراض کسی ایک فرقے پر نہیں میرا موقف یہ ہے کہ آپ بھلے اسے کسی ایک فرقے کے رنگ میں ہی ڈھال لیں مگر کم از کم اس فرقے کوتو مطمئن کرلیں۔
اصل میں ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں حالات نے بھونچال پیدا کر دیا ہے اور جب انسان اپنے حالات سے تنگ ہو تو وہ مکشن کا سہارا ڈھونڈتا ہے اسی لیے مغرب میں مکشن پر مبنی فلمیں اربوں کا بزنس کرتی ہیں‘ خدارا مذہب کو اس مقصد کے لئے استعمال مت کیجئے اور ان معاملات کو اس طرح بازاری لوگوں کے ہاتھوں میں مت دیجئے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *