آخر یہ extensionsآتی کہاں سے ہیں؟

برطانیہ کے مشہور پارلر میں بیٹھی ایک عورتNaomi اپنی باری کا انتظار کر رہی ہے۔ وہ اپنے بالوں میں مصنوعی بال لگا کhair-4ر مزید خوبصورت اور دلکش ہونا چاہتی ہے۔ آپ نے بالوں میں مصنوعی بال جوڑنے کے لیے اُس سے تقریباََ1631,000 لیے جائیں گے مگر وہ تیار ہے کیونکہ وہ اپنے بالوں کو حسین دیکھنا چاہتی ہے اور آس پاس کی عورتوں کو حسد کا شکار بھی کرنا چاہتی ہے۔ مگر Naomi شائد یہ نہیں جاننا چاہتیں کہ یہ extensionsیا مصنوعی بال آتے کہاں سے ہیں۔
انڈیا میں اکثر غریب عورتیں اپنے بال نذرانے کے طور پر بھگوان وشنو کو پیش کرتی ہیں۔ جنوبی انڈیا میں Yadagirigutta Temple میں عورتین لائن میں لگ کر یہ روحانی فریضہ سرانجام دیتی ہیں۔ ایسی ہی ایک عورت Lavanya Kakalaبھی ہے جو28سال کی ہے اور اپنی خوشی سے اپنا سسر مونڈھ رہی ہیں۔ اُن کا کہنا تھا کہ اُن کو فرق نہیں پڑتا کہ اُن کے بالوں کے ساتھ آگے کیا کِیا جاتا ہے بلکہ وہ مانتی ہیں کہ اگر اُن کے بال کسی کے کام آتے ہیں تو وہ کوڑے میں جانے سے تو بہت بہتر ہے۔یہ ایک روایت ہے جس کے تحت عورتیں اپنے بال مندر والوں کو دیتی ہیں اور مندر والے اُن بالوں کو آگے بیچ دیتے ہیں اور اُس سے ھاصل ہونے والی رقم فلاحی کاموں میں خرچ کی جاتی ہے۔ لیکن آج تک کسی کو نہیں پتہ کہ یہ رقم لگتی کہاں ہے۔اکثر تو5000عورتیں لائن میں لگ کر اپنے بال اُترواتی ہیں۔
Lavanya جیسی عورتوں کے بالوں کی بہت قدر ہوتی ہے کیونکہ یہاں کی عورتیں نا بال رنگواتی ہیں نا کٹواتی ہیں بلکہ ہر وقت ناریل کا تیل لگا کر رکھتی ہیں۔
Tirumala نامی ایک مندر کے اہلکاروں کا کہنا ہے کہ اُنہوں نے بال بیچ کر سالانہ16322 millionتک کمائے ہیں۔
اس کے ساتھ ساتھ بالوں کے ڈیلر بھی ہوتے ہیں جو پورے بھارتhair-3 میں سفر کر کے غریب عورتوں کو پیسون کے عوض بال منڈھوانے پر مناتے ہیں ۔ جبکہ کچھ غریب آدمیوں کو 1636 دے کر اُن سے اُن کی بیویوں کو بال اُتروانے پر مجبور کرواتے ہیں۔اس کے ساتھ ساتھ یہ ڈیلر ایشیا اور مشرقی یورپ کی بھی مجبور عورتوں سے یہی کام کرواتے ہیں ۔ انڈیا میں اگر عورت خود سے نا مانے تو اُسے تشدد کا نشانہ بنا کر بھی یہ کام کروایا جاتا ہے اور کئی دفعہ اس میں پورا گینگ شامل ہوتا ہے جبکہ جھگیوں کے بچوں کے بال کھلونوں کے عوض اُتار لیے جاتے ہیں۔
مشرقی یورپ کے بالوں کی ڈیمانڈ بھی کافی ہے کیونکہ وہ قدرتی بھورے ہوتے ہیں لیکن اُن کا ملنا مشکل ہے۔سائیبیریا اور یوکرائن میں بھی بال اُتارنے کے لیے باقائدہ میلے لگائے جاتے ہیں۔Daria Dangilova جو ماسکو کی ایک فوٹوگرافر ہیں اُنہوں نے اپنے بال 163120 پاؤنڈ کے عوض کٹوادیے اور بعد میں بہت روئی اور پچھتائیں۔جنوبی امریکہ جیسے Peru اور برازیل کے بالوں کو اُنکی موٹائی اور صحت کے لیے پسند کیا جاتا ہے۔چین کے بال زیادہ پسند نہیں کیے جاتے ہیں جبکہ بال دینے والی کی عمر کا بھی اس میں خاص عمل دخل ہوتا ہے۔
اس کے ساتھ ’’ ڈیڈ ہیر‘] یعنی پرلر میں کٹے بال کیا ’’ comb hair‘‘ یعنی کنگھی سے نکلے بال بھی extensionsبنانے کے لیے اکٹھی کیے جاتے ہیں۔جب بال اکٹھے ہو جائیں تو اُن کے بنڈل بنا کر اُنہیں بس اور جہاز سے مختلف فیکٹریوں میں بھیجا جاتا ہے۔کئی دفعہ یہ راستے میں چوری بھی ہو جاتے ہین۔ بال کا بزنس ایک مشکل بزنس ہے اس لیے بالوں کا کاروباری زبان میں black gold بھی کہا جاتا ہے۔
بالوں کے فیکٹرے پہنچنے کے بعد ایک محنت طلب عمل کے زریعے ہاتھوں سے hair-2اُن کی سلوٹیں نکالی جاتی ہیں ، اُنہیں سیدھا کیا
جاتا ہے، یہ ایک تکلیف والا کام ہے جس میں ہاتھ آنکھیں اور کمر جواب دے جاتے ہیں مگر یہ کرنے والوں کو خاص پیسے بھی نہیں دیے جاتے۔اگلا مرحلہ بالوں کو کیمیکل میں ڈبونے کا ہوتا ہے۔ سستے بال تیزاب اور اسلی قدرت بال کیمیکل میں بھگوئے جاتے ہیں جہاں اُن کی صحت کا نقصان کیے بغیر اُن کا رنگ اُتارا جاتا ہے۔بھورے رنگ کے لیے بال20دن تک کیمیکل میں بھگوئے جاتے ہیں۔
اکثر انسانی بالوں میں گھوڑے اور بکری کے بال بھی ملا دیے جاتےhair-1 ہیں اور ایسا اکثر اچھی extensionsمیں بھی ہو جاتا ہے۔ بال کلوگرام کے حساب سے ہول سیلر کو بیچے جاتے ہیں۔Gloria King جو خود ایک ہول سیلر ہیں کہتی ہیں کہ بال لانے والے بہت غریب لوگ ہوتے ہیں اور اُن کو 45ڈالر تک دیے جاتے ہیں جس اُن کی فیملی تین ہفتے تک کھانا کھاتی ہے۔
حیرت کی بات ہے کہ UKکے پارلر میںextensionsکے لیے 1631,200 تک لیے جاتے ہیں اور عورتیں خوشی خوشی دیتی بھی ہیں۔Inanch London کو چلانے والی Joe Emir کا کہنا ہے کہ اُن کے پارلر کی extensionsقدرتی بالوں کی ہی ہوتی ہیں اسلیے وہ پیسے بھی زیادہ لیتے ہیں۔Naomi کا بھی یہی کہنا ہے کہ وہ کافی عرصے سے extensionsلگوا رہی ہیں اور ہر چار ماہ بعد وہ مصنوعی بالوں کو بدلواتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ وہ اس سے حسین اور پر کشش نظر آتی ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *