وہ ایک بہادر لڑکی

razia syed
میں اس دفتر میں نئی نئی آئی تھی اور ظاہر ہے کہ نوآموز ہونے کی بنا پر یہاں کے ماحول سے بھی ناواقف تھی ، لیکن دل میں بہت کچھ کرنے کی حسرت تھی اور کچھ سیکھنے کی جستجو بھی ۔
یہ ایک مشہور و معروف دفتر تھا اور یہاں انڑن شپ بھی مل جانا ہفت اقلیم سمجھا جاتا تھا۔ تاہم جس طرح ہرخوب صورت چیز کے پیچھے بسا اوقات گندگی اور غلاضت چھپی ہوئی ہوتی ہے یہی حال اس بڑے سے دفتر کا بھی تھا ۔
یہاں کی سب سے عجیب بات یہ تھی کہ خواتین یہاں اپنے لئے بنائے گئے واش رومز میں جانے سے ہی خوفزدہ رہتی تھیں جبکہ واش رومز کا استعمال بھی ناگزیر تھا ، دفتر کئی منزلہ عمارت پر مشتمل تھا اور اسکا ایک حصہ وہاں بیرون شہر رہنے والے ملازمین کے لئے مخصوص تھا جہاں ایڈمن ، کچھ آفس بوائز اور خاکروب رہائش  پذیر تھے ۔
حیرت انگیز یہ بھی تھا کہ اکثر وہ اپنے پورشن کی بجائے نیچے کے فلورز پر بنے ہوئے واش رومز کو بلا جھجک استعمال کرتے اور کوئی ان کی باز پرس نہیں کر سکتا تھا ۔ ظاہر ہے کہ یہاں رہائش رکھنے والوں کو باتھ رومز نہانے کے لئے بھی استعمال کر نا ہوتے تھے جس کی وجہ سے دفتر میں کام کرنے والوں کی پرائیوسی بھی متاثر ہوتی تھی ۔
مجھے یاد ہے کہ میں نے اس دن اسمبلی کی کارروائی کے لئے جانا تھا اور واش روم جو خواتین کے لئے بنائے گئے تھے وہاں جانا ازحد ضروری تھا ، لیکن لیڈیز واش روم کی دیوار پر ایک خاکروب کو چڑھے ہوئے دیکھ کر مجھے حالات کی سنگینی کا احسا س ہوا ( واش رومز کی دیواریں بہت کم بلند تھیں اور ان پر کسی قسم کی بھی رکاوٹ نہیں تھی  ) یاد رہے کہ یہ ایک بہت مشہور و معروف اخبار کے دفتر کی کہانی ہے یہاں پر یہ کہنا بھی ضروری سمجھوں گی کہ صرف خاکروب یا اسی طبقے کے لوگ ایسی ذہینت کے حامل نہیں ہیں بلکہ کئی کلیدی عہدوں پر کام کرنے والے افراد بھی اس تربیت سے عاری ہیں خصوصا جو ان  کو ان کی والدہ سے ملنی چاہیے ۔ ۔
یہ بات ہمیشہ یاد رکھنی چاہیے کہ ہنگامی حالات میں جیسے خواہ آپ لفٹ میں پھنس جائیں  یا زلزلہ ہو یا کوئی ایسی اچانک ناخوشگوار قسم کی افتاد ہر وقت اپنے حواس بحال رکھنے کی کوشش کریں ۔
خیر اگر میں ذرا سی تاخیر بھی کر لیتی تو وہ حضرت نہایت آسانی سے واش روم میں کود سکتے تھے اور اسکا تصور ہی میرے رونگٹھے کھڑے کرنے کےلئے کافی تھا  ، المختصر کہ میں نے دفتر کے ایچ آر ڈیپارٹننٹ سے بات کر کے اس مسئلے کو حل کروایا نہ صرف خواتین کے واش رومز کی دیواریں اونچی کروائی گئیں بلکہ ان کے اوپر کانچ اور رکاوٹیں بھی لگوائی گئیں ۔
اگرچہ اب میں اس دفتر میں نہیں ہوں لیکن میں مطمئن ہوں کہ میں نے اپنی بہادری اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے بہت سی خواتین کو تحفظ فراہم کیا ۔ پبلک ٹوائلٹس کی بات تو جناب بہت دور کی ہے  کئی دفاتر میں بھی لیڈیز واش رومز میں مرد حضرات دکھائی دیتے ہیں ۔۔
اگر آپ بھی  ذمہ دار اور مخلص ہیں تو ایسی چھوٹی چھوٹی باتوں کے خلاف آواز بلند کریں ، دنیا کے مظلوم طبقات خواہ وہ مرد ہوں ، بچے یا خواتین ان کے لئے بات کریں کیونکہ بہت سے لوگوں کو ایسی بہادر لڑکی نہیں ملتی ۔۔۔۔۔۔۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *