اپنی ذات کے عشق میں مبتلا شخص

یاسر پیر زادہYasir Pirzada

 انسان کو تخلیق کرتے وقت نہ جانے اس میں کون سا مصالحہ ڈالا گیا ہے کہ کسی انسان کو اپنی ذات میں کوئی خرابی ہی نظر نہیں آتی،زیادہ تر انسانوں میںاس مصالحہ کی مقدار کسی حد تک قابل برداشت ہوتی ہے تاہم کچھ چنندہ انسان ایسے بھی ہیں جن میں یہ مصالحہ کچھ زیادہ ہی تیز پایا گیا ہے ،ایسے لوگ اپنی ذات کے عشق میں مبتلا ہوتے ہیں ،یہ وہ لوگ ہیں جن میں اپنی طاقت کے اظہار ، پہاڑ جیسی انا کی حفاظت اور خود نمائی کا جذبہ شدت کے ساتھ کارفرماہوتا ہے اور اس عمل کے نتیجے میں ان کے سوچنے سمجھنے کی وہ صلاحیت کمزور ہو جاتی ہے جو انہیں اپنے اور دوسروں کے مستقبل کے ممکنہ تباہ کن اثرات سے خبردار کر سکے ۔اپنی ذات کے عشق میں مبتلا ہونا ایک بیماری ہے جس کی سب سے بڑی نشانی یہ ہے کہ انسان کے اندر طبعی حد سے متجاوز خود پسند جذبات پیدا ہو جاتے ہیں جس کے نتیجے میں وہ خود کو ہر چیز کا قانونی اور جائز مالک سمجھنا شروع کر دیتا ہے ،ایسے شخص کے قول و فعل سے تکبر جھلکتا ہے اور وہ اپنے افکار اور خیالات اس ٹھاٹھ سے بیان کرتا ہے گویا آفاقی سچائی اس پر وحی کے انداز میں اترتی ہو ،وہ خود کو کل کائنات کا محور سمجھ بیٹھتاہے ۔ایسا شخص ہر وقت اپنی تعریف کروانا تو پسند کرتا ہے مگر دوسرے لوگ کیا کرتے ہیں ،کیا سوچتے ہیں ، اس بات کی اسے رتی برابر بھی فکر نہیں ہوتی، وہ فقط اپنی ذات میں مگن رہتا ہے ۔ایسا شخص مسلسل توجہ کا طالب ہوتا ہے ،اپنی خوشامد چاہتاہے اور اس کی خواہش ہوتی ہے کہ اس سے ملنے والا ہر شخص ان خیالات کی پر زور تائید کرے جو اس کا اپنی ذات سے عشق مضبوط کرنے کا باعث بنتے ہیں ۔
ایسے لوگوں کی ایک نشانی یہ بھی ہے کہ وہ اپنے آپ کو بے حد پر کشش سمجھتے ہیں،ان کا خیال ہوتا ہے کہ ان کی ہر ادا پر دنیا فدا ہے ، چونکہ ایک خاص حلقہ انہیں پسند کرتا ہے اور ان کی تخیلاتی دنیا میں کسی حد تک حقیقی رنگ بھی بھرتا ہے اس لئے انہیں اپنی ذہانت و فطانت اور فصاحت و بلاغت کے بارے میں بھی یقین ہوجاتا ہے کہ ان جیسا کرشماتی لیڈر، سیاسی و سماجی رہنما ، شعلہ بیان مقرر اور دنیا کو ہلا کر رکھ دینے والا شخص اور کوئی نہیں ،وہ خود کو ایک ایسے تصوراتی شیش محل میں تصور کرتاہے جہاں اسے اپنی شبیہ کے علاوہ کوئی دوجا نظر نہیں آتا،اس کی ذات میں بے پناہ غرور امڈ آتا ہے، عاجزی اور انکساری اس کی ذات کیلئے اجنبی الفاظ ہیں، وہ مسلسل متکبرانہ اور تحکمانہ رویہ برتتا ہے، اس کے رویے میںان لوگوں کیلئے حقارت پیدا ہو جاتی ہے جو اس کی ذات سے متعلق مبالغہ آرائی پر مشتمل ان خیالات کومن و عن تسلیم نہیں کرتے ،اس کے علاوہ وہ ان تمام لوگوں کیلئے دل میں نفرت رکھتا ہے جنہیں وہ اپنی آن بان کیلئے خطرہ سمجھتا ہو اور اس نفرت کا اظہار کرنے میں اسے کوئی تامل نہیں ہوتا۔
اپنی زندگی میں ایسے شخص نے اگر کوئی کمالات حاصل کئے ہوں یا کچھ کارنامے انجام دئیے ہوں ،تووہ انہیں بڑھا چڑھا کر بیان کرتا ہے اور بدلے میں اس سے کئی ہزار گنا تعریف اور پذیرائی کا متمنی اور امیدوار ہوتا ہے ، اپنی ذات سے وابستہ اس کی خواہشات لا متناہی ہوتی ہیں ، اس کا خیال ہوتا ہے کہ کائنات میں حسن اور ذہانت اس کی ذات میں یکجا کر دئیے گئے ہیں لہٰذا باقی ماندہ خوبصورتی یا عقل اگر کہیں کسی میں پائی جاتی ہے تو وہ بھی اسی کی دین ہے لہٰذا اس کا وہ بلا شرکت غیرے مالک ہے۔ ایسے انسان کی خواہش ہوتی ہے کہ اس کے ساتھ ہر وقت ایسا ترجیحی سلوک کیا جائے گویا وہ کوئی مافوق الفطرت ہستی ہے جسے چند لمحوں کے لئے عام انسانوں میں بھیجا گیا ہے۔ایک دلچسپ نشانی ایسے شخص کی یہ بھی ہے کہ وہ صدق دل سے اس بات پر یقین کرتا ہے اس کی ذات ان تمام لوگوں کی زندگیوں میں کلیدی اہمیت کی حامل ہے جن سے وہ روز مرہ کے حالات میں ملاقات کرتا ہے ۔ایسا شخص کسی کے مشوروں کو بھی خاطر میں نہیں لاتا ،وہ خود کو چونکہ عقل کل سمجھتا ہے اس لئے اس کا خیال ہوتا ہے کہ جو کچھ وہ سوچتا سمجھتا ہے وہی حتمی طور پر حق ہے اور باقی لوگ بھی اسی طرح سوچنے کے پابند ہیں ۔اس کی گفتگو ’’میں‘‘ کے گرد گھومتی ہے ، وہ اکیلا ہی پلاننگ کرتا ہے اوراکیلا فیصلے کرتا ہے ۔
ماہرین نفسیات نے اس بیماری کی وجوہات تلاش کرنے کی کوشش کی ہے مگر تا حال کسی ٹھوس نتیجے تک نہیں پہنچ پائے ، عام طور سے اگر ماہرین کو کوئی وجہ سمجھ نہ آئے تو وہ ایسی کسی بھی بیماری کو بچپن کی محرومی یا کوئی پیدائشی نفسیاتی گرہ کہہ کر جان چھڑا لیتے ہیں، حالانکہ اس کیس میں مسئلہ بالکل برعکس ہے،جو لوگ اپنی ذات کے عشق میں مبتلا ہوتے ہیں دراصل انہیں زندگی میں ہمیشہ تعریف و توصیف ملتی ہے ، لوگ کچھ خصوصیات کی بنا پر انہیں پسند کرتے ہیں ، قدرت بھی ان پر مہربان رہتی ہے ، قسمت کے دھنی ہوتے ہیں جس کی وجہ سے بسا اوقات ان کی ناکامی کامیابی میں تبدیل ہو جاتی ہے اور یوں شاذ و نادر ہی ان کا سامنا ایسے لوگوں سے ہوتا ہے جو انہیں پسند نہیں کرتے ۔ذرا ایسے انسان کا تصور کیجئے جسے زندگی میں صرف محبت ملی ہو ، لوگ اس کی خامیوں سے پیار کرتے ہوں،اس کے چاہنے والے اس کے ارد گرد جمع رہتے ہوں تو لا محالہ ایسا شخص اپنی ذات کے عشق میں مبتلا ہو جائے گا ، انسان یوں بھی بنیادی طور پر اپنا تھوڑا بہت عاشق تو ہوتا ہی ہے ،اگر رہی سہی کسر لوگ پوری کر دیں تو پھر انسان کو سچائی نظر آنا بند ہو جاتی ہے اور اس کی سوچ کا انداز بدل جاتا ہے ،وہ اس طرح سے سوچنے کے قابل ہی نہیں رہتا جیسے دنیا میں رہنے والے باقی لوگ سوچتے ہیں جو اس سے جڑے ہوئے نہیں۔
اپنی ذات پر فدا ہونے والا شخص کسی دوسرے سے عشق نہیں کر سکتا ،تاہم اگر ایسی کوئی صورتحال پیدا ہو جائے جس میں اسے کسی سے محبت ہو جائے تو ایسے میں اس کے محبوب کی شامت آ جاتی ہے ، ایسا شخص اپنے محبوب کو بھی کٹہرے میں کھڑا کر دیتا ہے اور اس سے چوبیس گھنٹے ایک ہی مطالبہ کرتا ہے کہ کہو تمہیں مجھ سے محبت ہے!یوں تو ہر محبت میں ہی عاشق اپنے محبوب سے اظہار محبت کے بعد اگلا سوال یہی کرتا ہے کہ کیا تمہیں بھی مجھ سے محبت ہے ،مگر اس کیس میں یہ سوال شدت کے ساتھ اور مسلسل دہرایا جاتا ہے اور جواب کچھ بھی ہو ، اس عاشق کی تسلی نہیں ہوتی جو بری طرح صرف اپنی ذات کے عشق میں مبتلا ہوتا ہے ۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر ایسے لوگ معاشرے میں پائے جاتے ہیں جو خود پسندی کے مرض میں مبتلا ہوں تو سماج کو ان سے کیا خطرہ ہے ! ایسے لوگ معاشرے کے ہر طبقے میں پائے جاتے ہیں اور سیاست بھی اس سے مستثنیٰ نہیں ہے ، اگر ایسا کو ئی شخص سیاست میں آجائے تو وہ درست فیصلے کرنے کی صلاحیت سے محروم ہو تا ہے ،اسے کسی کا مشورہ بھی قبول نہیں ہوتا کیونکہ اس کا خیال ہوتا ہے کہ اس نے اسمبلی کی سو نشستیں جیت رکھی ہیں جو اس کی سیاسی بصیرت کا منہ بولتا ثبوت ہے لہٰذا مشورہ دینے والے اپنا راستہ ناپیں۔اسی طرح جب ہزاروں کا مجمع ایسے شخص کے سامنے وارفتگی کے عالم میں نعرے لگا رہا ہو تو انسان خود کو دنیا کا سب سے عقل مند شخص سمجھتا ہے ،ایسے عالم میں اپنی ذات سے عشق پر مہر ثبت ہو جاتی ہے ۔یہ وہ عشق ہے جس کی قیمت کچھ عرصے بعد پوری قوم کو چکانی پڑتی ہے !

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *