دیہاتی کلچرمیں تبدیلی

ڈاکٹر رسول بخش رئیسrasool

کلچر ان طاقتور ترین فعال ذرائع میں سے ایک ہے جس کے ذریعے ہم اپنی اقدار کا اظہار اورسماجی رویوں کی ترویج کرنے کے ساتھ عالمی تصورات کو اپنے سماج سے ہم آہنگ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ کئی حوالوں سے ہمارا کلچر ہماری پہچان بنتے ہوئے ہماری انفرادی اور بطور ایک سماجی گروپ شناخت کی راہیں متعین کرتا ہے۔ جب اسے عقائد کی حمایت میسر آتی ہے تو یہ کسی معاشرے کی ترقی میں بھی معاونت کرسکتا ہے اور اسے پسماندہ بھی رکھ سکتا ہے۔ پاکستان کے بعض خطوں میں اس ادغام کے مثبت و منفی اثرات دیکھے جاسکتے ہیں۔
کلچر کا تعلق ہماری سوچ، زندگی اور وقت کی تبدیل ہوتی ہوئی جہت اور مستقبل کے ممکنہ امکانات سے ہوتا ہے ، تاہم یہ سماجی حرکیات میں کوئی فیصلہ کن عامل قوت ثابت نہیں ہوتا اور نہ ہی اے پتھر پر لکیر کی طرح اٹل قرار دیا جاسکتا ہے۔ درحقیقت اس کا راستہ مقید دکھائی دینے کے باوجود بڑی حدتک آزاد ہوتا ہے۔ ثقافتی تبدیلی کاتعلق ہماری طرزِ زندگی، ہماری سوچ اور ہمارے اعمال سے ہوتا ہے۔ اس تبدیل کا تعلق داخلی اور خارجی دونوں عوامل سے ہوتا ہے۔ مذہب، تاریخ اور جغرافیائی خدوخال ایک فریم ورک مہیا کرتے ہوئے کسی بھی کلچر پر مستقل اثرات مرتب کرتے ہیں۔ چنانچہ یہ بات پورے وثوق سے کہی جاسکتی ہے کہ ثقافتی تبدیلیوں کو ماضی سے کسی طور بھی جدا نہیں کیا جاسکتا۔ جس طرح مغربی کلچر کی جڑیں عیسائیت، یونانی فلسفے اور رومن قوانین میں پیوست ہیں، اسی طرح پاکستانی کلچر بھی اسلام، دریائے سندھ کے خطوں کے نقوش اور انڈین بہذیب سے آزاد نہیں ہوسکتا۔ یہی وجہ ہے کہ ایک پاکستانی مسلمان عربوں کا ہم عقیدہ ہونے کے باوجود ثقافتی اعتبار سے اُن سے الگ ہے۔ دوسری طرف پاکستان میں رہنے والے افراد، چاہے ان کا تعلق کسی بھی مذہب سے کیوں نہ ہو، ثقافتی طور پر ایک جیسے ہیں۔
کلچر میں ہونے والی تبدیلی پر اثرانداز ہونے والے دو اہم ترین درعوامل معاشی ترقی اور ٹیکنالوجی ہیں۔ کسی بھی معاشرے میں ترقی لانے میں متحرک تصورات کا بھی بہت عمل دخل ہوتا ہے۔ ان تمام عوامل نے مغربی کلچر اور نوآبادیاتی نظام کے بعد بہت سے دیگر آزاد ہونے والے معاشروں کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا۔ ثقافتی ترقی کی شرح میں تنوع پا یاجاتا ہے جس کا دارومدار اس معاشرے میں گراس روٹ لیول پر ٹیکنالوجی، معیشت اور تصورات کی ترویج پر ہوتا ہے۔ ان معروضات کی وضاحت اس لیے ضروری تھی کیونکہ اس وقت ملک میں ’’مقبول ‘‘ سماجی مکالمہ یہ ہے کہ ’’کچھ نہیں بدلا ہے‘ یا’’سب کچھ بدل جائے گا‘‘۔ یہ دونوں عوامی اظہار تاریخ اور توجیح سے لگا نہیں کھاتے۔ ہمارے ہاں ترقی یقینی طور پر آرہی ہے لیکن اُسے من پسند سیاسی پیمانوں میں تولنا درست نہیں۔
ہمیں یہ بات ذہن نشین کرلینی چاہیے کہ تنوع کا شکار پاکستانی معاشرے میں ثقافتی تبدیلی کا حجم اور رفتار ہر جگہ ہموار اور یکساں نہیں ہوسکتی۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ملک کے تمام حصوں میں معاشی ترقی اور سماجی حرکیات یکساں نہیں ہیں۔ سماجی اور معاشی علوم کے زیادہ تر ماہرین تبدیلی کے لیے یا تو ملک کی مجموعی صورتِ حال کا جائزہ لیتے ہیں یا پھر ان کی توجہ صرف شہری علاقوں تک ہی مرکوز ہوتی ہے۔ دیہاتی علاقوں کو سکوت اور جمود کے علاوہ پسماندگی کا مظہر سمجھا جاتا ہے۔ چنانچہ ان نام نہاد ماہرین کے نزدیک ان علاقوں کسی قسم کی تبدیلی کے آثار تلاش کرنا وقت کا زیاں ہے کیونکہ یہ علاقے روایات، جاگیرداری نظام اورقبائلی رہن سہن کے بندھن میں جکڑے ہوتے ہیں۔ یقیناًیہ تاثر مکمل طور پر غلط نہیں ہے لیکن ان کے بارے میں قطعی رائے قائم کرلینا بھی درست نہیں۔ وہاں سماجی حرکیات کا بہاؤ دیکھا جاسکتا ہے۔ اس کی وجہ دولت کی فراوانی، میڈیا ، ہجرت اور ٹیکنالوجی کااستعمال ہے۔
میں یہ بات پورے وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ دیہاتی علاقوں، خاص طور پر وسطی اور شمالی پنجاب ، میں تبدیلی کا جاری عمل واضح طور پر دیکھا جاسکتا ہے۔ اس کے علاوہ بلوچستان اور خیبر پختونخواہ کے وہ اضلاح بھی تبدیلی کے عمل سے گزر رہے ہیں جہاں کے باسی مشرقِ وسطیٰ کی ریاستوں میں کام کاج کرنے گئے اور واپس آکر انہی علاقوں میں آباد ہوگئے۔ ان کی معاشی خوشحالی کی وجہ سے دیہاتی زندگی کے خدوخال میں تبدیلی آرہی ہے۔ افراد کی شہری علاقوں کی طرف ہجرت، سمندر پار کام کرنے والے پاکستانیوں کی بھیجی جانے والی رقومات اور زرعی پیداوار کے لیے استعمال کی جانے والی جدید ٹیکنالوجی اس تبدیلی کا نقیب ثابت ہوئی ۔ ان کی وجہ سے خاندانوں کے اثاثوں اور خوشحالی میں اضافہ ہوا۔ اس دولت نے ان کے رہن سہن اور سوچ کو بدل دیا۔ چودہ بلین ڈالر سالانہ کے قریب بیرونی دنیا سے بھیجی جانے والی رقوم کی وجہ سے کراچی دنیا کے ان شہروں میں شامل ہے جہاں دیہاتی علاقوں سے آکر آباد ہونے والوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔
یہ معروضات ظاہر کرتے ہیں کہ دیہاتی علاقے بتدریج تبدیلی کے عمل سے گزررہے ہیں۔ وہ لوگ جو اسی اور نوے کی دہائی میں مشرقِ و سطیٰ میں گئے تھے، کی اپن خاندانوں سمیت وطن واپسی کی وجہ سے تعلیمی اداروں اور شفاخانوں کا رجحان بھی تبدیل ہورہا ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ بیرونی ممالک سے واپس آنے والے افراد صرف دولت ہی نہیں ، نظریات بھی لاتے ہیں۔ اس طرح وہ یہاتی علاقوں میں تبدیلی کی علامت بن جاتے ہیں اور پھر دیگر افراد ان کی نقل کرنے لگتے ہیں۔ الیکٹرانک میڈیا اور مواصلات کی ترقی نے بھی اس تبدیلی کو مہمیز دی ۔ گاؤں میں ہل چلانے والے کسی شخص سے ملیں تو ہو سکتا ہے کہ وہ آپ سے باکو حرم کے خطرے یا سکاٹ لینڈ کی برطانیہ سے علیحدگی کے مضمرات پر بات کرنے لگ جائے۔ سیاسی طبقے اس تبدیلی کو اپنے حق میں کرنے کے لیے جدوجہد کرتے ہیں۔ جو سیاسی جماعتیں اس تبدیلی کی ہمنوا اور ہم آواز بن کر عوام کے دل میں گھر کرلیتی ہیں، وہ کامیاب ہوجاتی ہیں اور جو اپنے ماضی کے جھرکوں سے ہی عوام کو اپنی جھلک دکھاکر ووٹ چاہتی ہیں، ناکام ہوجاتی ہیں۔ درحقیقت اس تبدیلی نے پاکستان کے سیاسی معروضات کو بدلنا شروع کردیا ہے۔ امیدہے کہ روایتی سیاسی جماعتیں بھی بہت جلد شخصیت پرستی اور’’قربانیوں‘‘ کی بجائے تبدیلی کی لہر کا ساتھ دینے پر مجبور ہوجائیں گی۔ تاہم ایک بات، ضروری نہیں کہ جواں سال نسل ہی تبدیلی کی امین ہو اور معمر سیاست دان دقیانوسی سمجھے جائیں۔ اس تبدیلی کا تعلق عمر سے نہیں ہے۔ اگر موجودہ اہم سیاسی جماعتوں میں شامل ہر عمر کے سیاست دانوں کے بیانات پر غور کریں تو یہ بات سمجھ میں آجائے گی کہ کلچر کی تبدیلی کس طرح سیاسی حرکیات کو اپنی لپیٹ میں لے رہی ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *