خاتون رپورٹر کو تھپڑ۔۔۔صحافت گئی تیل لینے!

ali raza shaaf

صحافت کے اصول اور دور رواں کی ریٹنگ پالیسیاں دونوں میں زمین آسمان کا فرق پایا جاتا ہے اگر صحافتی اور اخلاقی اصولوں پر چلا جائے تو میڈیا مالکان کی ریٹنگ متاثر ہو جاتی ہے اور اگر ریٹنگ کی پالیسیوں کو مد نظر رکھا جائے تو صحافت کہیں جاکر دفن ہو جاتی ہے ۔
کراچی میں نادرا آفس میں ایک واقع پیش آیا جس میں ایف سی کے ایک اہلکار نے خاتون رپوٹر کو تھپڑ رسید کر دیا، پورا میڈیا سیخ پا دکھائی دیا ، صحافت کے چند حلقے ، حقوق نسواں کی موم بتی ساز تنظیمیں یا چند ایسے لوگ جو وردی والوں سے ذاتی بغض رکھتے ہیں تنقید پر تنقید کر رہے ہیں لیکن اگر اس معاملے کو دقیق نظری سے دیکھا جائے تو فیصلہ بخوبی کیا جاسکتا ہے کہ صحافت کے اصولوں کی پاسداری ہو رہی تھی یا پھر معاملے کو ذاتی انداز میں جذبات کی بنا پر دیکھا جا رہا تھا خاتون رپورٹر کے مطابق نادرا دفتر میں خواتین کیساتھ بد تمیزی کی جاتی ہے اور انہیں مسلسل فون کالز موصول ہو تی رہی ہیں جس پر بظاہر انہوں نے خود ہی ایک سرکاری افسر کی ڈیوٹی سر انجام دیتے ہوئے اہلکار کو گھر میں ماں بہن کا طعنہ اور ''وردی''سے پکڑ کر کھینچا تانی کی ، یہاں پر سوال یہ پیدا ہو تا ہے کہ کیا کسی بھی صحافتی اصولوں میں یہ درج ہے کہ آپ کسی معاملے کو دیکھ کر وہاں ایک پارٹی بن کرفیصلہ کریں اس ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ موصوفہ معاملے کو دیکھ کر جذباتی انداز میں ایک پارٹی کا کردار ادا کرنے لگیں ۔۔۔کیا صحافت کے اصولوں میں یہ بھی درج ہے کہ آپ سرکاری وردی میں ملبوس کسی اہلکار کو اس کی وردی سے پکڑ کر ''اوئے''سے مخاطب کریں۔
اس امر سے انکار نہیں کیا جا رہا ہے کہ وہاں لوگوں کیساتھ ناروا سلوک نہیں ہو رہا تھا لیکن اگر ناروا سلوک ہو رہا تھا تو رپورٹر کو ایک صحافی کا کردار ادا کرتے ہوئے اسے نشر کرنا چاہئے تھا لوگوں تک اور اعلیٰ حکام تک پہنچانا چاہئیے تھا اس دوران وہ اس اہلکار کا مو قف بھی جان لیتی وہ جتنے بھی تلخ لہجے میں گفتگو کر رہا تھا اسے کیمرے کے سامنے پیش کرتیں اور متوازن طریقے سے اپنے فرائض انجام دیتی باقی فیصلہ حکام بالا کی جانب سے کیا جا تا ۔صورتحال میں تلخی تب آئی جب اہلکار کی وردی کو چھوا گیا یہاں پر واضح کرتا جاؤں ایف سی اہلکار یا کوئی بھی وردی والا وردی پہنتے ہوئے وردی کے تحفظ و حرمت کا حلف بھی اٹھاتا ہے وہ کیسے اس پر اوچھے انداز میں حملہ برداشت کر سکتا ہے تاہم خاتون پر ہاتھ اٹھانا بھی کسی اخلاقی اصول کے زمرے میں نہیں آتا اہلکار نے بھی حدودوقیود کی خلاف ورزی کی جس کی مذمت کی جانی چاہئیے لیکن اس سے پہلے معاملہ یہاں تک کیسے پہنچا اسے بھی ضرور مد نظر رکھنا چاہیے۔
اس سے پہلے بھی صحافت کے کچھ ایسے آپریشنز صحافیوں کو نقصان پہنچا چکے ہیں وہ اقرار الحسن کی جانب سے سٹنگ آپریشن کی صورت میں ہوں یا موصوفہ کی جانب سے کی گئی کاروائی کی صورت میں دونوں نے صحافیوں اور سرکاری ملازمین کے درمیان باہمی تعاون کے رشتے کو ضرور متاثر کیا ہے ۔اور ایسے آپریشنز یا واقعات کی صورت میں ہمیشہ میڈیا چینلز کی جانب سے بھی پارٹی کا کردار ہی سامنے آیا ہے ان کی جانب سے بھی تمام صحافتوں اصولوں کو بھلا کر اپنے رپوٹر یا اینکر کی طرف داری کی جاتی رہی ہے اور ہمدردیوں کیساتھ ساتھ ریٹنگ بھی سمیٹی جا تی رہی ہے کیوں کہ صحافت کے اصول اور دور رواں کی ریٹنگ پالیسیاں دونوں میں زمین آسمان کا فرق پایا جاتا ہے اگر صحافتی اور اخلاقی اصولوں پر چلا جائے تو میڈیا مالکان کی ریٹنگ متاثر ہو جاتی ہے اور اگر ریٹنگ کی پالیسیوں کو مد نظر رکھا جائے تو صحافت کہیں جاکر دفن ہو جاتی ہے ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *