بلاول ویل پلیڈ ؟

roqaiya gazal

اکثریتی عوام کی رائے ہے کہ بھٹو وہ واحد انسان تھے جو عوام کے حقوق کی بات کرتے تھے درحقیقت یہ بات درست بھی ہے کیونکہ روٹی کپڑا اور مکان کا نعرہ پہلی مرتبہ بھٹو نے ہی دیا تھا اور اسی نعرے کی بدولت غریبوں کو امیروں کے خلاف ابھارتے ہوئے ایک کامیاب لیڈر بن کر ابھرے کیونکہ مایوس لوگوں نے انھیں تسلیم کیا ان کے بعد بی بی بے نظیر بھٹو نے ان کی مقبولیت کے گراف کو نیچے نہیں آنے دیا پیپلز پارٹی کو مزید استحکام حاصل ہوا مگر محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت کے فوراً بعد ہی یہ گراف نیچے آنے لگا چونکہ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ محترمہ کی زندگی میں جناب آصف علی زرداری پارٹی پالٹکس سے مکمل طور پر لا تعلق رہے یہاں تک کہ پارٹی میٹنگز میں بھی نظر نہیں آتے تھے اس لیے یہ کہنا کہ انھیں عملی سیاسی تجربہ حاصل تھا مناسب نہ ہوگا جبکہ بعض صحافیوں اور مبصرین کے مطابق وہ دور اندیش اور معاملہ فہم سیاستدان ہیں تاہم پارٹی کے فیصلے اور عوامی ہمدردی کی بدولت جناب آصف علی زرداری صدر کے عہدے تک پہنچے مگر وہ پارٹی کو نئی جہتیں اورروشن مستقبل قطعاً نہیں دے سکے بلکہ پیپلز پارٹی کا گراف مسلسل گرتا رہا اس میں زیادہ قصور غیرمعیاری گورننس کا بھی تھا کہ عوام کو دعووں اور وعدوں کے سوا کچھ بھی ڈیلیور نہیں ہوا تھا بلکہ جناب آصف علی زرداری درپردہ جوڑ توڑکی سیاست کرتے رہے اورہر قسم کی تنقید اور اصلاح پر بس مسکراتے رہے نتیجتاً اگلے انتخابات میں پی پی پی سندھ تک محدود ہو کر رہ گئی اور بعد ازاں پی ٹی آئی کی مقبولیت نے پی پی پی کو تیسرے نمبر پر لا کھڑا کیا جو کہ تاحال اسی پوزیشن پر موجود ہے
باوجودیکہ پی پی پی نے ہمیشہ ہی اپنے لیڈران کو کھویا ہے اور شہادتوں کی ایک تاریخ رقم ہے مگر یہ الگ بات کہ ان قربانیوں میں عوامی خدمت کے پس پردہ’’ کرسی‘‘ کا نشہ پیش پیش تھا لیکن اس کی داد دینا پڑے گی کہ ایک بار پھرپی پی پی نے اپنے ایک جوان سال بیٹے کو میدان میں اتار ا ہے عین اس وقت کہ پارٹی لیڈران بد ظن ہیں اور پارٹی بھی انتشار کا شکار ہے مگر بلاول بھٹو زرداری کے عزائم پختہ نظر آتے ہیں اوراسی وجہ سے وہ اپنی پر جوش تقریروں اور جو شیلے نعروں سے عوام کی ایک بڑی تعداد کو متوجہ کر رہے ہیں ان کی للکار میں پہلے جیسا جھول نہیں رہا جس کو دیکھتے ہوئے یہ رائے قائم کی گئی تھی کہ وہ رٹی رٹائی تقاریر کرتے ہیں مگر اب ان کے سیاسی تدبر کی دھاک بیٹھنے کی ابتدا پارلیمان کے خصوصی مشترکہ اجلاس میں ہو چکی ہے اس اجلاس میں جہاں تجزیہ نگار یہ کہنے پر مجبور ہوئے کہ انھوں نے مدلل انداز میں اپنا موقف بیان کیاکہ "B237lawal Well Played" وہاں بعض مزاحیہ صحافی حضرات نے ان کی تسبیح کو بھی موضوع بحث بنایابلکہ اسے ہیڈ لائین بھی بنایا گیاکہ’’ کشمیر پر انڈیا کے ساتھ حالیہ کشیدگی کے بعد بلائے جانے والے پارلیمان کے خصوصی مشترکہ اجلاس میں پیپلز پارٹی چئیرمین بلاول بھٹو گیلری میں بیٹھے مسلسل تسبیح پڑھتے رہے‘‘ بظاہر یہ کوئی ایسی خاص یا قابل تضحیک بات نہیں تھی مگرہم اسی شش و پنج میں تھے کہ اس عمل کو کس رخ سے دیکھیں کہ بی بی شہید کی تسبیح بھی زیر بحث آگئی تھی مگر اس سے پہلے کہ اس سوال کا جواب ملتا کہ بلاول بھٹو تسبیح پر کیا پڑھتے رہے تو ہمارے ذہن میں محترمہ بے نظیر بھٹو کی تسبیح بارے کی جانے والی چہ می گوئیاں گھوم گئیں ۔بی بی شہید کی تسبیح بھی بہت مشہور ہوا کرتی تھی کہ اس کوطنز و مزاح کے پیرائے میں لکھا گیا کہتے ہیں کسی نے پوچھا کہ بی بی ہر وقت تسبیح پر کیا پڑھتی ہیں بتایا گیا کہ آیت الکرسی پڑھتی ہیں ۔کہا گیا کہ دانے تو بہت تیزی سے گرتے ہیں جبکہ آیت الکرسی تو بہت لمبی ہے بتایا گیا کہ انھوں نے آیت الکرسی کا خلاصہ کر رکھا ہے چونکہ آیت الکرسی لمبی ہے تو وہ کرسی ،کرسی ،کرسی پڑھتی ہیں یہ الگ بات کہ کرسی پر کوئی اور بیٹھ گیا اور ان کی تصویر کرسی کے پیچھے لگ گئی ہے اور صرف تصویر ہی نہیں لگی بلکہ ان کی پارٹی بھی ٹھکانے لگ گئی ہے اور فی الوقت تو کئی سالوں تک اس کے ابھرنے کے امکانات بھی نظر نہیں آرہے ۔ شاید یہ تسبیح ان کی والدہ کی تسبیح ہے جو بلاول بھٹو زرداری نے پکڑ لی ہے ویسے ہم بھی عجیب لوگ ہیں ہمیں دوسروں کی ظاہری عبادات اور روزمّرہ کی برائیاں بہت نظر آتی ہیں جبکہ اپنی قبر کو سبھی بھولے ہوئے ہیں یہی وجہ ہے ملکی بحران بڑھتے جا رہے ہیں اور تمام سیاسی اکابرین کھیل کھلیانوں میں مشغول ہیں ہرچندہمارے حکمران بھی برسوں سے اس فارمولے پر عمل پیرا ہیں کہ آپس میں لڑتے رہو اور حکومت(من مانیاں) کرتے رہو عوام بیچارے ان سیاسی محاز آرائیوں میں الجھے رہیں مگر اس سے بھی انکار نہیں کہ مقدر اور قضا غالب آجائے تو بڑے بڑے دور اندیش اور چالاک نظر بھی پکڑ میں آ جاتے ہیں
ایک بار حضرت سلیمان ؑ نے پرندوں کو حکم دیا کہ وہ دربار میں حاضر ہوں اور سب اپنا اپنا کمال بیان کریں چنانچہ سب پرندے حاضر ہوگئے اور اپنا اپنا کمال بیان کرنا شروع کیا ہد ہد کی باری آئی تو وہ کہنے لگا ’’حضور! مجھ میںیہ کمال ہے کہ میں آسمان کی بلندیوں پر بہت اونچا اڑتا ہوں اور اتنی دور سے بھی یہ بتاسکتا ہوں کہ زمین کے کس حصے پر پانی ہے اور کس حصے میں نہیں ہے ‘‘ہد ہد کا بیان سن کر ’’کوا ‘‘ بولا:اے اللہ کے پیغمبر!ہد ہد جھوٹ بولتا ہے ۔اگر اس کی نظر اتنی ہی تیز ہے تو یہ جال میں پڑے ہوئے دانے کو دیکھ کر لپکتا ہے تو جال میں کیوں پھنس جاتا ہے تواس وقت اسے جال کیوں نظر نہیں آتا اگر یہ سچا ہوتا تو جال میں نہ پھنستا۔حضرت سلیمانؑ نے ہد ہد سے پوچھا’’ کوے کے اس اعتراض کا تمہارے پاس کیا جواب ہے ‘‘ہد ہد نے عرض کیا :یانبی اللہ ! نظر تو میری واقعی ہی اتنی تیز ہے جتنی میں نے بتائی ہے مگر جال میں پھنستے وقت میری نظر پر ’’قضا اور تقدیر کا پردہ پڑھ جاتا ہے ‘‘ !تو یہ طے ہے کہ جب اس کی رحمت جوش میں آتی ہے تو دکھائی کچھ نہیں دیتا
کچھ پردے ایسے ہیں کہ جب سے پاکستان وجود میں آیا ہے عوام کی عقل و فہم پر ڈالے جا رہے ہیں جبکہ ’’ہیں کواکب کچھ اور نظر آتے ہیں کچھ ‘‘شنید تھا کہ آصف علی زرداری منتظر تھے کہ میاں صاحب کوئی غلطی کریں اور وہ پتہ پھینکیں مگر میاں صاحب اس مرتبہ عملی طور پرڈٹ چکے ہیں یہاں تک کہ بلاول اور حسن نواز دوستی کی ایک کڑی یا غلط فہمی کہہ لیں کیونکہ سیاست کے سینے میں دل نہیں ہوتا اور واری دینے کا امکان اب دور دور تک نظر نہیں آتا شاید انہی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے بلا ول بھٹو زرداری کو میدان میں اتار دیا گیا ہے اور وہ بھی پارٹی کو زندہ کرنے کامصمم ارادہ کر چکے ہیں تاہم پی پی پی کے قائدین اور اکثر وزرا ء کے بیانات تضاد بیانی کا شکار ہیں جہاں وہ حالیہ جمہوریت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہیں وہاں وہ اسی جمہوریت کو ملک کے لیے سود مند بھی قرار دیتے ہیں یہی وجہ ہے کہ سانحہ کارساز کی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری خوب برسے اور پی ٹی آئی اور ن لیگ کو آڑے ہاتھوں لیا انھوں نے کہا کہ لوگ اتنے مایوس ہو چکے ہیں کہ شیر کے شکار کا ٹھیکہ کھلاڑی کو سونپ دیا ہے ،نواز شریف ملک کو تباہی کے دہانے پر لے جا رہے ہیں جبکہ تیر کمان سے نکل چکا ہے ہم عوام کو فرسودہ نظام اور رائیونڈ تخت سے نجات دلوائیں گے ،بچگانہ اپوزیشن نے نواز شریف کو مضبوط کیا ہے لیکن اب بی بی کا بیٹا میدان میں آگیا ہے پیپلز پارٹی بھاری اکثریت سے کامیاب ہوگی اور ہر طرف تیر کا راج ہوگا۔۔ پاکستان کھپے !
مجھے کہنے دیجئے کہ آپ سب نے پاکستان کو واقعی کھپا دیا ہے اور اس میں بسنے والے افراد کو نیم پاگل بنا دیا ہے حسرت و یاس کی تصویر بنے ر وز روز کے تماشوں سے گھبرا کر آپ کی شکلیں دیکھ رہے ہیں کہ انھوں نے ہمیشہ آپ کو مسیحا سمجھا مگرآپ سب کی مسیحائی اقرباپروری اور مفادات تک ہی محدود رہی ایسے میں زیادتی کی انتہا یہ ہے کہ بعض مفاد پرست صحافی جمہوریت کو ملکی سلامتی کے لیے ناگزیر قرار دیتے ہیں بلکہ با بانگ دہل کہتے ہیں کہ سب اچھا ہے ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہے رہی سہی کسر اشتہارات پوری کر رہے ہیں کہ جن کو دیکھ کر دل کہہ اٹھتا ہے کہ چلو اسی ملک چلتے ہیں لیکن یہ ملک کہاں ہے ؟ میرے عظیم قلم کارو!جمہوریت کے موجودہ مفہوم سے اگر آپ کو مسئلہ ہے تو خلافت راشدہ کو ہی پڑھ لیں تاکہ پتہ چل سکے کہ حکمرانوں اور پاسبانوں کے کیا فرائض ہوتے ہیں اور ایک حکمران کو کیسے رہنا چاہیئے کہتے ہیں کہ حضرت ابوبکر صدیقؓ نے امت کے ساتھ جو پہلا خطبہ خلافت فرمایا تو واشگاف الفاظ میں کہا کہ اے لوگو! مجھے تمہارا حاکم مقرر کیا گیا ہے ،مگر میں تم سے بہتر نہیں ہوں ،میرے نزدیک تمہارا کمزور آدمی بھی طاقتور ہے جب تک کہ میں اس کو اس کا حق نہ دلوا دوں اور طاقتور آدمی بھی کمزور ہے جب تک کہ میں اس سے کمزور کا حق وصول نہ کروالوں ۔اے لوگو! میری حثیت تمہارے ایک معمولی فرد سے بڑھ کر نہیں ہے،اگرتم مجھے صراط مستقیم پر دیکھو تو میری پیروی اور مدد کرو اور اگرنہ دیکھو تو میری اصلاح کرو ۔یاد رکھو ! جب کوئی قوم جہاد فی سبیل اللہ کو ترک کر دیتی ہے تو وہ ذلیل و خوار ہو جاتی ہے اور جب آپؓ خلیفہ بنے تو آپکی تنخواہ کا سوال اٹھا تو آپ نے فرمایا! مدینہ میں ایک مزدور کو جو یومیہ اجرت دی جاتی ہے اتنی ہی میرے لیے مقرر کرو ۔ایک صحابی بولے اس میں آپ کا گزارہ کیسے ہوگا ؟ آپؓ نے فرمایا!میرا گزارا اسی طرح ہوگا جیسے ایک مزدور کا گزارا ہوتا ہے ۔ہاں ۔۔اگر میرا گزارا نہ ہوا تو مزدور کو اجرت بڑھا دونگا۔ یہی طرز حیات ہمارے لیے درخشاں مثالیں تھیں جسے مغرب نے تو اپنا لیا مگر ہم تہذیب نو کے دلدادہ ہو کر سٹیٹس کو میں ایسے الجھے کہ آخرت کو ہی بھول گئے جبکہ طے ہے کہ فرات کے کنارے ایک کتا بھی بھوکا مر گیا تو روز حشر حاکم جواب دہ ہوگا اور یہاں جب بلاول بھٹو ہسپتال کو دورہ کرتے ہیں تو راستے بند ہونے کیوجہ سے بچی باپ کے ہاتھوں میں ہسپتال کے دروازے پر دم توڑ دیتی ہے اور کہیں راستوں کی بندش کیوجہ سے میت راستوں میں بھٹک جاتی ہے یعنی نہ زندہ رہ کر چین اور نہ مر کر سکون ملے گا ۔
بہرحال جب سے پاکستان وجود میں آیا ہے دو پارٹیاں ہی باریاں لیتی آ رہی ہیں اور ان کے ادوار حکومت کا جو حال رہا وہ بھی کسی سے پوشیدہ نہیں ہے اگر صرف سندھ کی ہی بات کی جائے جو کہ پی پی پی کا گڑھ مانا جاتا ہے تو سندھ کو بری طرح سے لوٹا گیا ہے اور کراچی میں بہتا خون اور تھر میں بھوک و پیاس سے سسکتے معصوم بچے کوئی بھلا نہیں سکتا اور ایسا نہیں ہے کہ حالات بدل چکے ہیں بلکہ سب کچھ ویسے ہی ہے جیسا کہ پہلے تھا تواس کا ذمہ دار کون ہے ؟آج سوال یہ ہے کہ کیا بلاول بھٹو زرداری پی پی پی کی گرتی دیوار کو سنبھالا دے سکیں گے یاوہ اپنے والد کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ذاتی اہداف مکمل کریں گے یا اپنے نانا کی سیاست کو آگے بڑھائیں گے کیونکہ بلاول بھٹو کے مطابق وہ اپنی والدہ کے نامکمل سفر کو مکمل کرنے نکلے ہیں اب دیکھنا یہ ہے کہ وہ اپنا راستہ خود بناتے ہیں یا وراثتی سیاست کو آگے بڑھاتے ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *