اچھی نیند بہتر سیکس لائف کے لیے ضروری کیوں ہے؟

نیند پر کی جانے والی اکثر تحقیق میں اسے تنہا رویہ خیال کیا جاتا ہے اس بات سے قطع نظر کہ شادی شدہ افراد تنہا نہیں سوتے۔ ڈاکٹر وینڈی ٹروکسل نے اس معاملے پر تحقیق کی ہے کہ ایک جوڑے کے درمیان جنسی اور رومانوی تعلق نیند کے کم ہونے سے کیسے متاثر ہوتا ہے۔

انھوں نے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ اچھی نیند ہی اچھے سیکس کے لیے ضروری ہے۔ ڈاکٹر وینڈی گذشتہ 15 برسوں سے مختلف جوڑوں کی نیند کی عادات پر تحقیق کر رہی ہیں۔

ان کے مطابق سونا ایک ایسی چیز نہیں جسے تنہا عمل سمجھا جائے۔ یہ کسی بھی جوڑے کا وہ رویہ ہے جسے وہ ایک دوسرے کی موجودگی میں کرتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ’میں نے پچھلے 15 سال تک نیند پر تحقیق کی ہے اور یہ صحت سے متعلق ایک موضوع ہے۔ اچھی نیند ایک جوڑے کے لیے بھی بحث کا موضوع ہوتا ہے۔ تاہم اکثر تحقیق میں اسے ذاتی حیثیت کا موضوع تصور کیا جاتا ہے۔‘

’اگر آپ اچھا نہیں سو سکتے تو اس کا مطلب ہے کہ آپ اچھے پارٹنر نہیں بن سکتے۔ اگر آپ کا موڈ بدلتا رہتا ہے تو ممکنہ طور پر آپ ڈپریشن میں ہو سکتے ہیں، اس صورت میں آپ جھگڑے کر سکتے ہیں اور دوسروں سے آپ کی بات چیت متاثر ہوتی ہے۔‘

آپ کم حساس ہو جاتے ہیں اور اس طرح آپ اپنے پارٹنر کے جذبات نہیں سمجھ پاتے۔ وہ مزید کہتی ہیں کہ نیند نا صرف آپ کو ذاتی طور پر متاثر کرتی ہے بلکہ یہ آپ کی پوری زندگی پر بھی اثرانداز ہوتی ہے۔

اچھی نیند سے مراد بہتر سیکس کیوں ہے؟ اس کی کئی وجوہات ہیں کیونکہ موجودہ سماجی زندگی میں نیند کے موضوع کو نظر انداز کیا جانے لگا ہے۔

ہر کوئی رات کو اچھی نیند چاہتا ہے، ہر کوئی اس بارے میں بات کرتا ہے اور بہت سے لوگ سوشل میڈیا پر اپنے ان دوستوں سے جلتے ہیں جنھیں رات کو اچھی نیند مل جاتی ہے۔

مگر ماہرین صحت کے مطابق نیند کا براہ راست تعلق جنسی تعلقات، ہارمنوز اور مجموعی زندگی ہوتا ہے۔

جنسی صحت پر کی گئی تحقیق کے مطابق اگر ایک مرد کئی روز تک روزانہ چار گھنٹے سے کم سوتا ہے تو اس کی ٹیسٹوسٹرون کی سطح 10 فیصد تک کم ہو سکتی ہے۔

کم نیند خواتین کے ہارمونز کو بھی متاثر کرتی ہے۔ تحقیق کے مطابق صحت مند نیند سے خواتین کی سیکس کی صلاحیت 14 فیصد تک بڑھ سکتی ہے، کیونکہ ایک جوڑے کی جنسی زندگی نیند سے متاثر ہوتی ہے۔

تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ اگر کوئی شخص ایک پارٹنر کے ساتھ سوتا ہے تو اس کی نیند بہتر ہوجاتی ہے۔

نیند کا اچھا دورانیہ ذہنی، جسمانی اور جنسی زندگی کے معیار کو بہتر بنا سکتا ہے۔ تاہم اگر ایک جوڑے میں دونوں افراد ہی اچھی نیند حاصل نہیں کر پا رہے تو مسائل جنم لے سکتے ہیں۔

ایسا ممکن ہے کہ ایک پارٹنر کی کسی عادت سے دوسرے کی نیند خراب ہوتی ہو۔ مثلاً نیند کی بُری عادات، پورے بیڈ پر پھیل کر سونا اور خراٹے لینا نیند میں خلل ڈال سکتا ہے۔

یہ بھی ممکن ہے کہ کسی عارضے کی وجہ سے نیند میں خلل پیدا ہو رہا ہو۔ جیسے معمر جوڑوں میں بیماریاں نیند پر اثرانداز ہوتی ہیں اور اس سے نیند کا دورانیہ متاثر ہوتا ہے۔ بڑی عمر میں انسومنیا اور مینوپاز جیسے مسائل پیدا ہوسکتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق نیند کا تعلق کمرے کے درجۂ حرارت اور میٹرس کی قسم سے بھی ہوتا ہے۔

نیند

رات کو بہتر نیند کے لیے چھ مشورے

شام کو روشنی کی حد مقرر کیجیے

موبائل فون اور لیپ ٹاپ کا استعمال ان دنوں نشے کی طرح عام ہو رہا ہے۔ متعدد افراد تو لیپ ٹاپ پر گھنٹوں ڈرامے اور فلمیں دیکھتے رہتے ہیں لیکن کم ہی جانتے ہیں کہ ایسا کرنے سے ہماری نیند بری طرح متاثر ہوتی ہے۔

سرے یونیورسٹی کے پروفیسر میلکم فون شانتز کا مشورہ ہے کہ سونے سے ڈیڑھ گھنٹہ پہلے ان آلات (موبائل فون، لیپ ٹاپ وغیرہ) کا استعمال بند کر دینا چاہیے۔

وقت کے پابند رہیے

اختتامِ ہفتہ سے پہلے والی رات دیر تک جاگنے کا دل تو بہت کرتا ہے لیکن اچھی نیند برقرار رکھنے کے لیے وقت کی پابندی ضروری ہے۔

ہر روز ایک ہی وقت پر سونا مددگار ثابت ہوتا ہے۔ روز سونے کے وقت میں جتنی زیادہ تبدیلی ہو گی صحت کو اتنا ہی زیادہ خطرہ ہو گا۔

خواب گاہ آرام دہ ہو

بستر کے ارد گرد لیپ ٹاپ اور چارجر کے علاوہ دیگر سامان کا بکھرا رہنا کئی لوگوں کے لیے عام بات ہے لیکن اگر ہم اچھی نیند سونا چاہتے ہیں تو یہ سمجھنا بہت ضروری ہے کہ آپ کا سونے کا کمرا جتنا آرام دہ ہو گا، نیند اتنی ہی اچھی آئے گی۔

بہتر یہ ہوتا ہے کہ فون، لیپ ٹاپ اور دیگر الیکٹرانک آلات دوسرے کمرے میں رکھے جائیں۔ فون میں الارم لگانے کی بجائے ایک الارم والی گھڑی خرید لینی چاہیے۔

کمرے میں ٹھنڈک بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔ گرم کے مقابلے ٹھنڈے ماحول میں سونا جسم کے لیے زیادہ آسان ہوتا ہے۔

دن کی روشنی

ہمارا باڈی کلاک سورج کے طلوع ہونے اور ڈھلنے کے اوقات کے مطابق کام کرتا ہے۔ لیکن ہم میں سے کئی لوگ صبح دیر تک سونے کی وجہ سے دن کی روشنی سے پوری طرح فائدہ نہیں اٹھا پاتے ہیں۔

صبح گھر کے پردے کھول دینے سے آپ دن کی زیادہ روشنی حاصل کر سکتے ہیں۔

اگر ہو سکے تہ صبح کا وقت ورزش میں لگانا چاہیے۔ ایسا کرنے سے رات کو نیند اچھی آتی ہے۔ .

سونے سے پہلے کرنے والے کام

سونے سے پہلے کرنے والے کچھ کام اگر آپ ہر روز کیا کریں تو جسم کو پتا چل جاتا ہے کہ اب یہ سونے کا وقت ہے۔ کتابیں پڑھنا، گانے سننا، نہانا کچھ ایسے ہی کام ہیں۔

جیسے ہی آپ انھیں کرنا شروع کریں گے جسم خود ہی سونے کے لیے تیار ہونے لگے گا۔

ایسا ہر روز کرنے سے جسم کو اس کی عادت ہو جاتی ہے اور جسم سمجھ لیتا ہے کہ یہ سونے کا وقت ہے۔

کیفین سے دور رہیں

آپ نے محسوس کیا ہو گا کہ دیر رات کافی پینے سے نیند اڑ جاتی ہے۔ اس کی وجہ کافی میں موجود کیفین ہوتی ہے۔

لیکن کیفین صرف کافی میں ہی نہیں ہوتی بلکہ چائے اور کئی ٹھنڈے مشروبات میں بھی ہوتی ہے۔

شام کو پی جانے والی چائے یا کافی بھی آپ کی نیند کو متاثر کر سکتی ہے کیونکہ کیفین کا اثر ہمارے جسم پر پانچ سے نو گھنٹے تک رہتا ہے۔