جہانگیر ترین۔۔۔۔ پی ٹی آئی کا بینک

عون عباس

jahangir-tareen

جہانگیر ترین نے کچھ ماہ سے کافی مشکل وقت گزارا ہے۔ رائیونڈ ریلی سے کچھ دن قبل پاکستان  تحریک انصاف کے جنرل سیکرٹری  پارٹی کے اندرونی جھگڑے میں ملوث پائے گئے جو جلد منظر عام پر آ گیا۔ لوگوں نے جہانگیر ترین کو معطل کرنے کی اپیلیں کیں۔ فوری بعد  ایڈیشنل سیکرٹری نے استعفی دے دیا  جس کی وجہ جہانگیر ترین سے اختلافات تھے۔ 25 ستمبر کو جسٹس وجیہ الدین نے بھی استعفی دے دیا۔ جسٹس وجیہ کو پارٹی کے اندر بے قاعدگیوں کو تحقیق  کا ٹاسک 2015 میں دیا گیا تھا۔ ٹریبیونل نے فیصلہ دیا کہ الیکشن میں دولت کا بے دریغ استعمال کیا گیا ہے۔ سرعام الیکشن کو دھاندلی زدہ قرار دیکر وجیہ نے کچھ بڑے پارٹی عہدیداروں کو تحقیقات کے لیے بلایا۔ رپورٹس کے مطابق جن پی ٹی آئی عہدیداروں کو اپنے نام خفیہ رکھنے کی پڑی تھی انہوں نے ٹریبیونل کی رپورٹ ریلیز ہی نہیں ہونے دی۔ شاہ محمود قریشی بھی جہانگیر ترین کے خلاف سر عام شکایات کرتے نظر آئے ہیں۔

ایک موقع پر انہوں نے کہا کہ کارکنوں کے نظریات سے دولت کی طاقت کو شکست دی جا سکتی ہے۔  حامد خان نے کہا کہ ہم اپنی پارٹی کو پی ٹی آئی قیو میں بدلنے نہیں دیں گے ۔ اس بیان میں وہ جہانگیر ترین کو طعنہ مار رہے تھے جو مشرف دور میں پاکستان مسلم لیگ ق کے رکن تھے۔ بعد میں عمران خان نے شاہ محمود اور ترین کے بیچ صلح کراد ی اور شاہ محمود نے اپنا بیان واپس لے لیا۔ سب سے امیر ترین سیاستدان، ہزاروں ایکڑ زمین اور پرائیویٹ طیارے کے مالک جہانگیر ترین 1.18 ملین روپے کے مالک ہیں اور  آج تک متنازعہ شخصیت رہے ہیں۔ ملک میں ان کی بہت سے ملیں بھی ہیں۔

ان کو پہلی شوگر مل رحیم یار خان میں ان کے سسر سے ورثے میں ملی۔ مخدوم حسن محمود 70 کی دہائی کے نامور لیڈر تھے۔ ترین کے ناقدین کہتے ہیں کہ مشرف کے دور میں ان کی شوگر ملوں نے بہت زیادہ منافع کمایا  جب وہ پانچ سال کے لیے فیڈرل منسٹر آف انڈسٹریز  تھے۔ انہوں نے 2011 میں پی ٹی آئی میں شمولیت اختیار کر لی ۔ 2013 میں وہ لودھراں سے الیکشن لڑے جہاں انہوں نے بیش بہا دولت خرچ کی لیکن وہ الیکشن ہار گئے۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد وہاں دوبارہ الیکشن ہوئے تو جہانگیر 35 ہزار ووٹوں سے جیت گئے۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ دولت کی وجہ سے ان کے تمام فیصلے مان لیے جاتے ہیں۔

منی لانڈرنگ اور قرضے معاف کروانے کے طعنے بھی ان کو دیے جاتے ہیں۔ 2016 میں انہوں نے آف شور کمپنی کے مالک ہونے کا اعتراف کیا جو ان کے بچوں کے نام پر ہے۔ اس سے پی ٹی آئی کے مفاد کو سخت دھچکا پہنچا کیونکہ عمران خان اسی بنا پر نواز شریف سے استعفی لینے پر مصر ہیں۔ بہت سے اینٹی گورنمنٹ احتجاج اور ریلی کے لیے فنڈ جہانگیر ترین نے مہیا کیے ہیں  جہاں عمران خان تبدیلی کے نعرے لگاتے اور اینٹی مین سٹریم تقاریر کرتے ہیں وہاں جہانگیر ترین ان کے ساتھ کھڑے نظر آتے ہیں۔ پارٹی کے بڑے عہدیداروں میں جہانگیر ترین کی شمولیت  سیاستدانوں کے بیچ کے اختلاف کی بنیادی وجہ ہے۔

خاص طور پر ایسے سیاستدان جو سچائی کی بنا پر  کرپشن فری اور فیئر پاکستان چاہتے ہیں ان کے لیے  جہانگیر ترین سب سے بڑا کانٹا ہیں۔پارٹی کے بڑوں کے  گروپ میں جہانگیر اور دوسرے پی ٹی آئی لیڈرز موجود ہیں۔ یہاں چوہدری سرور اور علیم خان بھی شامل ہیں۔ ان سب کا خیال ہے کہ  2013 میں الیکشن نہ جیتنے کی وجہ با اثر شخصیات کی کمی ہے  اور الیکشن میں اتنا پیسہ نہیں لگایا گیا جتنا لگانا چاہیے تھا۔ جس طرح عمران خان ترین کو اپنے سرکل میں رکھ کر  دوسرے پارٹی ممبران کر ناراض کرتے ہیں  اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اگلے الیکشن میں جہانگیر ترین کا گروپ الیکشن میں لیڈنگ رول پر رہے گا۔ یہ جہانگیر ترین کا سب سے بڑا سیاسی امتحان ہو گا  لیکن یقین سے نہیں کہہ سکتے کہ وہ اس میں کامیاب ہو پائیں گے یا نہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *