قربانی سے پہلے قربانی

غریبِ شہرshqi

کہتے ہیں گیڈر کی موت آتی ہے تو وہ شہر کا رخ کرتا ہے۔مگر لیڈر کی موت آتی ہے تو وہ شیخ رشید سے ہاتھ ملاتا ہے۔شیخ کوئی بہت ہی پہنچی ہوئی چیز ہیں۔ اِسی لئے جو اُن کے پاس یا یہ کسی کے پاس پہنچے تو اُنہیں سیدھا اوپر پہنچاکر دم لیتے ہیں۔ یہ شیخ کا کرشمہ ہے کہ شیخ الاسلام کو بھی اپنے کسی ’’دم درود‘‘ سے رام کربیٹھے۔ یہ بھی شیخ کی کرامت ہی ہے کہ جس کے وہ خود چپڑاسی بننے کے اہل نہیں اُسے وہ اپناہی کیا سب کا چپڑاسی بنا دیتے ہیں۔ اُسے استعفے کے عشق میں ’’گونواز گو‘‘ کا ایسا منتر جنتر سکھاتے ہیں کہ بس جو اُسے جپتا ہے وہ اپنے آپ میں نہیں رہتا ۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وہ پھر کہیں کا نہیں رہتا۔
کبھی عرش پر کبھی فرش پر کبھی دربدر کبھی اُن کے در
غمِ عاشقی تیرا شکریہ میں کہاں کہاں سے گزر گیا
ہٹلر کو گوئبلز ملا، اور عمران کو شیخ رشید۔ایک کے حصے میں حکمرانی آئی اور دوسرے کے حصے میں خجل خواری۔گوئبلز جھوٹ بھی بولتا تھا تو سچ لگتا تھا۔اور شیخ رشید سچ بھی بولتا ہے تو جھوٹ لگتا ہے۔ ہندوؤں میں نچلی ذاتوں کو اتنی پھٹکاریں اور نچلی عدالتوں میں اُتنی تاریخیں نہیں دی جاتیں، جتنی شیخ رشید نے حکومت جانے کی تاریخیں دے دی ہیں۔یہ برابری کے قائل ہیں اس لئے ’’اونچی ذات‘‘ کے ہونے کے باوجود اُس کام سے بھی گریز نہیں کرتے جو ’’ذات پات‘‘ والے مذہب میں نچلی ذات کے لوگ کر گزرتے ہیں۔مثلاً یہی صاف صفائی۔ حکومت کی ’’صفائی ‘‘یا ’’صفایا‘‘ کرنے کے لئے اُنہوں نے ہر طرح کی ’’جھاڑو‘‘ پھیری۔ مگرجھاڑ جھنکار ہے کہ وہیں کی وہیں پڑی ہے۔قربانی سے پہلے قربانی کی تان اُنہوں نے ایسی اُٹھائی تھی کہ قربانی کے جانور بھی اطمینان سے ’’بھیں بھیں‘‘ کر رہے تھے کہ ابھی اُ ن کی گردن پر چُھری پھرنے میں ایک حکومت کی گردن حائل ہے۔مگر ایسا نہیں ہوسکا۔ لیکن مجال ہے جو شیخ کی پیشانی پر ندامت کا کوئی معمولی قطرہ بھی نمودار ہوا ہو۔ الحمد للہ شیخ کو اللہ نے اتنی عزت دی ہے کہ جتنی بھی چلی جائے اُنہیں فرق نہیں پڑتا۔ یوں بھی جن میں تکبر نہ ہو اللہ اُنہیں رسوا کن کاموں کے باجود بھی رسوا نہیں کرتا۔ شیخ کا معاملہ بھی کچھ ایسا ہی ہے۔ اُن کی باتوں کو سنتے اور کاموں کو دیکھتے ہیں تو وہ پیر یاد آتا ہے جو بستی کے تمام لوگوں کو جمع کرنے کے بعد یہ اعلان کرتا ہے کہ ابھی وہ درخت کو حکم دیں گے اور وہ چلتا ہوا اُن کے پاس آجائے گا۔ اُن کے بار بار حکم دینے کے باوجود حکومت کی طرح ڈھیٹ درخت اپنی جگہ سے ہِل کر نہ دیا تو پیر نے ایک شانِ بے نیازی سے ارشاد کیاکہ پیر میں غرورہوتا ہے اور نہ ضد۔ اگر درخت چل کر اُس کے پاس نہیں آنے کی ضد کر رہا ہے تو کیا ہوا؟ ہم اُن کے پاس چلے جاتے ہیں۔شیخ بھی پیر سے کچھ کم واقع نہیں ہوئے۔ کسی روز کہیں گے حکومت ڈھیٹ ہے جانے کا نام نہیں لے رہی۔ تو ہم کیوں ڈھیٹ بنیں؟ ویسے بھی اُن کے پُرانے ممدوح ’’ مٹی پاؤ سرکار‘‘ چوہدری شجاعت نے خوب وضاحت کی ہے کہ استعفیٰ بھی کوئی ’’مانگنے‘‘ کی چیز ہے؟ جی ہاں جو مانگنے کی چیز ہے اُس پر زور نہیں چلتا اور جو نہیں مانگنے کی چیز ہے اُس پر جی نہیں رکتا۔ پھر بھی چلو جی ،بات ختم، جھگڑا ختم۔۔ مٹی پاؤ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *