مجھے رفعت یاد آ رہی ہے!

ata ulhaq qasmi

’’یار مجھے یاد پڑتا ہے تم کسی زمانے میں خاصے خوددار شخص ہواکرتے تھے۔‘‘
’’ہاں تھوڑا تھوڑا مجھے بھی یاد ہے۔‘‘
’’لیکن اب تمہیں کیا ہو گیا ہے؟‘‘
’’ہونا کیا ہے؟ عقل آگئی ہے۔ تم نے محمود سرحدی کاوہ شعر نہیں سنا؟
جھکنے والوں نے رفعتیں پائیں
ہم خودی کو بلند کرتے رہے‘‘
’’تو گویا تم ان دنوں پھر رفعت کے چکر میں ہو!‘‘
’’یہ رفعت وہ نہیں، وہ بلندی کے معنوں میں ہے۔ وہ رفعت تو میرے زمانہ ٔ جاہلیت کی یادگار ہے۔ جب میں عشق کے چکروں میں پڑا ہوتا تھا۔ یار میں بھی کتنا بے وقوف تھا۔ ان کاموں میں وقت ضائع کرتا تھا جن میں دھیلے کا فائدہ نہیں تھا۔‘‘
’’اب اگر کہیں عشق کرو تو ایسی جگہ کرنا جہاں چار پیسے بھی بچ سکتے ہوں۔‘‘
’’یہ تم نے اپنی طرف سے طنز کیا ہوگا؟‘‘
’’میری کیا مجال ہے کہ میں تم پر طنز کروں، میں نے تمہارے خیالات سے فقط نتیجہ اخذ کیا ہے۔‘‘
’’تم نے صحیح نتیجہ اخذ کیا ہے۔ یہ شاعری، ادب، یہ مصوری، یہ فنون لطیفہ، سب واہیات چیزیں ہیں۔اب تم خود ہی بتائو جن دنوں میں ان لغویات میں الجھا ہوا تھا سوائے دن رات جاگنے کے مجھے ان سے کیا حاصل ہوتا تھا؟‘‘
’’لوگ عزت کرتے تھے۔‘‘
’’اب لوگ میری عزت نہیں کرتے تو اس سے مجھے کیا فرق پڑا؟‘‘
’’اس کا جواب تو میرے پاس نہیں۔‘‘
’’تمہارے پاس میری کسی بات کا جواب نہیں ہے۔ اب میں عالیشان کوٹھی میں رہتا ہوں، قیمتی کار میرے نیچے ہے۔ بنک بیلنس ہے۔ جدھر سے گزرتا ہوں لوگ سلام کرتے ہیں۔‘‘
’’میں نے عزت کی بات کی تھی!‘‘
’’پھر وہی عزت، عزت۔ یہ تم جیسے احمقوں کا مسئلہ ہے۔ چلو تم مجھے ایک بات بتائو۔‘‘
’’پوچھو۔‘‘
’’ ایک عزت دار شخص جب دفتر جانے کے لئے ویگن میں بکری بن کر سفر کرتا ہے، اس کی کیا عزت رہ جاتی ہے؟ جب وہ تھانے جاتا ہے اور اسے کرسی ملنے کی بجائے جھاڑیں پڑتی ہیں تو کیا وہ پھر بھی معزز رہتاہے؟ جب اس کا بچہ بیمار ہو تو کیا وہ عزت سے دوا خرید سکتا ہے؟ کیا دو ہزار روپے ماہوار میں دس روپے کی عزت ڈال کر گھر کا خرچ چلایا جاسکتا ہے؟ کیا عزت ہوتی ہے؟‘‘
’’بس کرو، میں تمہاری بات سمجھ گیا ہوں۔ تمہارا مطلب یہ ہے کہ ان تمام چیزوں کے حصول کے لئے انسان کو تمام اصول اور اخلاقی قدریں پس پشت ڈال کر وہ کچھ کرنا چاہئے جو اس وقت ہمارے معاشرے میں ہو رہا ہے؟‘‘
’’بالکل!‘‘
’’کیا اس کےنتیجے میں ہمارا معاشرہ خوش ہے؟‘‘
’’یہ خوشی کیاہوتی ہے؟‘‘
’’خوشی اس چیز کو کہتے ہیں جس سے تم محروم ہوچکے ہو۔‘‘
’’یہ سب لفظی ڈھکوسلےہیں اور غریب غربا کو بے وقوف بنانے کے لئے یہ فرسودہ اور بےمعنی فلسفے بھی میرے جیسے لوگوں نے گھڑے ہوئے ہیں کہ ایک اصلی خوشی ہوتی ہے، ایک نقلی خوشی ہوتی ہے۔ تمہاری اصلی خوشی کے حصول کے لئے میں رفعت کے والدین کی منتیں کرتا رہا کہ اپنی بیٹی کی شادی مجھ سے کردو مگران کاجواب تھا کہ تمہار ےپاس تو اپنا گھر تک نہیں ہے۔ اب رفعت میری زندگی میںنہیں ہے لیکن اس سے مجھے کیا فرق پڑا؟ میں بہت خوش ہوں۔‘‘
’’تم خوش نہیں ہو اور نہ وہ طبقہ خوش ہے جس سے تم نے اپنا ناتہ جوڑ لیاہے اور یہ ثابت کرنے کے لئے کسی لمبے چوڑےفلسفے کی ضرورت نہیں۔ جب پورامعاشرہ مال و دولت اور سہولتوں کے حصول کے لئے مار دھاڑ میں مشغول ہو جاتا ہے، اخلاقی اورروحانی قدروں کو پامال کرنے لگتا ہے، زندگی کی دوڑ میں آگے بڑھنے کے لئے ایک دوسرے کوپائوں تلے کچلنا شروع کردیتا ہے تو اس کا خمیازہ تو سب کو بھگتنا پڑتا ہے۔ یہ کیسے ہوسکتاہے کہ ایک معاشرے کے افراد تلواریں سونت کر ایک دوسرے کے مقابل آجائیں اور ان کے جسم ا ور روحیں زخمی نہ ہوں۔ تم نے ظفراقبال کا وہ شعر نہیں سنا؎
یہ شہر وہ ہے جس میں کوئی گھر بھی خوش نہیں
دادِ ستم نہ دے کہ ستم گر بھی خوش نہیں!
’’سنا ہواہے یہ شعر اور اس شعر پر خود ستم گروں کو داد دیتے بھی دیکھا ہے لیکن تم کہنا کیاچاہتے ہو؟‘‘
’’کچھ بھی نہیں، سوائے اس کے کہ ایک غیرمنصفانہ نظام میں سچی خوشی نہ غریب کو حاصل ہوتی ہے اور نہ امیر کو۔ ایک غریب آدمی ہزار سختیاں سہنے کےباوجودگناہ آلود زندگی سےکنارہ کشی اختیار کرکے اپنے ضمیر کا اطمینان اور اس کے حوالے سے سچی خوشی کے چندلمحات پھر بھی حاصل کرسکتا ہے لیکن امیر آدمی کے لئے یہ بھی ممکن نہیں کہ اس امیر آدمی کی دولت پر مختلف محکموں کے ان اہلکاروں کی نظریں ہیں جو اسی کی طرح تمام اخلاقی و روحانی قدروں کو پامال کرکے خود امیر بننا چاہتے ہیں چنانچہ اسے اپنی دولت کی حفاظت اور اس کی افزائش کے لئے ایک ایسے حمام میں داخل ہونا پڑتا ہے جس میں کپڑے باہر اتارنا ہوتے ہیں۔
دولت کی ہوس انسان کو ایک ایسی دنیا میں لے جاتی ہے جہاں پر جھوٹ کو سچ اور ہر سچ کو جھوٹ ماننا پڑتا ہے۔ جہاں ظالموں کاساتھ دینا ہوتا ہے اورمظلوموں کو تسلیاں دینا ہوتی ہیں، جہاں وہ سب کچھ کہا جاتا ہے جو غریبوں کی ضرورت ہوتی ہے اور وہ سب کچھ کیا جاتا ہے جو اس طبقے کے محسنوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایسے غیر انسانی ماحول میں کوئی پیشہ ور قاتل ہی خوش رہ سکتا ہے اور مجھے یقین ہے کہ تم پیشہ ور قاتل نہیں ہو۔‘‘
’’میں قاتل کہاں ہوں، میں تو خود مقتول ہوں۔ مجھے رفعت کے والدین نے.....‘‘
’’تم تو رونے لگ گئے ہو۔ میں نہیں جانتا یہ آنسو اس مشرو ب کا نتیجہ ہیں جو تم اب دن کو بھی پینے لگے ہو یا تمہیں ان کامیابیوں پر رونا آرہا ہے جوتم نے لاکھوں زندگیوں کو ناکام بنا کر حاصل کی ہیں۔‘‘
’’مجھے رفعت یاد آرہی ہے۔‘‘
’’رفعت تم سے اور تم رفعت سے بہت دور نکل چکے ہو۔ اس کے باوجودمیرے دوست! یہ آنسوسنبھال کر رکھنا۔یہ تمہاری زندگی کی بہترین متاع ہے۔جس دن تم ان آنسوئوں سے بھی محروم ہوگئے، اس دن تم بالکل کنگلے ہو جائوگے ..... اور ہوسکے تو اپنی زندگی کے اس رخ کو بھی یاد کرو جب تم اپنے اندر کی دنیا کو روشن کرنے کےلئے ایسے کاموں میں دلچسپی لیتے تھے جو دوسروں کی دنیا بھی روشن کردیتے ہیں۔ جن چراغوں کو تم حقیر سمجھ کر بجھا چکے ہو تمہاری زندگی میں انہیں چراغوں سے روشنی ہوگی!‘‘

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *