ایک ایم پی اے کے بیٹے نے میرا ریپ کیا۔۔۔ کیا مجھے انصاف ملے گا؟

khusroبشکریہ: خسرو پرویز

پچھلے جمعے کی رات کی بات ہے جب بھٹی کالونی رحیم یار خان کی ایک رہائشی صوفیہ شاہد نے صدر تھانہ میں رپورٹ درج کروائی کہPML-N کے ایم پی اے نواز خان رند کے بیٹے قمر خان رند نے اُن کو اور اُن کے بیٹے کو زبردستی گھر سے اغواء کیا اور اُس کے بعد اپنے ساتھیوں کی موجودگی میں اُنہیں زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا۔اُن کے پولیس سٹیشن میں بیٹھے بیٹھے بہت سے میڈیا والوں نے اُن کا انٹرویو کیا۔ صوفیہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ پولیس اُن کے ساتھ تعاون نہیں کر رہی۔
ہمیشہ کی طرح تھوڑے د نوں میں اس واقعے کو بھی دبا دیا جائے گا، مگر یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان میں کوئی بھی عورت سوچے سجھے بغیر پولیس یا میڈیا کے سامنے اپنی زیادتی کی داستان سنانے نہیں جاتی۔ایسا کرنے سے اُن کو کوئی ذاتی فائدہ تو نہیں ہو گا، پاکستانی معاشرہ ایسا معاشرہ ہے ہی نہیں۔ جبکہ اپنے انٹرویو میں صوفیہ شاہد نے بارہا یہ بات دہرائی کہ اُن کی جان کو خطرہ ہے۔
یہ بات ماننے والی ہے کہ صوفیہ شاہد ایک بہادر عورت ہیں تبھی اُنہوں نے مردوں کی جنونیت کے شکار ایک خاموش معاشرے میں آواز اُٹھانے کی ٹھانی۔مختاراں مائی کی طرح اُنہوں نے خاموشی کے بجائے ایسے مجرموں کو کٹہرے میں لانے کی ٹھانی ہے جو عورتون کے خلاف ہولناک جرائم کا ارتکاب کر کے آزاد گھوم رہے ہیں۔مختاراں مائی اور صوفیہ شاہد صرف اپنے لیے نہیں لڑ رہیں بلکہ ہر اُس عورت کے لیے لڑ رہی ہیں جو کسی بھی مرد کی حیوانیت کا نشانہ بنی ہے۔ یہ اس گھٹے ماحول میں تازہ ہوا کے جھونکے کی طرح ہیں بلکہ یہ اس مرادنگی کے قلعے کو توڑتی طاقتور چیخیں ہیں۔
صوفیہ شاہد کی کیس نے اُس کیس کی بھی یاد دلائی جب 15مارچ2015کو بھی PML-N کے ایم پی اے رانا نوید اختر نے ایک سات ماہ کی حاملہ عورت کو زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا تھا اور پھر میڈیا نے اس واقعے پر ایسے چپ سادھ لی جیسے کچھ ہوا ہی نہیں۔یہاں ایک اور بات بھی غور طلب ہے کہ پاکستان کا قانون VIP cultureکے آگے اتنا بے بس کیوں ہے؟ اور خاص طور پر جب عورتوں کے خلاف جرائم کی بات کی جائے تو حالات اور بھی خراب ہیں۔پھر چاہے بات کسی جنرل کی ہو جو ملک کے آئین کا مذاق بنا ڈالے یا اُن سیاست دانوں کی جن کے بچے ایسڈ اٹیک، ریپ اور قتل کر کے بھی آزاد گھومتے ہیں۔ہم عام آدمی سئے قانون کی پابندی کی اُمیدکیسے کر سکتے ہیں جب ملک کے لیڈر ہی قانون نہیں مانتے۔
ریپ یا زیادتی کو اب ٹابو نہیں رہنا چاہیے۔ ہمیں اس پر بات کرنی چاہیے۔ ریپ کے بارے میں بات نا کرنا ہی اس کے خلاف کاروائی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔اگر ہم صرف پولیس یا ہسپتال کے ریکارڈ کو ہی دیکھ لیں تو ہمیں پتہ چلتا ہے کہ ریپ کے واقعات میں خاطر خواہ اضافہ ہو چکا ہے۔War Against Rape (WAR) کی سال 2014کی چارج شیٹ کے مطابق1,582 کو اُس سال ریپ کا نشانہ بنایا گیا جس کا مطلب ہے ایک دن میں چار عورتیں۔ Human Rights Commission of Pakistan کی دکھائی گئی تصویر تو اور بھی دھندلی ہے۔اس کے مطابق ہر دوگھنٹے میں ایک عورت زیادتی کا شکار ہوتی ہے جبکہ ہر چار یا آٹھ دن میں ایک گینگ ریپ ہوتا ہے۔US Department of State کے لاہور میں کیے گئے ایک سیفٹی جائزے کے مطابق سال2015میں 144ریپ کے کیسز اور گینگ ریپ کے35کیسز رپورٹ کیے گئے۔ یہ اعداد پچھلے سال سے زیادہ ہیں۔ اور اعداد صحیح ہوں یا غلط
زیادتی کے کیسز میں اضافہ ہی ہوا ہے کمی نہیں آئی۔
عوام آگاہی پروگرام کے تحت ہمیں بچوں اور عورتوں کو یہ سکھانے کی ضرورت ہے کہ جب کوئی درندہ اُن سے زیادتی کی کوشش کرے تو اُنہیں کیا کرنا چاہیے۔WAR اور عورت فاؤنڈیشن جیسی تنظیمیں ایسی آگاہی کہ لیے دن رات کوشاں ہیں لیکن خالی اُن کی محنت کافی نہیں۔ ایسے پروگرام کے لیے تنظیموں کو فنڈنگ کی کمی کا بھی سامنا رہتا ہے۔
اور آخر میں بات یہ کہ قانون کی نامردی ختم کیے بغیر جرائم کو ختم کرنا ناممکن ہے۔آگاہی یا تعلیم ایسے معاشرے کے لیے بیکار ہیں جہاں کا قانون گناہ گاروں کو سزا دینے پہ قادر نا ہو۔ریپ ایک گھناؤنا جرم ہے جس کے مجرم کو جلد از جلد سزا مل جانی چاہیے۔ یہی ہم سب چاہتے ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *