یہ شہر ہے کہ مقتل

pen and paper(محمد شیث یونس)

جہاں دل کو خوف اور غم کھا رہے ہیں اس شہرِکراچی پر بات کرنی ہے۔ سیفس کی کہانی سے آغاز کرتے ہیں۔ سیفس یونانی دیومالا کا ایک کردار ہے جس سے دیوتا ناراض تھے۔ دیوتاؤں نے سزا دی کہ اسے ایک بھاری پتھر ہر روز پہاڑ کی چوٹی پر پہنچانا ہوگا۔ سیفس سارا دن محنت کرکے بھاری پتھر پہاڑ کی چوٹی پر پہنچاتا اورپھر تھک ہار کے سوجاتا۔ صبح اس کی آنکھ کھلتی تو دیکھتا کہ پتھر پہاڑ کے نیچے پڑا ہے۔ وہ ازسرنوپتھر کو پہاڑ کی چوٹی پر پہنچانے میں جُت جاتا۔ کہا جاتا ہے کہ اس دوران دیوتاؤں نے اس کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت ختم کردی تھی۔ ویسے تو پورے ملک کے عوام سیفس کی طرح زندگی گزار رہے ہیں مگر کراچی کے عوام جس طرح دن کو رات اور رات کودن کررہے ہیں، سوچنے سمجھنے کی صلاحیت سے عاری ہوچکے ہیں اس کی وجوہ باقی ملک سے مختلف ہیں۔ کراچی کے لوگ خوف کے دور میں جی رہے ہیں۔ انہیں خوف کے ہتھیار سے کنٹرول کیا جارہا ہے۔ ٹارگٹ کلنگ، بوری بند لاشیں، دھماکے اور فساد معمول کی زندگی کا حصہ ہیں۔ انہیں اس حد تک خوفزدہ کردیا گیا ہے کہ وہ قاتلوں کو پہچانتے ہیں۔ انہیں پتہ ہے کہ قاتل کون ہیں نجی محفلوں میں تذکرے بھی ہوتے ہیں اور نشاندہی بھی۔ لیکن برسرعام سب خاموش سب سہمے ہوئے چپ چاپ بھتہ دیتے چپ چاپ قتل ہوتے۔ رات کو دن اور دن کو رات کرتے۔
یہ رمضان المبارک کا آخری عشرہ ہے۔ اعتکاف اور شب قدر کا عشرہ۔ لیکن کراچی میں اس عشرے کی پہچان بھتے کی وہ پرچیاں ہیں جو ایم کیوایم فطرے کے نام پر وصول کرتی ہے۔ امیر غریب مسلم حتی کہ غیر مسلم کسی کو ان فطرے کی پرچیوں سے نجات نہیں۔ کراچی کی ایک غریب بستی کے رہائشی سجاد بتاتے ہیں کہ رمضان میں ایک دن وہ کارخانے سے ڈیوٹی دے کر گھر آئے۔ دروازے پر دستک دی۔ وہ باہر نکلے تو دیکھا کہ چارپانچ لڑکے کھڑے ہیں ان کے ہاتھوں میں فطرے کی رسیدبکس تھیں۔ انہوں نے لڑکوں سے کہا کہ میری گنجائش نہیں ہے جو تھوڑی بہت رقم میں رمضان میں اللہ کے نام پر نکالتا ہوں وہ ایک غریب رشتہ دار کو دے چکا ہوں۔ ا س پرلڑکوں نے کہا سوچ لوہم یونٹ سے آئے ہیں۔ یونٹ اور سیکٹر یہ دو الفاظ ایسے ہیں جنکو سننے کے بعد کراچی کے لوگوں کی مزاحمت دم توڑ دیتی ہے اور وہ خاموشی سے بھتہ دے دیتے ہیں۔ آج کا کراچی 1919ء کے نیویارک،ساٹھ کی دہائی کے شکاگو، جنگ عظیم اول کے بعد کے لندن اور اٹلی کے جزیرے سسلی کی صورت اختیار کرچکا ہے۔ جہاں مخصوص گروہ سیاست پر بھی قابض تھے اور لوگوں سے بھتے بھی لیا کرتے تھے۔ پہلے سمجھا جاتا تھا کہ اہل کراچی کے خون پسینے کی کمائی اور قربانی کی کھالوں سے ایم کیو ایم اسلحہ خریدتی ہے لیکن اب معلوم ہوا کہ بھتے کی کمائی کا بڑا حصہ لندن بھیج دیا جاتا ہے جہاں الطاف بھائی اس پیسے سے جائدادیں خریدرہے ہیں۔
صدارتی الیکشن کے ہنگام مسلم لیگ ن جب الطاف بھائی کے دربار نائن زیرو پر حاضری دے رہی تھی اس سے تین روز پہلے کراچی پریس کلب میں مسلم لیگ ن کے صوبائی جنرل سیکریٹری سلیم ضیاء کچھ ارکان صوبائی اسمبلی کے ساتھ ایم کیو ایم پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے کراچی میں بد امنی کی ذمہ داری ایم کیو ایم پر ڈال رہے تھے۔ نوازشریف کی جلاوطنی کے دور میں جب لندن میں اپوزیشن جماعتوں کا اتحاد ہورہا تھا تو مسلم لیگ ن کا اصرار تھا کہ آئندہ کسی حکومت کے ڈھانچے میں ایم کیو ایم کو شامل نہ کیا جائے۔ نوازشریف کے وزیراعظم بننے کے بعدتوقع کی جارہی تھی کہ جو بھی کراچی کے حالات کے ذمہ دار ہیں ان کو سزا دی جائے گی۔ ایسی ہی توقع پیپلزپارٹی کی حکومت اور پرویزمشرف سے تھی۔ لوگ امید کرتے ہیں کہ انہیں ایک پرامن اور آسان زندگی جینے کا ماحول میسر آئے گا۔ لیکن جو بھی حکومت میں آتا ہے اپنے وقتی مفادات کا اسیر ہوکر کراچی کو بدامنی کی آگ میں جلانے والوں سے اتحاد کرنا شروع کردیتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ایم کیو ایم ایک بڑی سیاسی جماعت ہے اسے دیوار سے لگانا ملک کے مفاد میں نہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا کسی سیاسی جماعت کو زیبا ہے کہ مسلح ونگ رکھے تشدد کی سیاست کرے۔ ایم کیو ایم کا یہ طرزسیاست خود ایم کیو ایم کے لئے بھی مشکلات کا باعث بنتا جارہا ہے۔ گزشتہ ماہ اس حوالے سے ایم کیوایم کراچی تا لندن ملکی اور غیر ملکی میڈیا کے الزامات کی شدید زدمیں تھی۔
کراچی میں ایم کیو ایم نے جس خونی کھیل کا آغاز کیاتھا اب اس کھیل میں ایم کیو ایم تنہا نہیں ہے۔ کراچی کے اور بھی امیدوار اپنا اپنا حصہ وصول کرنے کے لئے سامنے آچکے ہیں۔ اے این پی، سنی تحریک، لیاری امن کمیٹی، ڈرگ مافیا، لینڈ مافیا، اسلحہ مافیا مختلف علاقوں پر قبضہ جمانے کے لئے ایک دوسرے سے دست وگریباں ہیں۔ بھارت،برطانیہ اور امریکہ کے جاسوسی اور تخریب کاری نیٹ ورک الگ اس آگ کو بھڑکارہے ہیں۔ مذہبی لسانی اور علاقائی عصبیت کے حوالے سے جو گروہ معروف تھے اب کچھی برادری کے عنوان ان میں ایک اور لسانی گروہ شامل ہوگیا ہے۔ اس سے پہلے کراچی میں بلوچ سندھی اور کچھی ایک مشترکہ فریق تھے ان میں تضاد نہیں تھا۔ اب پرانے باشندوں کی صف میں ایسی تقسیم ہوئی ہے کہ لیاری سے کچھی برادری کے ہزاروں افراد گینگ واراورلاقانونیت سے تنگ آکر ٹھٹہ، بدین، ٹنڈومحمد خان اورجھڈو وغیرہ میں پناہ حاصل کرنے پر مجبور ہیں۔ جرم، مارا ماری اور عدم برداشت لیاری کی پہچان بن گئے ہیں۔ روایتی بندھن ٹوٹ چکے ہیں۔ لیاری مافیاؤں کے قبضے میں چلاگیا ہے۔ جوآمنے سامنے کھڑے ہوکر اعلانیہ فائرنگ کا تبادلہ کرتے ہیں اورپولیس اور رینجرز محض تماشائی بنے دیکھتے ہیں۔
سندھ کے آئی جی شاہد ندیم اور رینجرز کے جنرل رضوان کہتے ہیں کراچی میں امن کا حصول ممکن ہے بشرطیکہ تمام گروہوں سے یکساں طور پر نمٹا جائے نہ کسی کو رعایت دی جائے اورنہ کسی کو ٹارگٹ کیا جائے۔ دوماہ ہونے کو آرہے ہیں نواز حکومت کراچی کے مسئلے سے گریز کی پالیسی پر گامزن ہے۔ رہی پیپلزپارٹی کی صوبائی حکومت تو قائم علی شاہ کو دوبارہ وزیراعلی بنانے سے ہی صوبے کے معاملات سے اس کی غیر سنجیدگی عیاں ہے۔ فوج مداخلت سے گریزاں ہے۔ ایجنسیوں کا حال سب کو معلوم ہے۔ تو پھر کراچی کے شہری کب تک ڈر اور خوف کے سائے میں زندگی گزارتے رہیں گے۔ کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ کچھ نہیں کیا جاسکتا۔ بجز دعا کے۔
یہ بستیاں ہیں کہ مقتل دعا کئے جائیں
دعا کے دن ہیں مسلسل دعا کئے جائیں
کوئی فغاں، کوئی نالہ،کوئی بکا کوئی بین
کھلے گا باب مقفل دعا کئے جائیں
ہوائے سرکش و سفاک کے مقابل بھی
یہ دل بجھیں گے نہ مشعل دعا کئے جا
قبول ہونا مقدر ہے حرف خالص کا
ہر ایک آن ہر اک پل دعا کئے جائیں
*۔۔۔*۔۔۔*۔۔۔*

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *