آدھا گلاس

khursheed nadeem

احتجاج جنگ کی طرح ہوتا ہے۔ اسے چند دنوں ہی کے لیے گوارا کیا جا سکتا ہے، روزمرہ نہیں بنایا جا سکتا۔ جنگ اور احتجاج اگر زیادہ عرصہ جاری رہیں تو لوگ نفسیاتی مریض بن جاتے ہیں۔ پاکستانی معاشرہ آج نفسیاتی مریض بن چکا ہے۔ بے روزگار نوجوان اس کا ایندھن ہیں۔ ان نوجوانوں کو راہنمائی چاہیے۔ افسوس کہ خواب فروش بہت ہیں، راہنما کوئی نہیں۔
پاکستانی معاشرہ اور ریاست، دونوں کھلی کتاب کی طرح ہمارے سامنے ہیں۔معاشرے کی بات ایک طرف کہ آج ریاست زیر بحث ہے۔ریاست کا معاملہ یہ ہے کہ آدھا گلاس بھرا ہوا ہے اور آدھا خالی ہے۔ کچھ لوگ یہ باور کرانے کی کوشش میں ہیں کہ سارا گلاس خالی ہے۔کچھ یہ بتانا چاہتے ہیں کہ سارا گلاس بھرا ہوا ہے۔ قوم کو صحیح بات بنانی چاہیے کہ اہلِ دانش کی یہی ذمہ داری ہے۔ مثال کے طور پر عدلیہ ہے۔ اس عدلیہ سے لوگوں کو انصاف بھی ملتا ہے۔ہر روز فیصلے ہوتے ہیں۔ وزیراعظم سے لے کر عامی تک، عدالتوں میں پیش ہوتے ہیں۔ ان کے خلاف مقدمات کوسُنا جا تا ہے۔ اللہ کا شکر ہے کہ عوام کی اکثریت اس نظام پر اعتماد کرتی ہے۔ عدالتوں میں لوگوں کا رش بتاتا ہے کہ عوام ان عدالتوں کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ ایسا نہ ہوتا تو زمین فساد سے بھر جاتی۔
کوئی احتساب سے ماورا نہیں۔ کون ہے جو یہ کہنے کی ہمت کرے کہ وزیراعظم کا احتساب نہیں ہو سکتا؟حکومت کے لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ صرف وزیراعظم کے احتساب کا مطالبہ درست نہیں۔ احتساب سب کا ہونا چاہیے۔ آج وزیر اعظم کے خلاف نااہلی کا مقدمہ الیکش کمیشن میں زیرِ سماعت ہے اورسپریم کورٹ میں بھی۔ ہم اپنی آنکھوں سے وزراء اعظم کو عدالتی کٹہرے میں کھڑا دیکھ چکے۔ یہی نہیں، انہیں مجرم ثابت ہوتے اور منصب سے محروم ہوتے بھی دیکھ چکے۔ جو قانون سے ماورا ہیں وہ بیرون ِ ملک بیٹھے ٹی وی چینلزکو انٹر ویو دے رہے ہیں۔ کوئی ان کا نام لینے کی جرأت نہیں کرتا۔ غریب کی جورو سب کی بھابھی۔ بادشاہ انہیں کہا جا رہا ہے جوعدالتوں میں پیش ہوتے اور سزا پاتے ہیں۔
تصویرکا دوسرا پہلو یہ بھی ہے کہ بہت سوں کو انصاف نہیں ملتا۔ وہ برسوں عدالتوں کا چکر لگاتے ہیں۔ نسلیں گزر جاتی ہیں اور فیصلہ نہیں ہوتا۔ آج بھی 1947ء سے ایک مقدمہ زیرِ سماعت ہے اور فیصلہ نہیں ہو رہا ہے۔ یہ بھی سچ ہے کہ بااثر لوگ قانون کی گرفت سے بچ جاتے ہیں۔ ان بااثر لوگوں میں صرف حکومتِ وقت کے لوگ شامل نہیں۔ ان میں پیسے والے بھی ہیں جو حکومتی جماعت میں ہیں اور اپوزیشن کی جماعتوں میں بھی۔ تحریکِ انصاف کے ایک رکن قومی اسمبلی کی جعلی ڈگری کا مقدمہ سالوں سے زیرِالتوا ہے۔ ایک دفعہ عدالت ان کی رکنیت معطل کرچکی۔ وہ اس کے بعد حکمِ امتناعی کے ساتھ اسمبلی میں بیٹھے ہیں۔ دلچسپ بات ہے کہ ان کے خلاف یہ مقدمہ اُس وقت قائم ہوا، جب وہ گزشتہ سے پیوستہ انتخابات میں امیدوار تھے۔
آج مسئلہ صرف یہ نہیں ہے کہ حکومت میں بیٹھے لوگ قانون سے بچ جاتے ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ بااثر لوگ بچ جاتے ہیں اور اس کا بڑا سبب اس نظامِ قانون کی کمزوری ہے۔'نیپ‘کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ آج یہ بات قابلِ فہم ہے کہ 'نیپ‘ پر حکومت کا اثر ہو سکتا ہے۔ لہٰذا وہ شریف خاندان کے خلاف اقدام نہیں کرتا۔ سوال مگر یہ اٹھتا ہے کہ یہ 'نیپ‘ پرویز مشرف کے دور میں کیوں بروئے کار نہیں آ سکا؟ ایف آئی اے اور ایف بی آر جیسے ادارے کیوں انہیں مجرم ثابت نہیں کر سکے؟ آج نوازشریف صاحب کے خلاف جن الزامات کا ذکر ہوتا ہے، ان سب کا تعلق ماضی بعید سے ہے۔ اب اس کے دو ہی اسباب ہو سکتے ہیں: ایک یہ کہ شریف خاندان کے خلاف سب الزامات غلط ہیں۔ دوسرا یہ کہ قانون میں کمزوری ہے جو با اثر لوگوں کی گرفت پر قادر نہیں ہے۔ ایک اور مثال دیکھیے: عمران خان قومی اسمبلی میں کہہ چکے کہ وہ خود کو احتساب کے لیے پیش کرتے ہیں۔ جب الیکشن کمیشن نے ان کے خلاف تحقیقات کا آغاز کیا تو انہوں نے قانونی سقم میں پناہ لینے کی کوشش کی کہ کمیشن مقدمہ سننے کا مجاز ہی نہیں۔ دلچسپ بات ہے کہ یہی موقف نوازشریف صاحب کا بھی ہے۔
یہ صرف قانون اور نفاذِ قانون کا معاملہ ہے۔ میں مثالیں دے کر بتا سکتا ہوں کہ انتظامیہ، مقننہ اور دوسرے ریاستی اداروں کا معاملہ اس سے مختلف نہیں ہے۔ ہر جگہ آدھا گلاس بھرا ہوا ہے اور آدھا خالی ہے۔ ہم پارلیمنٹ پر انگلی اٹھاتے ہیں۔ اسی پارلیمنٹ نے گزشتہ چند سالوں میں قانون سازی کے میدان میں قابلِ ذکر پیش رفت کی ہے۔ 2010 ء میں جب پیپلزپارٹی کی حکومت تھی، اس پالیمنٹ نے مرکز اور صوبوں کے مابین اختیارات کا دیرینہ مسئلہ حل کیا۔ اسی نے جج حضرات کی تعیناتی کا قانون بنایا اور اس عمل کو سیاسی مداخلت سے ماورا بنا دیا۔ مو جود پارلیمنٹ نے خواتین کے حقوق اور غیرت کے نام پر قتل جیسے معاملات میں اہم قانون سازی کی۔ تاہم یہ بھی واقعہ ہے کہ اس کی کارکردگی پر اعتراضات بھی ہوئے جنہیں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
اب جو لوگ اصلاح چاہتے ہیں، انہیں اس بات کا اعتراف کرنا پڑے گا کہ آدھا گلاس بھرا ہوا ہے۔ اس اعتراف کے ساتھ جو حکمتِ عملی اختیار کی جائے گی، وہ زیادہ قابلِ عمل ہو گی۔ اگر ہم یہ بات مان کر چلیں گے تو دو باتوں کا خیال رکھیں گے۔ ایک یہ کہ جو آدھا گلاس بھرا ہوا ہے، وہ کہیں ضائع نہ ہو۔ دوسرا یہ کہ کہیں گلاس ہی ٹوٹ نہ جائے۔گلاس ٹوٹ گیا تو پھر امید مر جائے گی۔ اس کی واحد عملی صورت یہ ہے کہ ہم موجود اداروں کی اصلاح کریں۔ ان کی کارکردگی کو بہتر بنائیں۔ اگر قانون میں کمزوری ہے تو اسے بدل ڈالیں۔ اگر حکومت کے معاملات خراب ہیں تو اس پر تنقید کریں۔ عوام کو حکمرانوں کی حقیقت بتائیں جن کی مدد سے وہ اقتدار میں آئے ہیں۔ اگر ان کی روش تبدیل نہیں ہوتی تو انتخابی جد و جہدسے انہیں تبدیل کر دیں۔ اس عمل میں گلاس بچ جائے گا اور امید ہے کہ مزید بھر بھی جائے گا۔
آج کچھ لوگ یہ ثابت کرنے پر تُلے ہیں کہ سارا گلاس خالی ہے۔ ان میں کچھ وہ لوگ ہیں جو خواب فروش ہیں۔ کچھ وہ ہیں جو بصری کمزوری کے باعث گلاس کا صرف وہ حصہ دیکھ رہے ہیں جو خالی ہے۔ ان کے لیے اب یہ بے معنی ہے کہ گلاس باقی رہتا ہے یا نہیں۔ خالی گلاس باقی بھی رہے تو کس کام کا؟ پہلی طرح کے لوگوں کی اصلاح نہیں ہو سکتی۔ عوام کو ان سے بچانے کی کوشش کی جا سکتی ہے۔ دوسرے لوگوں سے یہ درخواست کی جا سکتی ہے کہ وہ آنکھیں کھولیں اور دیکھیں کہ آدھا گلاس بھرا ہوا ہے۔ ہمیں اس کے ضائع ہونے کا خطرہ مول نہیں لینا چاہیے۔
یہ بات عوام کو سمجھانے کی ضرورت ہے۔ یہ کام اہلِ دانش کا ہے۔ میں اپنی تجویز دہراتا ہوں۔ سماج کے معتبر افراد کا ایک وفد تشکیل دیا جائے جو عمران خان سے ملے اور انہیں آئینی جد و جہد پر آمادہ کرے۔ حکومت اور اپوزیشن سے یہ کہا جائے کہ وہ ایک ایسا قانون بنائیں جو کرپشن کے سب معاملات کو 2018 ء کے انتخابات سے پہلے نمٹا دے۔ اس قانون میں کرپشن کی کسی صورت کا استثنا ہو نہ کسی فرد کا۔ کرپشن کوصرف پاناما اورالزام کوصرف نوازشریف تک محدود کرنا سیاسی ایجنڈا ہے جس کا کرپشن کے خاتمے سے کوئی تعلق نہیں۔
آج ہماری ضرورت موجود نظام کی اصلاح ہے۔ اس کے لیے لازم ہے کہ ہم آئینی پابندی کو قبول کریں۔ آئین اور اس کے تحت اداروںکی موجودگی، اس کی دلیل ہے کہ آدھا گلاس بھرا ہوا ہے۔ پورا گلاس بھر نے کے لیے اس کا اعتراف لازم ہے۔ گلاس کو خالی قرار دینے والوں نے معاشرے کو نفسیاتی مریض بنادیا ہے۔ جہاں روز احتجاج ہوتا ہو، سڑکیں بند ہوتی ہوں، وہاں ذہنی توازن باقی نہیں رکھا جا سکتا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *