ایک ماہ تک صرف پانی کا استعمال فائدہ مند یا نقصان دہ؟

Image result for ‫پانی پینا‬‎

سافٹ ڈرنکس، کافی یاچائے وغیرہ جیسے مشروبات کا استعمال چھوڑنا ممکن ہے ؟ یا آپ ان کی جگہ پانی کو دے سکتے ہیں؟ مگر جب پوچھا جائے کہ آخری بار آپ نے چائے، کافی کا استعمال کب کیا ہے تو ہوسکتا ہے کہ ایک گھنٹہ بھی نہ گزرا ہو۔ مگر ایک ماہ تک ان مشروبات کی جگہ پانی کو دینے کے فوائد آپ کودنگ کردیں گے جس کاتجربہ کرس بیلے نامی شخص نے کیا۔

کیلوریز کا کم استعمال

چینی کے ساتھ چائے کا ایک کپ جسم میں 30 کیلوریز کا اضافہ کرتا ہے، کافی کے کپ کے نتیجے میں ڈھائی سو کیلوریز جبکہ سافٹ ڈرنکس کی 500 ملی لیٹر کی بوتل 210 کیلوریز جسم کا حصہ بنتے ہیں، اس کے مقابلے میں کیلوریز تو ہوتی ہی نہیںاور جسم کو زیادہ نمی بھی فراہم کرتا ہے۔

کھانے کی کم اشتہا

پانی آپ کی اشتہا پر قابو پالیتا ہے، کیونکہ اس کا استعمال آپ کے اندر بھوک کی بجائے پیاس کی خواہش زیادہ بڑھاتا ہے۔

بہتر دماغی کارکردگی

انسانی دماغ کا 75 سے 85 فیصد حصہ پانی پر مشتمل ہے، جسم میں اس کی مناسب مقدار کی موجودگی کے نتیجے میں دماغ زیادہ ہنسی خوشی کام کرتا ہے، اس کے نتیجے میںآپ کو چیزوں پر توجہ مرکوز کرنے اور جسمانی تونائی کی سطح کو برقرار رکھنے میںمدد ملتی ہے۔

یہ سستا مشروب ہے

پانی کا استعمال صرف جسم کے لیے صحت مند نہیں یہ آپ کے بٹوے کو بھی صحت مند رکھتا ہے۔

میٹابولزم بہتر بنائے

جب آپ نہار منہ پانی پیتے ہیں تو یہ میٹابولزم کو بہتر کرتا ہے، ایک تحقیق کے مطابق 500 ملی لیٹر پانی مردوں اور خواتین میں میٹابولزم کی رفتار 30 فیصد تک بڑھاتا ہے۔

سیاہ حلقے دور کرے

میٹھے مشروبات سے پانی پر منتقل ہو تو آپ کی شخصیت پر بھی جادوئی اثرات مرتب ہوتے ہیں، کیونکہ پانی جلد میں نمی کو برقرار رکھنے میں مدد دیتا ہے اور پانی کی کمی سے ہونے والے سردرد سے نجات دلاتا ہے۔

قبض دور بھگائے

پانی غذا میں موجود فائبر کو جسم میں جلد جذب ہونے میں مدد دیتا ہے جس کے نتیجے میں قبض کا خطرہ نہیں ہوتا، تاہم اس سیال کا زیادہ استعمال بار بار ٹوائلٹ جانے پر ضرور مجبور کرسکتا ہے تاہم وہ بھی کوئی خاص نقصان دہ بات نہیں۔

دل کی مدد کرے

اگر آپ کے اندر پانی کی کمی ہو تو خون گاڑھا ہونے لگتا ہے جس کے باعث دل کو کام کرنے کے لیے سخت محنت کرنا پڑتی ہے، ایک تحقیق کے مطابق دن بھر میں پانچ گلاس سے زیادہ پانی پینا ہارٹ اٹیک کا خطرہ 41 فیصد تک کم کردیتا ہے :-

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *