عمران خان اور اسٹیبلشمنٹ

حذیفہ رحمان

huzaifa-rehman

وزیراعظم نوازشریف کی کشتی ایک مرتبہ پھر بھنور سے نکلنے میں کامیاب ہوگئی ہے۔اب کی بار کشتی کے روح رواں وزیرداخلہ چوہدری نثار علی خان تھے،جنہوں نے عمران خان کے دھرنے سے قبل ہی سول عسکری تعلقات میں جمی برف کو پگھلانے میں اہم کردار ادا کیا۔ویسے اپنے قریبی ساتھی پرویز رشید کو ہٹانا بلاشبہ نوازشریف کے سیاسی کیرئیر کا کٹھن ترین فیصلہ تھامگر وزیر داخلہ چوہدری نثار،وزیر خزانہ اسحاق ڈار سمیت تمام سینئر رہنماؤں نے حکمت سے معاملات سلجھانے کا مشورہ دیا تھا۔ماضی میں سیاسی حکومتوں اوراسٹیبلشمنٹ کے درمیان سرد جنگ جاری رہتی تھی مگر اس دفعہ یہ کشمکش زیادہ دکھائی دی ۔
اطلاعات ہیں کہ سول عسکری تعلقات میں لمبے عرصے بعد خوشگوار ماحول پیدا ہوا ہے۔نئی تقرریوں کے حوالے سے تمام مراحل خوش اسلوبی سے حل ہوجائیں گے۔وزیراطلاعا ت پرویز رشید کی قربانی اور متنازع خبر کی تحقیقات کے لئے کمیٹی کے قیام کے بعد پنڈی اور اسلام آباد کے مکینوں میں دوریاں ختم ہوئی ہیں مگر اس ساری صورتحا ل میں جس شخص نے سب سے زیادہ نقصان اٹھایا ہے تو وہ عمران خان کی ذات ہے۔دھرنے کی کال واپس لینا تحریک انصاف کی سیاسی موت کے متراد ف تھا۔ملک بھر کے سیاسی کارکنوں کے لئے یہ اعلان کسی دھچکے سے کم نہیں تھا۔مگر ان کو کسی کی کیا پروا؟ کیوں کہ بقول خان صاحب کہ کپتان اپنے فیصلے خود کرتا ہے۔زبان زد عام ہے کہ تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے دھرنے کی کال کو عوام کی طرف سے ویلکم نہ کہنے پر اسلام آباد بند کرنے کا منصوبہ منسوخ کیا ۔حقائق بھی کچھ ایسے ہی ہیں۔آج خیبر پختونخوامیں تحریک انصاف کی حکومت ہے۔چار درجن سے زائد ممبران قومی و صوبائی اسمبلی آپ کے ساتھ ہیں۔اگر ایک وزیر اعلیٰ اور ان کی کابینہ مل کر بھی تین،چار ہزار سے زائد لوگ اکٹھے نہیں کرسکی تو حقیقت سب کے سامنے ہے۔زیادہ بھی نہیں اگر پرویز خٹک صاحب کے ہمراہ 50ہزار افراد بھی آجاتے تو اٹک پولیس کی رکاوٹیں توڑنا کوئی مشکل نہیں تھا۔جب کہ دوسری اہم حقیقت پنجاب ہے۔ملکی سیاست سے لاہور کے کردار کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔سیاسی تاریخ میں جب بھی کوئی تبدیلی یا لانگ مارچ ہوا ہے تو مرکز ہمیشہ لاہور رہا ہے۔ذوالفقار علی بھٹو شہید ایک سندھی سیاستدان تھا۔مگر جب ضیاالحق نے انہیں چند دن کے لئے رہا کیا تو بھٹو صاحب نے لاڑکانہ یا نواب شاہ میں جلسہ نہیں کیا تھا بلکہ پنجاب میں جلسوں کو ہدف بنایا ۔یہ خاکسار لاہور کا رہائشی یا پیدائشی نہیں ہے مگرذاتی طور پر لاہور سے زیادہ چارجڈ سیاسی ورکر ملک بھر میں نہیں دیکھا۔تحریک انصاف کے سربراہ کی بدقسمتی رہی کہ اس دھرنا کال میں لاہور سمیت پورے پنجاب میں کوئی غیر معمولی سرگرمی دیکھنے کو نہیں ملی۔اس کا ہر گز یہ مطلب نہیں ہے کہ پنجاب کے لوگ تحریک انصاف کے ساتھ نہیں تھے۔بلکہ وجہ صرف یہ تھی کہ لیڈ کرنے کے لئےکوئی موجود نہیں تھا۔لیڈر ہمیشہ فرنٹ سے لیڈ کرتا ہے مگر یہاں تحریک انصاف کے سربراہ سمیت تمام صف اول کے رہنما گزشتہ دس دن سے بنی گالا کی فضاؤں کے مزے لوٹ رہے تھے۔اگر عمران خان نے واقعی حکومت کے خلاف موثر احتجاجی تحریک چلانی تھی تو اس تحریک کو ملتان اور جنوبی پنجاب سے شاہ محمود کو لیڈ کرنا چاہئے تھا۔جہانگیر ترین صاحب کو عمران خان کے دائیں جانب کھڑے ہونے کے بجائے لودھراں سے لاکھوں لوگ نکالنے چاہئے تھے۔ملکی سیاست کے دل لاہور میں تحریک انصاف کا کوئی سینئر رہنما اپنے ورکروں کو منظم کرکے شہر اقتدار اسلام آباد کی طرف مارچ کروانے کے لئے موجود نہیں تھا۔علیم خاں کے لئے عمران خان کی گاڑی چلانا ضروری نہیں تھا بلکہ لاہور میں اپنے حلقے میں موجود رہنا ضروری تھا۔جس طرح سے تحریک انصاف کی اسلام آباد بند کرنے کی کال ناکام ہوئی ہے ۔اس سے دو تاثر شدت سے ابھرے ہیں۔ایک تاثر ہے کہ تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان ایک کرکٹر اور کپتان سے زیادہ کچھ نہیں ہیں،اگر انہیں سیاسی نابالغ کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا۔کیونکہ ایک جماعت کے سربراہ کی حیثیت سے انہیں علم ہی نہیں ہے کہ تحریکیں کیسے چلائی جاتی ہیں؟
جب کہ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ تحریک انصاف کے صف اول کے رہنما اپنے علاقوں کو چھوڑ کر بنی گالا میں اس لئے موجود تھے کیونکہ انہیں زمینی حقائق کا علم تھا کہ عوام احتجاجی سیاست میں تحریک انصاف کا ساتھ نہیں دیں گے ۔ ا س لئے بہتر ہے کہ اسلام آباد میں ڈیرے جمالئے جائیں۔
احتجاجی تحریک میں بڑی تعداد میں لوگوں کو اکٹھا کرنا تحریک کی کامیابی نہیں ہوتی بلکہ لیڈر کے فرنٹ پر آکر لیڈ کرنے سے تحریکیں کامیاب ہوتی ہیں۔90کی دہائی میں بے نظیر بھٹو شہید نے موجود ہ وزیراعظم نوازشریف کے خلاف تحریک چلانے کا اعلان کیا۔بے نظیر بھٹو مٹھی بھر لوگوں کے ہمراہ اسلام آباد میں داخل ہوئیں۔پولیس نے لاٹھی چارج کیا اور بے نظیر بھٹو کو راولپنڈی کی طرف دھکیل دیا۔بے نظیر بھٹو نے بیمار ہونے کے باوجود چند سو لوگوں کے ساتھ مل کر پوری ریاستی مشینری کو مفلوج کرکے رکھ دیا مگر اپنی صحت کو جواز بنا کر تحریک ملتوی کرنے کا اعلان نہیں کیا ۔اسی طرح عدلیہ بحالی کے لانگ مارچ کو لے لیں۔نوازشریف صاحب کی کال پر لاہور میں عوامی جم غفیر اکٹھا نہیں ہوا تھا۔مگر جب لیڈر ماڈل ٹاؤن سے نکلا تو لوگ کونوں کھدروں سے بھی نکل کر آگئے اور گوجرانوالہ پہنچنے تک نوازشریف کے لانگ مارچ میں لوگ ہی لوگ تھے۔آج لوگ عمران خان کا بلاول سے موازنہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ بلاول عمرمیں عمران خان سے 40سال چھوٹے ہیں مگر ان کی گفتگو سے تاثر ملتا ہے کہ وہ سیاسی طور پر عمران خان سے کئی گنا میچور ہیں۔
اب بھی وقت ہے کہ تحریک انصاف کے سربراہ سیاسی فہم و فراست سے کام لیں۔اسٹیبلشمنٹ کے چند عناصر جو سیاسی جماعتوں کو ماضی میںاپنے اشاروں پر چلاتے رہے انہیں چاہئےکہ وہ اب اس روش کو ترک کردیں کیونکہ تحریک انصاف کے مخالفین کہتے ہیں کہ وہ کسی کے اشارے کی منتظر رہتی ہے۔ملکی سیاست میں طویل عرصے بعد طاقت کا توازن قائم ہورہا ہے۔خدارا اس کو ضائع نہ کریں۔جب کہ عمران خان کو بھی آج سوچنا ہوگا کہ پاکستان میں سیاستدان لیڈر تب بنتا ہے جب وہ اسٹیبلشمنٹ کے اثر سے باہر آتا ہے۔بھٹو صاحب نے جب ایوب کی کابینہ کو خیر باد کہا تھا تو لیڈر بنے تھے، نوازشریف نےجب90کے آغاز میں اسٹیبلشمنٹ سے بغاوت کرکے اپنی "مسلم لیگ ن"بنانے کا اعلان کیا تھا تو وہ مسلم لیگ کے قائد نوازشریف بنے تھے۔آج عمران خان بھی اس طرزعمل کو اپنا کر ہی لیڈر بن سکتے ہیں،وگرنہ ناکامیاں یونہی قدم چومتی رہیں گی۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *