اب میں اپنے صدر کو ووٹ دوں گی

By Estelle Schultz

ang

میں 2 جون 1918 کو امریکی شہر نیو یارک سٹی میں پیدا ہوئی تھی۔ اس وقت وڈرو ولسن امریکہ کے صدر تھے اور جنگ عظیم اول جاری تھی۔ عورتوں کو ووٹ کا حق نہیں دیا جاتا تھا۔ اس کے دو سال بعد امریکہ میں عورتوں کو ووٹ کا حق دیا گیا۔ لیکن جیسے ہی یہ حق ملا میری ماں مجھے اپنے ساتھ ووٹ ڈالنے لے گئی۔ میں نے اپنا پہلا ووٹ 1940 میں فرینکلن ڈی روزویلٹ کو دیا اور تب سے میں پرائمری اور صدارتی الیکشن کے لیے ووٹ دیتی آئی ہوں۔ اس بات کو پرے رکھتے ہوئے کہ  میرے زمانے کی عورتیں اپنے خاوند کے لیے تعاون کرتیں اور مردوں کی طرح ووٹ دیتی  ، میں نے ہمیشہ اپنی مرضی سے ووٹ دیا ہے  اور یہی میری ساتھی عورتیں بھی کرتی آئی ہیں۔ میں نے کبھی ووٹ دے کر پچھاوے کا اظہار نہیں کیا۔ سب سے اچھا ووٹ جو میں نے دیا وہ 2008 میں ہیلری کے لیے تھا  لیکن وہ جیت نہیں پائیں۔ لیکن پھر بھی مجھے فخر تھا کہ میں نے انہیں ووٹ دیا۔

اس بار بھی میں انہیں ہی ووٹ دوں گی۔ جو معاملات ان انتخابات میں میرے لیے اہم ہیں وہ  یہ کہ میں کلنٹن کی مڈل کلاس کو پروموٹ کرنے ، تعلیم کے مواقع بڑھانے، کی  پالیسیوں کو بہت پسند کرتی ہوں۔ میں نے ایجوکیشنل لیڈر شپ میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کر رکھی ہے اور کامپٹن یونیفائیڈ سکول میں چالیس سال تک تعلیمی خدمات سر انجام دی ہیں۔ بعد میں میں اس ڈسٹرکٹ کی اسسٹینٹ سپرنڈینٹ بن گئی۔ میں نے زیادہ تر مردوں کے ساتھ کام کیا لیکن مجھے بہت عزت دی گئی کیوں کہ میں خاموش اور انصاف کی راہ پر تھی۔ مجھے اپنے کام سے پوری واقفیت تھی۔

مجھے معلوم تھا کہ کوالٹی ایجوکیشن کیا ہوتی ہے اور میں نے اس کے لیے بہت کام کیا۔ مجھے نہیں معلوم کہ اس سے کچھ فرق خواتین طلبا پر بھی پڑا ہے  لیکن مجھے یہ معلوم ہے کہ طلبا نے میری خدمات کو سراہا ہے۔ مارو  فلیمنگ جو چار پر سوپر باول چمپین بنا وہ میرا سٹوڈینٹ تھا۔ وہ ہر سال مجھے ملنے آتا رہا۔  میں نے تمام طلبا کو لیڈر بننا سکھایا اور وہ بنے۔ جب میں ری یونین کے لیے واپس گئی تو تین لوگوں نے میرا استقبال کیا  جو میرے طلبا تھے۔ ان میں سے ایک مئیر بن چکا تھا ، دوسرا سٹیٹ آفیشل تھا اور تیسرا کالج پروفیسر تھا۔ میں نے کبھی نہیں سوچا کہ ایک خاتون امریکہ کی صدر بنے گی  یا ایک خاتون اچھی صدر بن سکتی ہے۔

اس کے لیے کوئی رول ماڈل میری نظر میں نہیں ہے۔ جب ہیلری کلنٹن خاتون اول تھیں اور وائٹ ہاوس میں موجود تھیں۔ میں نے کبھی نہیں سوچا کہ وہ صدر بھی بنیں گی۔ میں نے یہ بھی کبھی نہیں سوا کہ کبھی ایک فئیر کلر آدمی امریکہ کا صدر بنے گا لیکن پھر بھی میں نے اوبامہ کو 2008 میں ووٹ دیا۔ جب وہ منتخب ہوئے تو مجھے حیرانگی ہوئی۔ وہ بھی میری زندگی کے بہترین صدور میں سے تھا۔ ان کی شخصیت بہت ہی اچھی ہے۔ جب یہ وقت آیا کہ اس سال میں کس کو ووٹ دوں گی تو میں برنی سینڈر  کو ووٹ دینا پسند نہیں کرتی تھی۔ میں ڈونلڈ ٹرمپ پر کوئی تبصرہ نہیں کرنا چاہتی۔

میری توجہ ہیلری کی طرف تھی۔ میرے خیال میں وہ کوالیفائیڈ ہیں۔ پچھلے تیس سال سے جو خدمات انہوں نے دی ہیں ان سے انہوں نے دنیا میں اپنا ایک اثر چھوڑا ہے۔ وہ بہت مشہور ہیں اور پوری دنیا ان کو پسند کرتی ہے۔ ان کا بہت زیادہ اور اہم تجربہ ہے ۔ میرے خیال میں عورتیں ایک نیا تجربہ دیتی ہیں۔ ان کے اندر ایک ایسا احساس ہوتا ہے جو مردوں میں نہیں ہوتا۔ میں نے جرمن چانسلر انجیلا مرکل اور برطانوی پرائم منسٹر تھریسا مے کے الیکشن دیکھے ہیں۔ مرکل، مے اور ہیلری  ایک اچھا گروپ ہو گا جو دنیا پر حکومت کر سکے۔ شاید یہ خواتین دنیا میں امن اور ترقی کی راہیں ہموار کریں گی جس کی سب لوگ امید لگائے بیٹھے ہیں۔

آج کی سیاست میں میرے لیے حیرت انگیز بات یہ ہے کہ آج کل الیکشن کی مہم بہت زیادہ  ظالمانہ بن چکی ہیں۔ مہمات کی رپورٹنگ بھی بہت بری ہے۔ کسی قسم کی پرائیویسی میسر نہیں ہے۔ اگر کوئی چھینک بھی مار دے تو یہ بات میڈیا پر آ جاتی ہے۔ امیدوار ایک دوسرے کو تکلیف دیتے ہیں جو اچھی بات نہیں ہے۔ اس سے قبل یہ نہیں ہوا کرتا تھا۔ آج کل یہ کتے بلیوں کا کھیل بن چکا ہے۔ لیکن میرے خیال میں ہیلری ایک اچھی صدر بنیں گی۔ انہیں دنیا کے کنیکشن کے بارے میں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ ساری دنیا کے لوگ ان کی تعریف کرتے ہیں۔ انہیں امریکی شہریوں میں اعتماد بحال کرنا ہو گا  اور انہیں ایسا کرنے کا موقع ملنا چاہیے۔ دنیا کے ممالک انہیں جانتے ہیں  اور انہیں سراہتے ہیں۔ یہ وقت ہے کہ ہم انہیں ہی منتخب کریں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *