امریکی تاریخ کے اہم واقعات، جن سے متعلق افواہیں سچ نکلیں

لاہور -کسی حادثے یا واقعے کے پیچھے کسی خفیہ ہاتھ کو ذمہ دار ٹھہرانا، سازشی نظریہ کہلاتا ہے۔ ایسے بہت سے نظریات کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ لوگ محض اس بارے میں قیاس کر لیتے ہیں۔ ان باتوں سے قطع نظر بعض سازشی نظریات سچ بھی ثابت ہوئے۔ زیر نظر ایسے ہی سازشی نظریات ہیں، جن کو بعد میں دنیا کے سامنے تسلیم کیا گیا۔

سیاہ فاموں پر کیے جانے والے انسانیت سوز طبی تجربات

امریکی ڈاکٹروں کے بارے میں یہ سازشی نظریہ ایک عرصے سے موجود رہا کہ وہ اپنے سیاہ فام شہریوں اور لاطینی امریکا کے باشندوں کو لاعلم رکھتے ہوئے ان پر طبی تجربات کر رہے ہیں۔ اگر بات مریضوں پر طبی تجربات تک محدود رہتی تو غنیمت تھا، لیکن امریکی ڈاکٹروں کے بارے میں یہ قیاس آرائیاں بھی خوب ہوئیں کہ وہ صحت مند افراد کے جسم میں بیماریوں کے جراثیم داخل کر کے انھیں مریض بناتے ہیں، پھر ان پر نئی دوائی آزماتے ہیں۔ امریکا میں ہونے والا ”ٹوسکیجی سائفلس تجربہ“ اس سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ ٹوسکیجی امریکی ریاست الباما کی ایک یونیورسٹی ہے، جس کے تعاون سے 1932ء میں پبلک ہیلتھ سروس شروع کی گئی۔ ڈاکٹروں کی ٹیم نے الباما کے 600 سیاہ فام باشندوں کو مفت علاج، کھانا اور انشورنس کا لالچ دے کر ان پر طبی تجربات کیے۔ ان میں 399 افراد پہلے سے جنسی بیماری آتشک میں مبتلا تھے جبکہ 201 افراد میں اس بیماری کے جراثیم منتقل کیے گئے۔ ان تجربات سے یہ دیکھنا مقصود تھا کہ آتشک کی بیماری میں پنسلین کس قدر کارآمد ثابت ہوتی ہے۔ یہ تجربات 1972ء تک جاری رہے۔ اسی سال نومبر میں ان کے خلاف اخبارات میں خبریں شائع ہوئیں، جن میں انکشاف کیا گیا کہ ان تجربات کے دوران بہت سے افراد ہلاک ہوئے، ان میں سے 40 افراد کی بیویوں کو اس بیماری کے جراثیم منتقل ہوئے، جن سے پیدا ہونے والے بچے بھی اس سے محفوظ نہیں رہ سکے۔ 1974ء میں امریکی کانگریس نے قانون سازی کرتے ہوئے انسانوں کو طبی تجربات کی بھینٹ چڑھانے پر پابندی عائد کر دی۔ تاہم کسی بھی صدر نے متاثرہ سیاہ فام باشندوں اور ان کے خاندان سے معافی مانگنا گوارا نہ کیا۔ 1997ء میں امریکی صدر بل کلنٹن کے ضمیر نے انھیں جھنجھوڑا تو انھوں نے ماضی کے اس بھیانک واقعے کو تسلیم کرتے ہوئے متاثرہ خاندانوں سے معاف طلب کی۔

اپنے شہریوں کو دہشت گردی کا نشانہ بنانے کا منصوبہ

ورلڈ ٹریڈ سینٹر کی تباہی میں امریکی حکومت کا ہاتھ تھا، اس سازشی نظریے کا ابھی ٹھوس ثبوت سامنے نہیں آیا، اس لیے اسے محض قیاس ہی سمجھا جانا چاہیے، لیکن ماضی میں امریکا کے کرتا دھرتاؤں نے حقیقتاً اپنے ہی شہریوں کو دہشت گردی کا نشانہ بنانے کی پوری منصوبہ بندی کی تھی لیکن خوش قسمتی سے اس پر عمل درآمد نہ ہوسکا۔ دسمبر 1959ء میں کیوبا کے عوامی انقلاب نے امریکا کی نیندیں اُڑا دیں۔ امریکا اپنے پٹھو جنرل باتسٹا کی ظالمانہ حکومت بچانے میں مکمل طور پر ناکام رہا تھا۔ اس انقلاب کو ختم کرنے اور کیوبن حکومت کو بدنام کرنے کے لیے امریکا نے بہت سے منصوبے بنائے، جن میں بے آف پگز کا منصوبہ تاریخ میں بہت مشہور ہُوا۔ اس منصوبے کی ناکامی پر امریکا کی جھنجھلاہٹ عروج پر پہنچ گئی، چنانچہ 1962ء میں امریکا کے جوائنٹ چیفس آف سٹاف نے ایک احمقانہ منصوبہ ترتیب دیا۔ اس منصوبے کا خفیہ نام ”آپریشن نارتھ وڈز“ رکھا گیا، جس کے تحت امریکا کے مختلف شہروں میں دہشت گردی کروا کر اس کا الزام کاسترو حکومت کے سر ڈالنا تھا۔ اس طرح امریکی حکومت کیوبا کو دہشت گرد ریاست قرار دے کر اس پر فوجی چڑھائی کے لیے اپنے عوام کو مطمئن کر سکتی تھی۔ تاہم صدر کینیڈی نے اس منصوبے کو مسترد کر دیا۔ کافی عرصے تک اس منصوبے کا چرچا رہا، جسے امریکی حکومت سازشی نظریہ قرار دے کر جھٹلاتی رہی، لیکن 18 نومبر 1997ء کو امریکا کے ’ریکارڈ ریویو بورڈ برائے کینیڈی قتل‘ نے جو دستاویز ڈی کلاسیفائڈ کیں، ان میں 1962-64 تک کا مکمل فوجی ریکارڈ بھی موجود ہے، جس سے اس بات کی تصدیق ہوتی ہے کہ ماضی میں اپنے ہی شہریوں کو دہشت گردی کا نشانہ بنانے کی امریکی تجویز سازشی نظریہ نہیں بلکہ جیتی جاگتی حقیقت تھی۔

امریکا کا خفیہ فوجی علاقہ، ایریا 51

امریکی ریاست نواڈا کے صحرائی علاقے میں واقع ’ایریا 51‘ عرصہ دراز تک دنیا کے لیے معمہ بنا رہا۔ اس سلسلے میں بہت سے سازشی نظریات تخلیق کیے گئے کہ امریکا یہاں ایٹمی تجربات کر رہا ہے اور سوویت یونین کے خلاف تباہ کُن ہتھیار بنا رہا ہے۔ امریکی صدور ان باتوں کی تردید کرتے ہوئے اسے لوگوں کی ذہنی اختراع قرار دیتے۔ تاہم جولائی 2013ء میں سی آئی اے نے پہلی بار عوامی سطح پر اس علاقے کے وجود کو تسلیم کرتے ہوئے اس کی تاریخ اور مقاصد کی خفیہ دستاویز عام کر دیں۔ ان دستاویز کے مطابق ایریا 51 کا انتخاب سی آئی اے اور امریکی فضائیہ کے عملے کی جانب سے 1955ء میں فضائی جائزوں کے بعد کیا گیا۔ اس وقت کے امریکی صدر آئزن ہاور نے ذاتی طور پر اس کی منظوری دی تھی۔ اس جگہ کا اصل مقصد ہنوز پوشیدہ ہے، تاہم تاریخی شواہد کی بنیاد پر یہ جگہ تجرباتی طیاروں، ہتھیاروں کی ترقی اور جانچ کے لیے استعمال ہوتی رہی ہے۔ سوویت یونین کی جاسوسی کے لیے امریکا کو یو ٹو طیارے کا پروگرام انتہائی خفیہ رکھنا مقصود تھا، اس کے لیے ایک ایسی جگہ کی تلاش تھی جو لوگوں کی نظروں سے اوجھل رہے۔ یہ طیارے سرد جنگ کے زمانے میں سوویت یونین کی جاسوسی کے لیے تیار کیے گئے تھے، جو آج بھی امریکی فضائیہ کے زیرِ استعمال ہیں۔ پچاس کی دہائی میں عام طیاروں سے کہیں زیادہ بلندی پر یو ٹو طیاروں کی تجرباتی پروازوں نے اڑن طشتریاں دیکھے جانے کی باتوں میں بھی بہت زیادہ اضافہ کر دیا تھا :-

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *