خارجہ پالیسی یا قومی شرمندگی؟

ایازا میرAyaz Amir

اب تک یہ بات واضح ہوچکی ہے کہ نواز شریف کونریندر مودی کی حلف ِ وفاداری کی تقریب میں شرکت کے لئے نہیں جانا چاہئے تھا کیونکہ اس سے ہمیں حاصل تو کچھ نہیں ہوا لیکن اس نے پاکستان کو ایک ایسی ریاست کے طور پر پیش کیا جو اپنے عقربی ہمسائے سے مرعوب ہو کر اُسے خوش رکھنا چاہتی ہے۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ نواز شریف کو اس بات کا احساس دلایا جاسکتا ہے، نہیں اُن سے ایسی توقعات وابستہ کرنا زیادتی ہوگی۔ جنوبی ایشیا کی دیگر ریاستوں کے رہنمائوں کی طرح لائن میں کھڑے ہو کراُس تقریب میں شرکت کرنے سے ہمارے قومی وقار کی سُبکی ہوئی۔ اس کے بعد نواز شریف کا یواین جنرل اسمبلی کے اجلاس میں جانا اور خالی ہال کو خطاب کرکے واپس لوٹنا بھی کم درجے افسوس ناک نہ تھا۔ اگر وہ اُس وقت داخلی مسائل سے کچھ دیر جان چھڑا کر کہیں جانا چاہتے تھے تو وہ جائے مفر سود مند نہ تھی۔ ان کے مشیرکون ہیں؟ یا وہ کن کی بات سنتے ہیں؟
پاکستان کامسئلہ نریندرمودی نہیں بلکہ مینڈیٹ کے بدکے ہوئے گھوڑے پر سوار حواس باختہ حکومت ہے۔ جب اسے درون ِ خانہ پائوں رکھنے کی جگہ نہیں مل رہی تو عالمی سطح پر اعتماد سے کیسے بات کرسکتی ہے؟بہت بہتر ہوتا اگر وزیر ِ اعظم کو غیر ملکی دوروں میں کسی قدر کمی لانے پر قائل کیا جاسکتاکیونکہ اس رفت و آمد سے وزیر ِ اعظم کی غیر یقینی کارکردگی کے باعث حاصل تو کچھ نہیںہوتا، الٹا ملک کی جگ ہنسائی کا سامان ہو جاتاہے۔ جب اوول آفس میں صدر اوباما کے سامنے بیٹھے ہمارے وزیر ِ اعظم کانپتے ہاتھوںسے کاغذ پر لکھے ہوئے کچھ نوٹس ٹٹول رہے تھے (یہ گزشتہ سال کی بات ہے)تو شرمندگی سے پاکستانیوںکے چہرے عرق عرق ہوگئے۔ جہاں تک نجی دوروں کا تعلق ہے تو این حکایت دیگر است، کیونکہ پاکستانی رہنمالندن دوروںکے بغیر خود کو ادھورا سمجھتے ہیں۔ اور پھر ہمارے موجودہ وزیر ِا عظم تو ویسے بھی اس حوالے سے خوش قسمت ر ہے ہیں کہ ان کے لندن میں پر تعیش اپارٹمنٹس ہیں۔ ان کی جائیدادبھی سمندر پار ، یہی دوہاتھ کی دوری پر۔ پھر وہاں سے میڈیکل چیک اپ کرانا بھی ضروری کیونکہ جان (اپنی) ہے تو جہان ہے۔ تاہم جہاں تک سرکاری طور پر غیر ملکی دوروں کا تعلق ہے تو اس پر سول ملٹری اداروں میں اتفاق ِ رائے ہونا چاہئے کہ اب وزیر ِ اعظم کو مزید غیر ملکی دوروں پر جانے کا رسک نہیں لینا چاہئے..... جتنی ہوچکی ہے، اُسے کافی سمجھا جائے۔
پاکستان کی خارجہ پالیسی ساز، ٹرائیکا (سہ فریقی افسران) کی فعالیت کودیکھیں۔ ان میں ایک تو وزیر ِ اعظم ہیں جن کے پاس وزارت ِخارجہ کا قلمدان ہے.....کیا وہ خارجہ امور یا پالیسی کی کوئی مہارت رکھتے ہیں؟دوسرے دوافراد سرتاج عزیز اور طارق فاطمی ہیں ۔ یہ نام دیکھ کر دل ڈوب جاتا ہے۔ہم سے ایسا کون سا گناہ سرزد ہوگیا ہے جس کی یہ سزا ہے۔ دفتر ِخارجہ کے امور چلانے والے افراد میں ذہانت کی شرط ہمارے ہاں کبھی نہیں پائی جاتی تھی لیکن اب تو نااہلی بھی سند بن چکی ۔ خوش قسمتی سے پنجاب کے خادم ِ اعلیٰ از راہِ کرم خارجہ پالیسی سے دست کش ہوگئے ہیں ورنہ ہمارے ہاں بیک وقت تین خارجہ پالیسیاں مستعمل تھیں..... دفتر ِ خارجہ کی فارن پالیسی جس میں اردو ادب کی اصطلاح میں خارجیت سے زیادہ داخلیت کارفرما تھی، دوسری ذرا سنجیدہ قسم کی جو جی ایچ کیو میں ٹکسال ہوتی تھی اور تیسری خادم ِ اعلیٰ پنجاب کے ہفتہ وار چین، ترکی اور برطانیہ کے دوروںسے متحرک، یعنی گردش میں رہتی تھی۔ تاہم ترقی کے دشمنوں نے بے چین کرتے ہوئے ترکی اور چین کے دوروں کی لذت سے محروم کردیا ، چنانچہ دھرنوں اور جلسوں نے پنجاب کی قوت ِ پرواز کے پر کاٹ دئیے۔
تاہم یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ژولیدہ فکری کی شکار قیادت کے نتائج بھگتنے والا ملک صرف پاکستان ہی نہیں، بلکہ بہت سے طاقتور اور متمول ممالک بھی اس صف میں کھڑے ہیں۔ جارج ڈبلیو بش بہت صلاحیتوںکے مالک تھے لیکن وہ آٹھ سال تک امریکہ کی قسمت سے کھیلتے رہے۔عراق جنگ کی وجہ سے مشرق ِوسطیٰ میں بپا ہونے والی شورش کی ذمہ داری تاریخ کے اوراق میںان کے کندھوں پر ہی ڈالی جائے گی۔ وائٹ ہائوس میں بہت سے بے کیف حکمران بھی آئے اور ان پر میڈیا میں شدید تنقید بھی کی گئی لیکن امریکہ آگے بڑھتا رہا۔ برطانوی سیاست میں ٹونی بلیئر کو وہی مقام حاصل ہے جو ڈکنز کے ناول ’’ڈیوڈ کاپرفیلڈ‘‘ میں Uriah Heep کو۔ ناول کا یہ کردار منافقت کی علامت ہے۔ چونکہ برطانیہ میں ہماری طرح قطع برید کرنے کا رواج نہیں ، وہ کسی اور طریقے سے کانٹا نکالتے ہیں، اس لئے مسٹر بلیئر کے ساتھ وہی کچھ ہوا جو کچھ عرصہ پہلے ٹوریزمارگریٹ تھیچر کے ساتھ کرچکے تھے..... پارٹی کے اندر سے تختہ الٹنا۔ چنانچہ ٹونی بلئیر کو چلتا کر کے گورڈن برائون کو منصب دے دیا گیا۔ ان مثالوںسے پاکستانیوں کو یہ تسلی دینا مقصود تھی کہ نااہل حکمران کہیں بھی ہوسکتے ہیں، اس لئے وہ بھی دل چھوٹا نہ کریں۔ اور پھر پاکستان نے اس سے بڑے بڑے سانحات سہے ہیں، یہ وقت بھی گزر جائے گا بشرطیکہ ہم غیر ملکی دوروں سے دور رہ سکیں۔ دوسری جنگ ِ عظیم کے موقع پر ہٹلر کے ساتھ امن کی پالیسی پر مصر رہنے کی وجہ سے نویل چمبرلین اپنے ملک برطانیہ کے لئے باعث ِ عار بن چکے تھے۔ جب طبل ِ جنگ بجنا شروع ہوا تو ملک میں بے چینی پیدا ہونا شروع ہوگئی کہ اس وقت ان کا منصب پر رہنا ملک کے لئے نقصان دہ ثابت ہوگا، اس لئے انہیں اقتدار سے رخصت کرنے کے لئے آوازیں آنا شروع ہوگئیں۔ ہائوس آف کامن میں ماحول خاصا گرم تھا۔ایک سنیئر رکن پارلیمنٹ لیو امری(Leo Amery) نے وزیر ِ اعظم پر تیز وتند الفاظ میں حملہ کیا....’’ میں نے الیور کرومویل کے ا لفاظ کا حوالہ دیا ہے، میں کچھ اور حوالے بھی دیتا ہوں۔ کرومویل نے جب دیکھا کہ لانگ پارلیمنٹ بہت دیر سے تذبذب کے عالم میں قوم کے مسائل حل کرنے کے قابل نہیں تو اس نے کہا تھا تم یہاں بہت دیر سے وقت ضائع کررہے ہو۔ نکل جائو یہاں سے۔ میں کہتاہوں خدا کے لئے یہاںسے چلے جائو۔‘‘
خوش قسمتی سے ہمارے ہاں کوئی جنگ ِ عظیم نہیں لڑی جارہی ۔ مزید خوش بختی یہ کہ اگر لیوامری کے بے ضرر سے الفاظ ہمارے وزیر ِاعظم کے گوش گزار کیے جاتے تو مطلق اثر نہ ہوتا، بلکہ صاحب ِ سماعت استفہامیہ لہجے میں گویا ہوتے کہ مدّعا کیا ہے؟ہمارے ہاں جنگ ِ عظیم کا دیسی متبادل انتخابی مہم ہے جس میں ’’کیا کسی کو پھر کسی کا امتحاں مقصود ہے‘‘ تک نوبت پہنچ چکی لیکن انتخابی دنگل کا اکھاڑا سونا جبکہ مرزا یار کہیں سونی گلیوں کی تلاش میں۔ سیاست دانوں کی زبان پروسط مدتی انتخابات کی اصطلاح جاری مگر نہیں جانتے کہ اس مرحلے تک پہنچا کیسے جائے، کون سی جادو کی چھڑی گھما کر حکومت کو رخصت پر آمادہ کیاجائے؟
تاہم اس کا یہ مطلب نہیں کہ جلسے جلوس محنت ِ بے ثمر ہیں۔ ایسا نہیں، ان میں عوام کی ایک کثیر تعداد شرکت کرتی ہے اور عمران خان اور علامہ قادری حکومت کو سخت الفاظ میں آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے اس کی تھوڑی بہت کارکردگی، جو ’’ہر چند کہیںکہ ہے نہیں ہے‘‘کی مثل تھی، کو بھی مفلوج کررہے ہیں۔ اس طرح ہمارے ہاں گزشتہ اٹھارہ ماہ سے برائے نام انتظامیہ ہے جس نے مزید ساڑھے تین سال اسی طرح گزارنے ہیں۔ پھر یونانی ہیرو Odysseus کا جملہ یاد آتا ہے....’’صبر کر اے دل! بہت سہے تونے صدمات، ا س سے بھی بدتر۔‘‘ یہ دور بھی گزرجائے گا، تاہم قوم کو اس کی بھی ویسی ہی قیمت چکانا پڑے گی جیسی اس نے پی پی پی حکومت کی مدت پوری کرنے کی چکائی تھی۔ تاہم ، جیسا کہ کہا جاتا ہے، جمہوریت کے تسلسل کو تساہل کا شکار نہیں ہونا چاہئے اور نہ ہی اس میں کوئی رخنہ پڑنا چاہئے۔ پھر کیا ہوا ؟ پی پی پی کا پنجاب میں صفایا ہوگیا۔ مدت پوری کرنے کے بعد اس کے پا س کوئی بہانہ تک نہ رہا۔عوام دیکھتے رہے، پھر اُنھوں نے انتخابات میں حساب چکا دیا۔
آج پی ایم ایل (ن) کے ساتھ بھی یہی کچھ ہورہا ہے۔ اس کے سامنے نہ میدان چھوڑنے کا آپشن بچا ہے ، نہ سیاسی شہادت کا۔ درحقیقت اس وقت ملک پر پی ایم ایل (ن) کی نہیں، خاندان اور دوست و احباب کی حکومت ہے ۔ اگرچہ وہ نہایت دل جمعی سے کام کرتے ہوئے پانی سر سے گزار چکے ہیں لیکن آج کوئی جنرل مشرف ہے نہ بارہ اکتوبر۔ نواز شریف تیسری مدت پوری کرنے جارہے ہیں۔ تاہم احساس ہوتا ہے کہ اقتدار سے قبل ازوقت رخصت ہونے سے ان کا سیاسی طور پر اتنا نقصان نہیںہوا تھا جتنا مدت پوری کرنے پر ہونے والا ہے۔ آج عمران خان پنجاب کی سڑکوں ،چوراہوں اورمیدانوںکو اپنی پچ سمجھ کر بھرپور بولنگ کا لطف لے رہے ہیں۔ پورا پنجاب ایک اسٹیڈیم ہے جس کے ہر اسٹینڈ سے ایک ہی نعرہ سنائی دیتا ہے۔ ’’گونواز گو‘‘۔ اس وقت قوم کے ساتھ شریف برادران بھی شدید ذہنی کرب میں مبتلا ہیں، لیکن کوئی جائے مفر باقی نہیں۔گزشتہ انتخابات میںپی پی پی کی پنجاب سے صفائی ہوچکی، اگلے انتخابات میں باقی کا کام بھی تمام ہوجائے گا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *