ملالہ ، نوبل انعام اور ہمارا رویہ

ڈاکٹر عائشہ صدیقہayesha

ملالہ یوسفزئی کو امن کا نوبل انعام کا حقدار قرار پانے کا اعلان کیا ہوا، ہم میں سے کچھ کے ضبط کے بندھن ٹوٹ گئے اور اُنھوں نے تنقیدکی توپوں کے دہانے وا کردیے۔ ایک خبطی شخص نے گفتگو کے ایک مقبول پروگرام میں سوال اٹھایا کہ اُس نوجوان لڑکی کا بطور مذہب اسلام اور شریعت کی پاسداری کا کیا معیار ہے۔ ایسا کہتے ہوئے وہ بھول گیا کہ پڑھنا اور علم حاصل کرنا وہ دو بنیادی اصول ہیں جن سے اسلام کا آغاز ہوا۔ اس کے علاوہ انسانیت اور مذہب( اس سے مراد ملائیت نہیں)کو ہم آہنگ کرنے کا بنیادی مقصد انسانی زندگی کو بہتری کی طرف گامزن کرنا ہے۔ یہ مقصد تعلیم کے بغیر پورا نہیں ہوسکتا۔ بہت سے لوگ اس لیے بھی پریشان ہیں کہ عبدالستار ایدھی جیسے افراد کی بجائے ملالہ کو امن کے نوبل انعام کا حقدار کیوں کر ٹھہرایا جاسکتا ہے۔کوئی جواب نہ بن پاتے ہوئے وہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ یہ سترہ سالہ نوجوان لڑکی ضرور غیر ملکی سازش کی ایک کڑی ہے۔ کچھ تو یہاں تک بات کرتے ہیں کہ جب وہ انعام اپنی گرد ن میں ڈالے وطن لوٹے گی تو پاکستان میں مغربی ایجنڈے کو آگے بڑھانے میں اپنا کردار ادا کرے گی۔
اس گتھی کو سلجھانے کے لیے قارئین کو بتانا چاہتی ہوں کہ امن کا نوبل انعام اور اسی طرح کے دیگر انعامات میں سیاسی حکمتِ عملی ہوتی ہے اور اس کا مقصد ایسے افراد کے کارناموں کی پذیرائی ہوتی ہے جو دنیاوی متاع کو نظر انداز کرتے ہوئے دنیا کے لیے اہم خدمات سرانجام دیں۔ ان انعامات کا مقصد اُس پوری قوم یا اُس معاشرے میں رہنے والے تمام افراد کو کوئی ممتاز حیثیت دینا نہیں ہوتا۔ ناروے کے اس انعام کا فیصلہ کرنے والی پانچ رکنی کمیٹی کے ارکان کو ملالہ کی قربانی اور تعلیم کے فروغ کے لیے کی جانے والی کوششوں نے اُسی طرح متاثر کیا جس طرح دنیا کے لاکھوں لوگوں کو۔ ایک مقصد کے لیے کی جانے والے جدوجہد نے جہاں ملالہ کو عالمی شہرت دلادی وہیں اُس سے اُس کا بچپن بھی چھین لیا۔ دکھی انسانیت کے لیے عبدالستار ایدھی کی خدمات بھی ناقابلِ فراموش ہیں، تاہم اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ ان کے ہوتے ہوئے ہم ایک سترہ سالہ لڑکی ، جو پورے حوصلے اور عزم کے ساتھ تاریکی کی قوتوں کے سامنے کھڑی رہی، کو نہ سراہا جائے۔ پھر ایک اور سوال اٹھایا جاتا ہے کہ جب پوری مغربی دنیا اُس کے ساتھ کھڑی ہے تو انتہا پسندوں کی مخالفت میں دلیری والی کیا بات ہے؟ یقیناًمغربی دنیا ملالہ کے ساتھ کھڑی ہے کیونکہ وہ ملالہ کے ذریعے لڑکیوں کو تعلیم کے مواقع فراہم کرنے کا ایک راستہ دیکھ رہے ہیں(اور یہ کوئی بری بات نہیں) لیکن اس دوران شاید کوئی بھی نہیں جانتا کہ اُس بچی کے دل پر کیا گزررہی تھی جب اُسے اپنا وطن چھوڑنا پڑا، اس کی زندگی خطرے میں رہی اور وہ تنہائی کا شکار ہوئی اور ، جیسا کہ میں نے پہلے کہا، اس سے بچپن چھن گیا؟
اس کے علاوہ ملالہ کے انعام پر چراغ پاہونے والی یہ بھی سوچیں کہ اُنہیں یا باقی دنیا کو عبدالستار ایدھی یا دوسروں کے لیے جان قربان کرنے والوں کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے اُنہیں انعامات سے نوازنے سے کس نے روکا ہے؟انعام چھوڑیں، بہتر ہوتا اگر ہم عبدالستار ایدھی اور ان کے اہلِ خانہ کو خوفزدہ کرکے ملک چھوڑ جانے پر مجبور نہ کرتے(چند سال پہلے اُنہیں اپنی جان کے خطرے کے پیشِ نظر ملک چھوڑ کر کہیں او ر پناہ حاصل کرنا پڑی تھی)۔ بہرحال ہماری طرف سے ملالہ پر الزام تراشی کی وجہ ملالہ نہیں بلکہ ہماری اپنی غلامانہ طرزِ فکرہے جو اس کے علاوہ کچھ اور نہیں سوچ سکتی کہ چونکہ ہمیں خدمات کا کوئی صلہ نہیں ملا، اس لیے اگر کسی اورکو انعام دیا جارہاہے تو یہ یقیناً’’مالکوں‘‘ کی کوئی چال ہوگی۔ دورِ غلامی میں پروان چڑھنے والی سوچ کئی نسلوں تک نہیں جاتی۔ یہ خدشہ بھی ہماری راتوں کی نیند حرام کر دیتا ہے کہ ایک دن وہ سترہ سالہ لڑکی کسی طلسمی جہاز پر پرواز کرتے ہوئے آئے گی اور ہمارے جوہری اثاثے اچک کرلے جائے گی۔ اس کے علاوہ مغربی طاقتوں کی طر ف سے اُسے انعامات سے نواز کر سامنے لانے کی ضرورت کیا تھی؟
یہ ہے ہماری بیمار اورمنقسم ذہنیت! ایک طرف ہم مغربی ممالک سے زیادہ سے زیادہ مالی امداد کے لیے مرے جارہے ہیں اور دوسری طرف اگر وہ انفرادی طور پر کسی خوبی کی وجہ سے کسی فرد کی پذیرائی کریں تو ہمیں ہول آنے لگتے ہیں۔ ہمارے معاشرے میں اُن افراد کی کمی بھی نہیں جو ملالہ کو ملنے والے نوبل انعام کو ڈاکٹر عبدالسلام کی فزکس کے میدان میں کی گئی تحقیق پر ملنے والے انعام کی طرح برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں کیونکہ ایسے لوگ ڈاکٹر صاحب کے عقیدے سے متفق نہیں ۔ میں ایک خاتون کو جانتی ہوں جو بلاتکان بولتی جاتی ہیں کہ ڈاکٹر عطاالرحمن کو نوبل انعام کا حق دار کیوں نہ گرداناگیا۔ اس دوران وہ یہ بھی سوچنے کی زحمت نہیں کرتیں کہ مسٹر عطاالرحمن اب تک سائنسی دنیا میں کون سی انقلاب آفرین پیش رفت لاپائے ہیں؟
یہ بھی ممکن ہے کہ ایسے دلائل کے پیچھے وہ قومی سوچ کارفرما ہو جوملک میں ایسے افراد کو انعامات حاصل کرتے دیکھتی ہے جن کے کریڈٹ پر اس کے کچھ نہیں ہوتا کہ اُنہیں اہم حلقوں کی اشیر باد حاصل ہوتی ہے۔ جہاں تک مسٹر ایدھی کا تعلق ہے تو کیا ہم اُنہیں کسی اور طریقے سے انعام سے نہیں نواز سکتے تھے؟میرا خیال ہے کہ نہیں کیونکہ پھر سماجی خدمات سرانجام دینے والوں کی لائن لگ جاتی او ر یہ فیصلہ کرنا مشکل ہوجاتا کہ کیا ایدھی صاحب کی خدمات زیادہ قابلِ تحسین ہیں یاحافظ سعید اور مولانا لدھیانوی کی جن کے فلاحی نیٹ کے پھیلنے پر ریاست بھی خوش ہے اور کچھ طاقتور ادارے بھی۔ ایدھی صاحب کی طرح جماعت الدعوۃ نے بھی بے سہارا بچوں کو گود لینے کا منصوبہ شروع کردیا ہے۔ میں نے ایک عورت ، جس کو تعلیم سے دور دور تک کوئی دلچسپی نہیں، کو جانتی ہوں جواپنے اہلِ خانہ کو ملالہ کی کتاب پڑھنے سے روکتی ہے ۔وہ ملالہ کو اس لیے دشمن قرار دیتی ہے کیونکہ وہ بیرونِ ملک رہتی ہے۔ تاہم یہی عورت اپنے بچوں کو اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے بیرونِ ملک بھجوانے کے لیے کچھ بھی کرسکتی ہے۔ ملالہ پر تنقید کرتے ہوئے یہ بھی بھلا دیا جاتا ہے کہ اس نوجوان لڑکی نے شہرت کی بلندی کے باوجود اپنی قومی اور ثقافتی شناخت کو نہیں اتار پھینکا۔ وہ اکثر پاکستان کی سکیورٹی کے پسِ منظر میں بیان دیتے ہوئے مغربی ممالک پر زور دیتی ہے کہ وہ اس کی سرزمین پر ڈرون حملے نہ کریں،حالانکہ اُسے خوش ہونا چاہیے کہ ڈرون اس گروہ ، طالبان، کو ہدف بنارہے ہیں جنھوں نے اُس کی جان لینے کی کوشش کی تھی۔
اگرچہ ہمارا دعویٰ ہے کہ ہمارا مذہب ہمیں انسان دوستی کا درس دیتا ہے لیکن ہم نوجوان لڑکی کو خود سے آگے نکلتے دیکھ کر چراغ پا رہے ہیں۔ ہم میں سے کتنے ہیں جنھوں نے موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بھی ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا ؟ کتنے والدین، چاہے اُنہیں کتنا بڑا معاوضہ کیوں نہ دیا جائے، اپنی اولاد کو کسی مقصد کی خاطر ایسے امتحان میں ڈالنے کی جرات کرسکتے ہیں؟اس دوران ہمیں کم از کم یہ بات فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ ہمارے بڑے بڑے جہادی رہنما، جنہیں بہت سے ممالک سے بھاری رقوم عطیہ کی جاتی ہیں، اپنے بچوں کو خود کش حملے کرنے نہیں بھیجتے ۔
’’گل مکئی‘‘ ضیا الدین یوسفزئی کی لالچی دنیا نہیں، جیتی جاگتی محبت ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان میں محبت اور انسانیت کی زبان سمجھنے والوں کی کمی ہے۔ اس لیے ہمارے معاشرے میں اس بات کی تفہیم دشوار سے دشوار تر ہوتی جارہی ہے کہ سوات میں رہنے والا ایک والد کس طرح اپنی بیٹی کو محض عالمی شہرت کے لیے طالبان دشمنی کے مہیب خطرے سے دوچار کرسکتا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ کچھ لوگ ملالہ کا انعام پسند نہ کریں لیکن یہ انعام ایک باپ اور ایک بیٹی کو ایک دوسرے سے محبت کا انعام بھی ہے اور اظہار بھی کہ کس طرح کسی مقصد کی خاطر لڑنے سے انسان اوجِ کمال تک پہنچ سکتاہے۔

نوٹ ! اس کالم کے جملہ حقوق بحق رائٹ ویژن میڈیا سنڈیکیٹ پاکستان محفوظ ہیں۔ اس کی کسی بھی صورت میں reproduction کی اجازت نہیں ہے

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *