دنیابھرسے

چین میں ’زیرو کووڈ پالیسی‘ کے خلاف غیر معمولی مظاہروں میں صدر شی سے مستعفی ہونے کا مطالبہ

Share

چین میں سخت کووڈ پابندیوں کے خلاف ہونے والے مظاہروں میں شدت آ گئی ہے اور کچھ افراد اس بارے میں کمیونسٹ پارٹی کے رہنماؤں کے خلاف اپنے غصے کا برملا اظہار کر رہے ہیں۔

ہزاروں مظاہرین نے شنگھائی میں سڑکوں پر مظاہروں میں شرکت کی جہاں بی بی سی نے پولیس کو مظاہرین کو گاڑیوں میں ڈالتے دیکھا۔

اس دوران طلبہ نے بیجنگ اور نینجنگ میں یونیورسٹیوں میں مظاہرے کیے۔

اس سلسلے میں تازہ ترین مظاہرہ شمال مغربی شہر ارومچی میں ہوا جہاں ایک عمارت میں آتشزدگی کے باعث دس افراد ہلاک ہوئے تھے اور  لوگوں نے ان کی ہلاکت کا سبب لاک ڈاؤن پابندیوں کو قرار دیا تھا۔

جہاں چینی حکام نے اس تاثر کی تردید کی ہے کہ کووڈ پابندیاں ان افراد کی ہلاکت کی وجہ بنی تھیں وہیں حکام نے جمعے کو رات گئے ایک غیرمعمولی معافی مانگی اور نظامِ زندگی معمول کے مطابق بحال کرنے کا اعادہ کیا اور کہا کہ قواعد میں سختی وقت کے ساتھ کم کر دی جائے گی۔

china

’شی جن پنگ، استعفیٰ دو‘

چین کے سب سے بڑے اور دنیا میں کاروباری اعتبار سے ایک مرکزی شہر کہلائے جانے والے شنگھائی میں جاری مظاہرے میں لوگوں کو یہ نعرہ لگاتے سنا جا سکتا ہے کہ ’شی جن پنگ، استعفیٰ دو‘ اور ’کمیونسٹ پارٹی، اقتدار چھوڑو۔‘

کچھ افراد نے خالی سفید بینر اٹھا رکھے تھے جبکہ دیگر افراد نے موم بتیاں جلائیں اور ارومچی کے متاثرین کے لیے پھول رکھے۔

چین میں ایسے مناظر خاصے غیر معمولی تصور کیے جاتے ہیں جہاں حکومت اور صدر پر کسی قسم کی تنقید سخت سزاؤں کا باعث بنتی ہے۔

تاہم تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حکومت نے بظاہر زیرو کووڈ پالیسی کے بارے میں بڑھتے خدشات کو بہت کم اہمیت دی ہے۔

یہ پالیسی براہ راست صدر شی جن پنگ سے منسوب کی جاتی ہے اور انھوں نے اس بارے میں دو ٹوک الفاظ میں کہا تھا کہ وہ اس سے کسی صورت پیچھے نہیں ہٹیں گے۔

شنگھائی میں مظاہرے کرنے والوں میں شامل ایک شخص نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ لوگوں کو سڑکوں پر دیکھ کر ’حیران بھی ہیں اور پرجوش بھی‘ اور ان کے مطابق یہ چین میں پہلی مرتبہ ہے کہ اتنے بڑے پیمانے پر مظاہرے دیکھنے کو مل رہے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ لاک ڈاوئن کے باعث وہ ’اداس، برہم اور مایوس‘ ہو چکے ہیں اور وہ اس کے باعث اپنی بیمار والدہ کی بیمار پرسی بھی نہیں کر پائے جو اس وقت کینسر کا علاج کروا رہی ہیں۔

مظاہرہ کرنے والی ایک خاتون نے بی بی سی کو بتایا کہ جب انھوں نے پولیس اہلکاروں سے پوچھا کہ وہ اس مظاہرے کے بارے میں کیا سوچتے ہیں تو انھوں نے کہا کہ ’ویسا ہی جیسا آپ سوچتے ہیں‘۔

تاہم انھوں نے کہا کہ ’کیونکہ انھوں نے یونیفارم پہن رکھا ہے اس لیے وہ اپنا کام کر رہے ہیں۔‘

اس کے علاوہ طلبہ کی ایسی تصاویر سامنے آئیں جن میں وہ ارومچی میں آتشزدگی سے متاثرہ افراد کے لیے موم بتیاں جلا رہے ہیں اور بیجنگ اور نینجنگ میں یونیورسٹیوں میں مظاہرے کر رہے ہیں۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے ایک طالبعلم نے کہا کہ دارالحکومت بیجنگ کی شنوا یونیورسٹی میں سینکڑوں افراد ایسے ہی ایک مظاہرے میں شریک ہوئے۔

یہاں مظاہرین نے ایسے چارٹ اٹھا رکھے تھے جن پر کچھ بھی نہیں لکھا ہوا تھا۔

یہ ایک ایسا مظاہرہ ہے جو چینی سینسرشپ کے خلاف جدوجہد کی علامت بن چکا ہے اور ان افراد کو آزادی اور جمہوریت کے حق میں ترانے گاتے بھی سنا گیا۔

ان مظاہروں کی ویڈیوز کی آزادانہ تصدیق کرنا مشکل ہے لیکن ان میں سے اکثر میں حکومت اور اس کے سربراہ پر غیر معمولی طور پر برملا اور براہ راست تنقید کی جا رہی ہے۔

china

’صدر شی پر تنقید ایک غیر معمولی عمل ہے‘

ارومچی میں آتشزدگی کا واقعہ ان متعدد چینی شہریوں کے لیے ایک ڈراؤنے خواب کی طرح تھا جو گذشتہ کئی ماہ کے دوران ان قواعد کے باعث متاثر ہو رہے تھے۔

کچھ اطلاعات کے مطابق یہ ایسا تھا کہ آپ اپنے ہی اپارٹمنٹ میں بند ہیں۔

حکام نے ان اطلاعات کی تردید کی ہے لیکن عوامی احتجاج اور بے چینی میں کمی نہیں آئی۔ یہ اس تمام اضطرابی صورتحال میں ایک اہم لمحہ بن گیا ہے۔

لاکھوں افراد تین سال سے روزانہ کووڈ ٹیسٹ کروانے اور ایک جگہ بند رہنے کے باعث پریشان ہیں۔

یہ غصہ چین کے ہر کونے تک پھیل چکا ہے چاہے وہ بڑے شہر ہوں یا دور دراز علاقے جیسے تبت اور سنکیانگ۔ اس کے علاوہ ان مظاہروں میں نوجوان یونیورسٹی طلبہ سے لے کر فیکٹری ورکر اور عام  شہریوں سمیت معاشرے کے ہر طبقے کی نمائندگی ہے۔

اس بارے میں غصہ بڑھنے کے بعد سے کووڈ کے قواعد کے خلاف مظاہروں میں تیزی دیکھنے کو ملی ہے۔ تاہم اس ماحول میں بھی حالیہ چند روز میں ہونے والے مظاہرے غیر معمولی ہیں کیونکہ ان میں لوگوں کی تعداد بھی بہت زیادہ دیکھنے کو مل رہی ہے اور شی جن پنگ اور حکومت پر براہ راست تنقید بھی واضح ہے۔

کچھ عرصہ پہلے تک صدر شی سے سینکڑوں افراد کا سڑکوں پر نکل کر اقتدار چھوڑنے کا مطالبہ کرنے کے بارے میں کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا لیکن بیجنگ برج پر ہونے والے ایک حالیہ مظاہرے نے سب کو حیران کیا اور اس کے باعث ان پر ہونے والی تنقید کی راہ ہموار ہوئی۔

اسی طرح دیگر افراد نے چینی جھنڈے بھی لہرائے اور قومی ترانہ بھی گایا کیونکہ اس کے بول دراصل انقلابی تصورات پر مبنی ہیں اور اس میں لوگوں کو ’اٹھ کھڑے ہونے‘ کا کہا جاتا ہے۔

یہ حب الوطنی کا مظاہرہ ہونے کے علاوہ ساتھی چینی شہریوں کے ساتھ بھائی چارے کا اظہار بھی ہے جو شی جن پنگ کی زیرو کووڈ پالیسی سے متاثر ہیں۔

زیرو کووڈ پالیسی دنیا کی بڑی معیشتوں میں آخری ایسی پالیسی ہے اور یہ چین کی جانب سے کم ویکسینیشن کے باعث لاگو کی گئی ہے اور اس کے ذریعے عمر رسیدہ افراد کو محفوظ رکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

اچانک لگائے جانے والے لاک ڈاؤن کے بارے میں ملک بھر میں برہمی کا اظہار کیا جاتا ہے۔

ان سخت پابندیوں کے باوجود چین میں اس ہفتے عالمی وبا کے آغاز کے بعد سے ریکارڈ کیسز سامنے آئے ہیں۔