سچ بولنے کی قدیم رسم

  حمید ہارون(سی ای او، ڈان نیوز)

hameed-haroon

گلوبلائزیشن کی اس دور نے کچھ پرانی رسموں کو ختم کر دیا ہے جو پرانے اصولوں کے ساتھ منسلک تھیں جن کے مطابق فری پریس کو ایک طرف تو حکومت پر نظر رکھنے والا ادارہ اور دوسری طرف ایک عام شہری کی پریشانی پر غصہ کے اظہار کا ذریعہ سمجھا جاتا تھا۔ ہم ڈان اخبار کی صورت میں سچ بولنے کی اس روایت کو جاری رکھنے کی کوشش میں ہیں۔ اس اخبار کی 70 سالہ تاریخ میں ہم نے ہمیشہ کوشش کی ہے کہ اسی پرانی طرز پر کھڑے رہ کر اپنے حریفوں کا مقابلہ کریں۔ ہمارے حریف کوئی اور نہیں بلکہ ریاستی ادارے اور سیاسی جماعتیں ہیں۔ اس کے باوجود ہم نے عقلی ذرائع سے جڑے رہنے کی ٹھانی ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہمارے بانی کوئی اور نہیں بلکہ قائد اعظم محمد علی جناح ہیں۔

ہم نے ہمیشہ کوشش کی ہے کہ سچ کا دامن تھامے رکھیں اور قانون کی ہر صورت پاسداری کریں۔ جیسے ہی ہمارا ڈان ایڈیشن اپنے 20ویں سال میں داخل ہوا، ہمیں اپنی تاریخ پر زیادہ تسلی اور اطمینان محسوس ہوا۔ ڈان اس وقت بھی پاکستان کا سب سے بڑا انگریزی زبان کا اخبار ہے۔ یہ پاکستان کے تمام انگریزی اخباروں سے بڑا میڈیا ذریعہ ہے۔ یہی لاہور اور اسلام آباد ایڈیشن کا بھی امتیاز ہے۔ لیکن اس امیاز کا مطلب یہ بھی ہے کہ ہمیں مزید ذمہ داری سے اپنے فرائض نبھانے ہیں۔ ہم اپنی کامیابی کا کریڈٹ لاہور اور ملک بھر کے دوسرے علاقوں کے ریڈرز کو دیتے ہیں اور اس وعدے پر قائم ہیں کہ ہم ہمیشہ سچائی کا دامن تھامے رکھیں گے۔

اس پرانی عادت کو برقرار رکھنے کے لیے ایک لچکدار ارینجمنٹ کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ کسی بھی میڈیا سورس کی طرح ڈان میں بھی بہترین انتظام کی اس رسم کو جاری رکھا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ، ہمیں اپنے عزائم اور ارادوں کو پختہ رکھنا ہے۔ پہلی نظر میں تو یہ سب چیزیں عجیب اور ناممکن دکھائی دیتی ہیں خاص طور پر نوجوان نسل کے لیے یہ واقعی ایک بڑی ذمہ داری ہے۔ اگر اس نئی نسل کو اپنے اثاثے کی پوری اہمیت کا اندازہ نہیں ہے تو پھر بھی یہ فری سوسائٹی کی آزادی اور اخلاقی کمٹمنٹ پر ڈٹی ہوئی ہے۔ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ اس نسل کو مزید تعلیم کی ضرورت ہے۔ میں کہتا ہوں کہ پاکستان کی اس نوجوان نسل کو اپنی سوسائٹی کو ری شیپ کرنے کے لیے تمام ممکن ریسوسز تک رسائی دی گئی ہے۔

اس مقصد کے لیے سچائی کے ساتھ جڑا رہنا ضروری ہے۔ سچائی کے دامن کے ساتھ جڑے رہنے کے لیے ڈان میں کس طرح کی ادارتی ارینجمنٹ موجود ہے؟ بنیادی طور پر جب ہمارے بانی قائد اعظم نے 1947 کو ڈان کی بنیاد رکھی تو ہم نے ایڈیٹوریل اور مینیجمنٹ کے فیصلوں کے بیچ ایک لائن بنائے رکھی ہے۔ مختصر یہ کہ پروفیشنل ایڈیٹرز کو ان کی صحافتی انٹگرٹی ، ان کی اہلیت ، غیر جانبداری، اور فئیر تبصرہ کرنے کی قابلیت کی بنیاد پر منتخب کرتے ہیں۔

منتخب ہونے کے بعد ڈان کے پروفیشنل ایڈیٹرز کی یہ ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ سارے آپریشنل فیصلے خود کریں جن کا خبریں اکٹھی کرنے کے عمل پر براہ راست اثر ہو۔ مینیج منٹ کے سٹاف کے پاس یہ حق نہیں ہے کہ وہ ایڈیٹوریل ایشوز پر اثر انداز ہو کر خبر میں کوئی تبدیلی کر سکیں۔ مسائل پیدا کرنے والی خبریں ایڈیٹر اور چیف ایگزیکٹو کے بیچ مشاورت کے بعد بعد طے کی جاتی ہیں اور یہ مشاورت بھی خبر شائع ہونے کے بعد ہوتی ہے۔ کوئی بھی ایسی انفارمیشن جو انتظامیہ شائع کرنا چاہتی ہے کو جنرل پالیسی معاملات کے ذریعے روکی جاتی ہے، اور ایڈیٹر اور ایگزیکٹو آفیسر اور پبلشر کے ساتھ مشاورت کے بعد جاری کی جاتی ہے۔

بورڈ آف ڈائریکٹرز کے چئیر مین کے علاوہ مینیجمنٹ کا کوئی بھی ممبر اس مشاورت کا حصہ نہیں بن سکتا اور نہ ہی کوئی شئیر ہولڈر یا کارپوریشن کا مشرکہ مالک اس مشاورتی عمل پر اثر انداز نہیں ہو سکتا۔ اس کا مطلب یہ ہو ا ایڈیٹوریل اور مینیجمنٹ کے بیچ اور کوئی بھی آدمی حائل نہیں ہو سکتا۔ ڈان کا ایڈیٹر اپنے اخبار کی مالی دلچسپیوں سے واقف ہوتا ہے اور خاص طور پر ایڈورٹائزنگ سیلز کے معاملے میں بہت احتیاط سے کام لیتا ہے۔ یہ سب عمل بھی مشاورت کے ساتھ ہی مسئلے کی اہمیت کے ساتھ ساتھ ریوینیو جنریشن پر نظر رکھتے ہوئے مکمل کیا جاتا ہے۔ اس مشاورتی عمل میں شامل دونوں پارٹیاں یعنی ایڈیٹر اور ایگزیکٹو آفیسر تھیوری میں اور اصلا اس مسئلے پر غور کرتے ہیں اور فری پریس کی اہمیت کو نظر انداز نہیں کرتے۔

ڈان کی کامیابی کی تازہ ترین کہانی پر سے میں نے پردہ اٹھانے کی کوشش کی ہے۔ یہ کوئی راکٹ سائنس نہیں ہے۔ پچھلے دو سو سال سے فری پریس بالکل اسی طرح ڈیزائن کی جاتی ہے۔ اس ملک میں جتنی مرضی تبدیلیاں آئی ہوں لیکن اس اصول کو ہم نے تبدیل نہیں ہونے دیا۔ ہم بامعنی طریقے سے اس ٹراڈیشن کا احترام کرتے ہیں۔ اسی وجہ سے ہم ہر خبر کے صحیح یا غلط ہونے کی پوری تسلی کرنے کے بعد کسی بھی سٹوری کو شائع کرتے ہیں۔ آج جب ریاستی ادارے ڈان کے پیچھے پڑے ہیں اور اس کے ایڈیٹوریل پریکٹس کے معاملے میں ناسمجھی کا الزام لگا رہے ہیں، ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ ملک کی حکومت اور ریاستی ادارے ایسے جوابات پیش کرتے ہیں جو سوچ سمجھ کے بغیر دیے جاتے ہیں اور زیادہ تر غلط ہوتے ہیں۔ ڈان میں کوئی بھی شخص اپنی پرفیکشن کا دعوی نہیں کرتا۔

اسی لیے پچھلے دنوں سکیورٹی معاملات پر ھائی لیول میٹنگ کی رپورٹ دیتے ہوئے ڈان اخبار کے ایڈیٹر کا کہنا تھا کہ : کوئی بھی میڈیا تنظیم اپنے معاملات کا اندازہ لگانے میں غلطی کر سکتی ہے اور اخبار کا اندازہ ہے کہ یہ سٹوری پوری احتیاط سے پروفیشنل طریقے سے معاملات کی مختلف ذرائع سے پوری جانچ پڑتال کے بعد فئیر اور متوازن صحافت کے اصولوں کو مد نظر رکھ کر پیش کی جا رہی ہے۔ ہمارے انہیں اصولوں کی پاستداری کی وجہ سے ڈان اخبار کو بہت عزت کی نگاہ سے نہ صرف پاکستان میں بلکہ دنیا بھر میں دیکھا جاتا ہے۔ ہم نے دو بار پرائم منسٹر کے آفس سے تردید بھی شائع کی ہے۔ میں یقین رکھتا ہوں کہ ڈان ایڈیٹر نے جب یہ کہا کہ سٹوری کی جانچ پڑتا کی گئی اور اس کی دوبارہ تصدیق بھی کی گئی تو انہوں نے مکمل طور پر سچ کہا ہے۔ میں یہ بھی مانتا ہوں کہ وزیر اعظم ہاوس سے تردید بھی کی گئی تھی۔

سابقہ حکومتوں کی طرح یہ حکومت بھی اس بات کی ذمہ دار ہے کہ دوسرے اداروں کے ساتھ مل کر پورے انصاف کے ساتھ مسئلے کا حل نکالے ۔ اور ہاں، ہمیں چاہیے کہ کسی بھی خبر کی تصدیق کے لیے تمام ممکن ذرائع استعمال کریں ، خبر کو متوازن بنائیں اور نیشنل سکیورٹی کی پیچیدگیوں کو بھی نظر میں رکھیں۔ لیکن ڈان اخبار میں ہم تمام الزامات کے خلاف اپنے دفاع کی تمام کوشش جاری رکھیں گے اور جھوٹ پر مبنی رپورٹنگ اور نیشنل سکیورٹی کی خلاف ورزی کے الزامات پر بھی اپنا دفاع کریں گے۔ نہایت افسوس کی بات ہے کہ یہ معاملہ ہماری سچائی کے ساتھ جڑے رہنے کی عادت کو تبدیل کرنے کی ایک کوشش ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *