اسے ایک دفعہ پڑھ لیں، آپ پٹرول پمپ والوں کے فراڈ سے بچ جائیں گے

A worker fills diesel in a vehicle at a fuel station in the western Indian city of Ahmedabad January 17, 2013. The government gave fuel retailers some leeway on Thursday to raise prices of heavily subsidised diesel, distancing itself from an unpopular policy ahead of elections while trying to revive an economy growing at its slowest pace in a decade. REUTERS/Amit Dave (INDIA - Tags: ENERGY BUSINESS)

اکثر لوگ جب اپنی کار میں پٹرول ڈلوانے کےلیے پیٹرول پمپ پر جاتے ہیں توعموما" مقدار کی بجائے قیمتاً پیٹرول کا آرڈر دیتے ہیں. مثلاً 500، 1000، 1500، 2000 وغیرہ وغیرہ. آپ کا آرڈر لے کر filler-boy آپ کو اپنی شفّافیت دِکھانے کےلیے گاڑی پر ہلکی سی تھپکی لگا کر یا میٹر کی طرف اشارہ کرکے پیٹرول ڈالنا شروع کرتا ہے اور آپ مطمئن ہو جاتے ہیں کہ آپ کو پورا پیٹرول ملے گا.جبکہ ایسا ہرگز نہیں ہے…
دراصل پیٹرول پمپ مالکان نے ناپ تول میں کمی کا ایک انوکھا طریقہ ایجاد کیا ہوا ہے. چونکہ لوگ اکثر قیمتاً آرڈر دیتے ہیں اور اکثر پیمانہ چیک کرنے والے متعلقہ محکمے کے اہلکاران بھی چیکنگ کے دوران ایک لیٹر کا پیمانہ بھر کے دیکھتے ہیں کہ مقدار پوری ہے یا نہیں لہذا پمپ مالکان نے اپنے میٹر 500، 1000، 1500، 2000 وغیرہ پر سیٹ کیے ہوئے ہیں. مثال کے طور پر اگر 500 روپے میں 7 یا ساڑھے 7 لیٹر پٹرول آتا ہے تو یہ لوگ اُسے 5 یا 6 لیٹر پر set کر کے آپ کو چونا لگا دیں گے. میٹر پر اُتنی ہی قیمت اور مقدار نظر آئے گی لیکن درپردہ ماپ تول میں کمی کی گئی ہوگی. اسی طرح 1000، 1500، 2000 روپے کی الگ الگ setting کی ہوتی ہے.یہ حقیقت تجربہ کر نے سے درست پائی گئی ہے. غیر مُصدّقہ اطلاع کے مطابق لاہور شہر میں ماسوائے ایک یا دو پیٹرول پمپس کے تقریباً تمام اِسی طرح کی ہیرا پھیری کر رہے ہیں.آپکے لیے مشورہ ہے کہ جب بھی پیٹرول ڈلوائیں تو قیمت کی بجائے مقدار کے لحاظ سے پیٹرول ڈلوائیں اور وہ بھی commom number میں نہیں. یعنی 5، 10، 15، 20 لیٹر میں نہیں بلکہ 7، 9، 13، 17، 23 وغیرہ وغیرہ جیسے un-common نمبر کا استعمال کریں. اس طرح آپ نقصان سے بچ جائیں گے.

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *