امریکا کے 45 ویں صدر کے بارے میں جانیے

مبین رشید

mubeen rasheed

چودہ جون 1946 کو پیدا ہونے والے ڈونلڈ ٹرمپ امریکا کے 45 ویں صدر منتخب ہوئے ہیں۔ وہ 20 جنوری 2017ء کو عہدہ سنبھالیں گے۔برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق جب ڈونلڈ ٹرمپ 13 سال کے تھے تو ان کے والد کو ان کے کمرے میں ایک بٹن سے کھلنے والا ایک چاقو ملا اور انھوں نے فوراً ان کی اصلاح کے لیے انھیں ملٹری سکول روانہ کر دیا۔ڈونلڈ ٹرمپ بیس بال ٹیم کے کپتان کی حیثیت سے اچھے کھلاڑی ثابت ہوئے اور انھیں صفائي ستھرائي کے لیے ‘نیٹ نیس اینڈ آرڈر’ کا اعزاز بھی ملا لیکن ملٹری اکیڈمی میں وہ قریبی دوست بنانے میں ناکام رہے۔انھوں نے 1964 میں سکول سے فارغ ہونے کے بعد گلیمر کی دنیا سے بہت زیادہ متاثر ہونے کے سبب ان کے ذہن میں فلم سکول جانے کا خیال مچلنے لگا۔ لیکن انھوں نے فورڈہم یونیورسٹی میں داخلہ لیا اور پھر دو سال بعد پینسلوینیا یونیورسٹی کے وارٹن بزنس سکول منتقل ہو گئے۔کالج ختم کرنے کے تین سال بعد ڈونلڈ ٹرمپ نیویارک شہر میں مین ہیٹن میں منتقل ہوئے۔ کوئنز سے تعلق رکھنے والے اس نوجوان کو نیویارک کے امرا میں گھلنے ملنے میں شروع میں مشکل ہوئی لیکن انھوں نے بہت سے معماروں کو اپنی بے باکی اور جسارت سے حیرت میں ڈال دیا۔انھوں نے ایک پیچیدہ ڈیل میں اپنے والد سے مالی امداد حاصل کرتے ہوئے سات کروڑ میں 42 ویں سٹریٹ پر واقع کموڈور ہوٹل خریدا۔ پھر انھوں نے اس عمارت کی از سر نو تعمیر کی۔ انھوں نے اسے دی گرانڈ حیات ہوٹل کے نام سے سنہ 1980 میں دوبارہ شروع کیا۔ یہ تجربہ بہت کامیاب رہا اور چونکہ ڈونلڈ نے 50 فیصد سود کی شرح رکھی تھی اس لیے پیسے ان کے پاس بڑی مقدار میں آنے لگے۔مین ہیٹن کے افق پر ٹرمپ ٹاور ایک نمایاں چيز ہے لیکن اس کی تعمیر کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ بہت سے تنازعات میں گھرے رہے۔ اس کی تعمیر میں بغیر قانونی دستاویزات والے پولینڈ کے مزدوروں نے اہم کردار ادا کیا۔ نیویارک ٹائمز نے اس جگہ موجود دو آرٹ ڈیکو کو منہدم کرنے کے لیے ٹرمپ کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ لیکن ایک بار جب 28 منزلہ عمارت تیار ہوگئی تو نیویارک کے میئر ایڈ کوچ سمیت سات سو مہمانوں نے مسٹر ٹرمپ کی پارٹی میں شرکت کی۔ جشن کے طور پر میڈیسن ایونیو پر 10 ہزار غبارے چھوڑے گئے۔ اس عمارت نے ٹرمپ کے نام کو مین ہیٹن میں مستحکم کر دیا اور وہ آج تک وہیں رہتے ہیں اور وہیں سے کام کرتے ہیں۔ٹرمپ کی پہلی کتاب ’دا آرٹ آف دا ڈیل‘ نومبر 1987 میں شائع ہوئی جس میں قارئین کو ان کی کامیابی کے راز بتانے کا دعویٰ کیا گیا۔ یہ کتاب نیویارک ٹائمز کی بیسٹ سیلر کتابوں کی فہرست میں 48 ہفتوں تک رہی جن میں سے 13 ہفتے سرفہرست رہی۔ اس کتاب سے نہ صرف ٹرمپ کو رائلٹی کی شکل میں لاکھوں ڈالر کی آمدنی ہوئي بلکہ ان کی شہرت بڑھ گئی۔ انھیں تجارت کے ہنر میں ایک عالمی علامت کے طور پر دیکھا جانے لگا اور انھیں ایک خود ساختہ شخص کے طور پر دیکھا جانے لگا۔ ٹرمپ آرگنائزیشن کے لیے آمدنی چھت چھونے لگی۔ آنے والے دنوں میں انھوں نے ٹرمپ ایئرلائنز شروع کی اور سینکڑوں عمارتیں تعمیر کیں اور اتنا منافع کمایا کہ انھوں نے اپنی یاٹ خریدی جس کا نام ’ٹرمپ پرنسیس‘ رکھا۔ٹرمپ کے لیے 1990 کی دہائی ان کی اہلیہ سے بہت ہی مہنگی طلاق پر ختم ہوئی کیونکہ ان کی اہلیہ کو ان کے معاشقے کا علم ہو گیا۔ڈونلڈ ٹرمپ کی مالیات میں 1990 کی دہائی کی کساد بازاری کے سبب کمی آ‏ئی اور اس کی وجہ سے نیویارک کا ریئل سٹیٹ بازار بہت زیادہ متاثر ہوا۔ ٹرمپ دو تہائي قرضوں کے سود کی ادائیگی وقت پر کرنے میں ناکام رہے۔ 1991 میں اٹلانٹک سٹی میں ٹرمپ کے تاج محل نے دیوالیے کا اعلان کیا۔ پھر سنہ 1992 میں ٹرمپ پلازہ اسی راہ پر چلا اور ان کے تجارت کے ماہر ہونے پر سوالیہ نشان لگ گئے۔ایک بار انھوں نے گلی سے گزرتے ہوئے ایک غریب آدمی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے قرضوں کے سبب اس شخص سے 90 کروڑ ڈالر زیادہ غریب ہیں۔1990 کی دہائی کے اوائل کے دھچکوں کے باوجود ٹرمپ نے اپنی زندگی کو راہ پر لانے کے لیے سخت اقدام کیے۔ انھوں نے اپنی یاٹ اور ٹرمپ ایئرلائنز کو فروخت کر دیا۔ غیر متوقع طور پر انٹرٹینمنٹ کے میدان میں قدم رکھا اور مس یونیورس کی فرنچائز خرید لی جس میں مس امریکہ اور مس ٹین امریکہ مقابلۂ حسن بھی شامل تھے۔ انھوں نے اپنی مالی پریشانیوں کے دوران اپنی دوسری کتاب ’دا آرٹ آف دا کم بیک‘ سے بھی فائدہ حاصل کیا۔ یہ کتاب بھی بیسٹ سیلر کی فہرست میں شامل رہی اور اس میں قرضوں سے باہر نکلنے، مارلا میپلز کے ساتھ مختصر (1993-97) ازدواجی زندگی کی پہیلیوں کی کہانی بیان کی گئی۔ ان سے ان کی دوسری بیٹی ٹیفینی ٹرمپ پیدا ہوئی۔جون 1999 میں ڈونلڈ ٹرمپ کے والد فریڈرک کرائسٹ ٹرمپ 93 سال کی عمر میں انتقال کر گئے۔ ورثے میں انھوں نے تقریباً 250 سے 300 ملین ڈالر چھوڑے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *