ملالہ کی علامتی اہمیت

نجم سیٹھیNajam Sethi

 ملالہ یوسفزئی امن کے نوبل انعام کی حقدار اس لیے قرار نہیں پائی کہ وہ ایک دلیر لڑکی ہے۔ اُس کی دلیری میںکوئی شبہ نہیں،لیکن پھر پاکستان کی لاکھوں دلیر لڑکیاں ہیں۔ ملالہ کو نوبل انعام اس لیے بھی نہیںملا ہے کہ وہ بچیوں کی تعلیم کے لیے جدوجہد کررہی تھی۔ بے شک وہ کررہی تھی لیکن پھر بیسیوں معلم اور اساتذہ ہیں جو بچوں کو زیور ِ تعلیم سے آراستہ کرنے کے لیے نہایت نامساعد حالات میں کام کررہے ہیں۔ اُنھوں نے بھی اپنی زندگیاں تعلیم کے فروغ کے لیے وقف کررکھی ہیں۔ ملالہ کو اس لیے بھی انعام نہیں ملا کہ وہ طالبان سے خائف نہیں ہوئی اور خود کو خطرے میں ڈالا۔ بے شک ایسا ہی ہوا تھا لیکن پھر ہزاروں فوجی، سیاسی کارکن ، صحافی اور قبائلی افراد ہیں جنہوں نے طالبان کیخلاف جدوجہدکرتے ہوئے اپنی زندگیاں قربان کی ہیں۔
ملالہ یوسفزئی، بہادراور پرجوش ہونے کے ساتھ ساتھ بہت روانی سے بات بھی کر لیتی ہیں۔وہ خواتین کے لیے انسانی حقوق اور آزادی کی بات کرتی ہیں۔ وہ عالمی شہرت کی بلندیوں کو اس لیے پہنچی کہ وہ معصومیت اور عدم تشدد کی علامت بن کر دھشت گردی، جنونیت اور انتہا پسندی ، جنھوںنے دنیا کو ایک خطرے میں مبتلا کررکھا ہے، کے خلاف مزاحمت کررہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کے ہیرو نیلسن منڈیلا، مارٹن لوتھ کنگ اور گاندھی ہیں جو عالمی سطح پر سچائی، امن ، مفاہمت اور مزاحمت کی علامت سمجھے جاتے ہیں۔ملالہ مغربی ممالک میں شہرت کی بلندیوں پر ہونے کے باجود اپنی مشرقی شناخت برقرار رکھے ہوئے ہے۔ ملالہ کو یہ حیثیت کیسے حاصل ہوئی؟کچھ مسلمانوں کاخیال ہے کہ مغربی طاقتوں نے اُس کو یہ شہرت اس لیے دی ہے کہ وہ اُسے اپنا مہرہ بناکر اسلام کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں۔ تاہم یہ بات کرنے والے بھول جاتے ہیں کہ ملالہ کو یہ شہرت دلانے والے مغربی ممالک نہیں بلکہ طالبان ہیں۔یہ طالبان ہیں جنھوں نے سب سے پہلا ملالہ کومزاحمت، تعلیم ، آزادی اور انسانی حقوق کی طاقتور علامت کے طور پر پہنچانا اور اُسے ان کاموں سے باز رکھنے کی کوشش کی۔ اُس وقت ملالہ کو کسی طاقت کی حمایت حاصل نہ تھی اور وہ سوات میں رہتے ہوئے طالبان کے سامنے سرکشی کے نتائج سے آگاہ تھی۔ جب ملالہ پر پاکستانی میڈیا کی نظر پڑی تو طالبان نے اُس کی جان لینے کی کوشش کی۔ اب وہ جب بھی پاکستان آئے گی، طالبان اُس کی جان لینے کی کوشش کریںگے۔
کچھ مسلمانوں کا کہنا ہے کہ فاٹا میں جو درجنوں بچے امریکی ڈرون حملوں میں یتیم ہوئے، ان کی اس طرح عزت افزائی کیوں نہیں کی جاتی؟ اُن کا موقف ہے کہ صرف ملالہ کو اس طرح شہرت دینے سے مغربی استعماریت کے سیاسی نظریے کی بو آتی ہے، کیونکہ وہ اپنے شکار کو مزید گھیرنے کیلئے پہلے اُسے ممتاز حیثیت دیتے ہیں۔ تاہم ایسا سوچنے والے بھول جاتے ہیں کہ طالبان کی طرف سے پاکستان بھر میں اسکولوں اور عوامی مقامات پربم دھماکے کرنے سے ہزاروں معصوم بچے ہلاک ہوچکے ہیں۔ اگر ملالہ کو ممتاز حیثیت دینا کوئی غیر ملکی سازش ہے تو اس کی ذم داری بھی طالبان کے سر عائد ہوتی ہے۔
مغربی ممالک نے ملالہ کو ایک ہیروئن کا درجہ اس لیے دیا کیونکہ اس نے سوات میں اسلام اور جمہوریت کے خلاف جنگ کرنے والے طالبان کے سامنے کھڑے ہوکر پرامن طور پر انسانی حقوق اور تعلیم کے لیے جدوجہد کی۔ وہ لوگ جو ان مقاصد کی حمایت کرتے ہیں، اُنہیں ملالہ کو ملنے والے انعام کا کھلے دل سے خیر مقدم کرنا چاہیے حالانکہ مغربی میڈیا میں پاکستان اور اسلام کے خلاف بہت کچھ کہا جاتا ہے۔ امن کے نوبل انعام کا فیصلہ کرنے والی کمیٹی نے ایک کم مشہور بھارتی شہری، کیلاش ستیارتھی، کو بھی بچوں کے حقوق کیلئے کام کرنے پر ملالہ کے ساتھ مشترکہ طور پر انعام کا حقدار قرار دیا۔ نوبل انعام کی کمیٹی کے چیئرمین مسٹر تھروب جورن جگ لینڈ (ThorbjornJagland)نے کہا…’’اہم بات یہ ہے کہ ایک پاکستانی مسلمان اور ایک انڈین ہندو تعلیم کے لیے اور انتہا پسندی کے خلاف جدوجہد کررہے ہیں۔‘‘یہ حوالہ بہت اہمیت کا حامل ہے۔ نوبل انعام کمیٹی نے ایک ہندو اور ایک مسلمان کے مقاصد کو ہم آہنگ کرتے ہوئے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ دشمنی کے باوجود ان دونوں ممالک کے مفادات میں یکسانیت ہے۔ یہ دونوں جوہری طاقتیں آزادی کے بعد اب تک چار بڑی جنگیں لڑچکی ہیں جبکہ لائن آف کنٹرول پر فائرنگ اور جھڑپوں کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔ آج بھی سرحد کے آرپار گولہ باری ہورہی ہے۔ اس وقت بھارت میں ایک انتہا ئی نظریات رکھنے والا ہندو وزارت ِ اعظمیٰ کے منصب پر ہے اور وہ امن کی بجائے جنگ کی باتیںکررہا ہے۔ دوسری طرف پاکستان میں اسلامی انتہا پسند آہستہ آہستہ اپنی جڑیں مضبوط کررہے ہیں۔ ان قوتوں کا مفاد اسی میں ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی میںاضافہ ہو۔ ان حالات میں ملالہ اورکیلاش کو مشترکہ طور پر انعام ملنا ایک اچھی پیش رفت کا باعث ہوسکتا ہے۔
ملالہ یوسفزئی دوسری پاکستانی ہیںجنہیں نوبل انعام ملا۔ پہلے شخص ماہر ِ طبیعات پروفیسر عبدالسلام تھے۔ پاکستانی تاریخ کی ستم ظریفی یہ ہے کہ ملک میں عبدالسلام صاحب کی خدمات کو تسلیم نہ کیا گیا کیونکہ ان کا تعلق احمدی فرقے سے تھا۔ پاکستان میں احمدیوں کو غیر مسلم قرار دیا جاچکا ہے۔اب ملالہ کے ساتھ بھی یہی سلوک کیا جارہا ہے۔ وہ بھی مغربی ممالک میں پناہ لینے پر مجبور ہے کیونکہ اسے طالبان انتہا پسندوںاور مذہبی جنونیوں سے خطرہ ہے۔ اب وہ شاید ہی پاکستان کی سرزمین پر کبھی قدم رکھ پائے۔ اس لیے مغرب پاکستانی شخصیات کی جیسی بھی عزت افزائی کرتا رہے، اُن کی ملک میں کوئی جگہ نہیں کیونکہ یہاں انسان ہی انسانوں کے عقائد کی جانچ کرتے ہیں۔ پاکستانیوں کے لیے بہتر ہوگا کہ وہ بیرونی طاقتوں کو مورد ِ الزام ٹھہرانے کی بجائے اپنے اوپر بھی کبھی غور کرلیاکریں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *