پاکستان کے کامیاب ’’جزیرے‘‘

یاسر پیر زادہYasir Pirzada

کیا تین گھنٹے میں کوئی انسان اپنی جُون بدل سکتا ہے ؟ ہر گز نہیں ‘تین گھنٹے تو کیا جُون بدلنے کے لئے تمام عمر بھی ناکافی ہے مگر ہم پاکستانیوں نے اس ناممکن کام کو بھی ممکن کر دکھایا ہے‘ لاہور سے دبئی کی پرواز پکڑیں ‘ تین گھنٹے بعد دبئی کے ہوائی اڈے پر اتریں ‘ یقین مانیں کہ اس مختصر مسافت کے بعد آپ کی جُون تبدیل ہو چکی ہوگی ۔آپ اجازت نامے کے بغیر گاڑی نہیں چلائیں گے ‘ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی نہیں کریں گے‘ بجلی چوری کرنے کا کوئی طریقہ ایجاد نہیں کریں گے ‘ قطار میں لگ کر اپنی باری کا انتظار کریں گے ‘شراب پی کر غل غپاڑہ نہیں کریں گے اور اگر پولیس نے پکڑ لیا تو اسے اپنے عہدے کا حوالہ دے کر دھمکیاں نہیں دیںگے ‘جھوٹا مقدمہ درج کروا کے اپنے مخالفین کو بلیک میل کرنے کا آئیڈیا بھی آپ کے دماغ میں نہیں آ سکے گا ‘راہ چلتی لڑکی کوگھور تے ہوئے اس کا ایکس رے کرنے کی جرات نہیں کریں گے ‘کسی کو عقیدے کی بنیاد پر قتل کرنے کا تصور ہی آپ کے رونگٹے کھڑے کر دے گا‘حتّیٰ کہ سڑک پر کاغذ پھینکنے سے پہلے بھی دس دفعہ سوچیں گے کہیں کوئی دھر نہ لے !
کیا وجہ ہے کہ پاکستان میں دھڑلے سے قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے پڑھے لکھے اور ان پڑھ ‘ امیر اور غریب ‘ سرکاری افسر اور جاگیردار ‘سب کے سب فقط تین گھنٹے کے اندر دبئی پہنچتے ہی’’انسان‘‘ بن جاتے ہیں؟کیا وجہ ہے کہ پاکستان میں موٹر وے پر گاڑی چلانے والا ڈرائیور ٹریفک کی خلاف ورزی نہیں کرتا مگر جونہی وہ ڈرائیور موٹر وے سے باہر نکلتا ہے اس کی جُون تبدیل ہو جاتی ہے اوروہ پھر سے ’’حیوان‘‘ بن جاتا ہے ؟ کیا وجہ ہے کہ اسی پاکستان میں تمام تر مشکلات کے باوجود ریسکیو 1122 بین الاقوامی معیار کے قریب ترکام کر رہا ہے اور اس کی گاڑیاں بر وقت پہنچ کر کئی قیمتی جانیں بچانے میں کامیاب ہو جاتی ہیں ؟ کیا وجہ ہے کہ اسی پاکستان میں نادرا جیسا ادارہ بھی موجود ہے جہاں آپ کو احساس ہوتا ہے کہ اگر کوئی اس ملک میں سسٹم بنانا چاہے تو یہ کوئی نا ممکن بات نہیں ؟ کیا وجہ ہے کہ یہاں پنجاب ایجوکیشن انڈومنٹ فنڈ جیسا ادارہ بھی موجود ہے جس نے ایک شفاف نظام کے تحت نادار مگر ذہین طلبا کو وظیفہ دینے کا ذمہ اٹھا رکھا ہے اور اس نظام میں اب تک کوئی خرابی واقع نہیں ہوئی ؟کیا وجہ ہے کہ گورننس کے تمام تر مسائل کے باوجود پاکستان کا بینکنگ سسٹم دنیاکے بیشتر ہم پلہ ممالک سے کہیں بہتر ہے ؟ اور کیا وجہ ہے کہ اس منافق معاشرے میں بھی بے شمار افراد اور ادارے ایسے ہیں جو بناکسی لالچ اور سیاسی عہدے کی تمنا کے غریبوں ‘بیماروں‘ بوڑھوں‘ عورتوںاور لا وارث بچوں کی کفالت‘ علاج اور تعلیم کا بندو بست کرتے ہیں اور اس کام کے لئے وہ بغیر حکومتی سرپرستی کے کچھ نہ کچھ نظام بنانے میں بھی کامیاب ہو چکے ہیں؟وجوہات فکر انگیز بھی ہیں اور دلچسپ بھی!
موٹر وے ‘ نادرا اور1122جیسے جزیرے اس ملک میں کیوں کر کامیاب ہیں ‘ اس کی تین بنیادی وجوہات ہیں۔ پہلی ‘جب بھی کسی ادارے کی شکست و ریخت کا عمل شروع ہوتا ہے تو اس کے چار مرحلے ہوتے ہیں ‘پہلے مرحلے میں معمول کی کوتاہیاں شروع ہوتی ہیں ‘اکا دکا ملازم تاخیر سے دفتر آتے ہیں تاہم دفتر میں کام کا حرج نہیں ہوتا اور مطلوبہ نتائج بھی با آسانی حاصل ہو جاتے ہیں ‘دوسرے مرحلے میں نظم و ضبط کی خلاف ورزیاں بڑھ جاتی ہیں ‘اکا دکا ملازمین کو دیکھ کر دوسرے خربوزے بھی رنگ پکڑ لیتے ہیں ‘ ادارے کے معمولات متاثر ہونے لگتے ہیں اور اس کا معیار متاثر ہونا شروع ہو جاتا ہے ‘اگر بروقت اقدامات نہ کئے جائیں تو ادارہ خرابی کے تیسرے مرحلے میں داخل ہوجاتا ہے ‘اس سٹیج پر ادارے کی کارکردگی واضح انداز میں تنزلی کی طرف جاتی دکھائی دیتی ہے اور دفتر میں ڈسپلن نظر نہیں آتا‘ تاہم ماضی کے مروجہ اصولوں پر کسی حد تک کاربند رہنے کی بنا پر ادارہ مکمل تباہی کا شکار نہیں ہوتا‘اس مرحلے پر اگر چند سخت اقدامات کر لئے جائیںاور نا خلف ملازمین کو برخواست کر دیا جائے ‘ مروجہ نظام کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کر لیا جائے تو قوی امکان ہے کہ ادارہ کم از کم پہلے مرحلے تک واپس آ جائے گا ۔چوتھے مرحلے میں ایسا کرنا ممکن نہیں رہتا ‘ ادارہ مکمل طور پر تباہ ہو جاتا ہے ‘ سسٹم نام کی کوئی چیز باقی نہیں رہتی ‘ کسی ملازم کو سزا دینا تو دور کی بات سرزنش کرنے کا عمل بھی نا ممکن بن جاتا ہے ‘ یہ وہ مرحلہ ہوتا ہے جہاں لاکھ کوشش کے باوجود ادارے کو دوبارہ اپنے پائوںپر کھڑا نہیں کیا جا سکتا ‘واحد حل ادارے کو ختم کرکے اس کی جگہ ایک نیا ادارہ کھڑا کرنا رہ جاتا ہے ۔پاکستان میں زیادہ تر ادارے تیسرے اور چوتھے مرحلے میں ہیں ‘ یہی وجہ ہے کہ جب ہم کسی ایسے ادارے میں اصلاحات کرنے کا بیڑہ اٹھاتے ہیں جو چوتھے مرحلے میں داخل ہو چکا ہوتا ہے تو اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا ‘اسی لئے فرسودہ ایمبولینس سسٹم اور شہری دفاع کے ناکارہ محکموں کو بحال کرنے کی بجائے 1122کی شکل میں نیا ادارہ بنایا گیا ‘نئی بھرتیاں کی گئیں ‘ ان کی معقول تنخواہ کے لئے علیحدہ بجٹ مختص کیا گیا ‘ اس کے بعد اس ادارے نے کام شروع کیا ۔
صرف نیا ادارہ بنانے سے مسئلہ حل نہیں ہوتا کیونکہ آئے روز نئے محکمے اور ادارے وجود میں آتے ہیں مگر ان کی کارکردگی اس معیار کی نہیں ہوتی جیسے توقع کی جاتی ہے‘ یہیں سے دوسری وجہ شروع ہوتی ہے ۔نئے اداروں میں ایک نیا کلچر متعارف کروانے کی ضرورت ہوتی ہے ‘ ایسا کلچر جہاں سفارش اور بدعنوانی کا کوئی تصور نہ ہو ‘جہاں موٹر وے پولیس کا انسپکٹر چالان کرے تو اسے یہ خوف نہ ہو کہ چالان کنندہ اس کی پیٹی اتروا دیگا‘ اس کلچر کو متعارف کروانے کیلئے ضروری ہے کہ سیاسی قیادت اس بات کو یقینی بنائے کہ ادارے میں کوئی مداخلت نہیں کی جائے گی ‘اس مقصد کیلئے ظاہری طور پر کچھ اقدامات کئے جاتے ہیں مثلاً وزیر اعظم کا موٹر وے پر حد رفتار سے تجاوز کرنے پر چالان ! اخبارات میں یہ خبر لگوائی جاتی ہے تاکہ تمام لوگوں کو تاثر ملے کہ اگر وزیر اعظم کا چالان ہو سکتا ہے تو کم از کم موٹر وے پر کوئی قانون سے ماورا نہیں ۔
عملاً بھی افسران کو یہ باور کروا دیا جاتا ہے کہ یہاں کسی قسم کی سفارش یا بدعنوانی برداشت نہیں کی جائے گی ‘ ابتدا میں یہ کلچر متعارف کروانے کے لئے کوشش کرنی پڑتی ہے‘ پھر لوگ اسے چیلنج کرنا چھوڑ دیتے ہیں ‘یہی وجہ ہے کہ اب موٹر وے پر کوئی اپنا تعارف کروا کے چالان معاف کروانے کی بیکار کوشش نہیں کرتاجبکہ شہر کے اندر یہ حربہ کامیاب ہے!ان ’’جزیروں ‘‘کی کامیابی کی تیسری وجہ خاصی دلچسپ ہے ۔نادرا ‘ 1122اورموٹر وے جیسے ادارے اس لئے بھی کامیاب ہیں کیونکہ ان کی کارکردگی کی وجہ سے طاقتور سیاسی گروہوں یا مافیاز کے مفادات پر براہ راست کوئی زد نہیں پڑتی‘ 1122اپنا کام مستعدی سے کرے ہر کوئی خوش ہوگا‘ موٹر وے پر ٹریفک قوانین پر عمل درآمد کو یقینی بنانے سے کسی ملٹی نیشنل کمپنی کا منافع یا کسی ایم این اے کا ووٹ بنک کم نہیں ہوتا ‘ نادرا میں سمارٹ کارڈ سہولت سے بن جائے کسی قبضہ گروپ کی صحت پر اثر نہیں پڑتا …لیکن ایف آئی اے ‘ پولیس ‘ تعلیم اور صحت کے محکموں میں اس قسم کے جزیرے بنانا جوکھم کا کام ہے جہاں بھانت بھانت قسم کے مافیاز سرگرم عمل ہیں ۔تاہم شروعات تو کرنی پڑے گی توکیوں نہ وفاقی دارلحکومت سے کی جائے !وہاں ایک نئی پولیس فورس کھڑی کی جائے ‘ فرسودہ محکمہ پولیس سے ڈیپوٹیشن پر کوئی افسر یا سپاہی نہ لیا جائے‘ البتہ انہیں اس فورس میں اسی طرح اپلائی کرنے کی اجازت ہو جیسے کسی بھی اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان کو‘ ان کی تنخواہیں معقول ہوں ‘ ان کی ڈیوٹی کے اوقات بین الاقوامی اصولوں کے مطابق ہوں ‘ ان کی تربیت سکاٹ لینڈ یارڈ سے کروائی جائے ‘ ان کی ترقی ‘ کارکردگی اور جوابدہی کے عمل کا روایتی پولیس کے محکمے سے کوئی تعلق نہ ہواور سب سے بڑھ کر وہاں نیا کلچر متعارف کروایا جائے جو موٹر وے پولیس میں ہے ۔کام مشکل ضرور ہے مگر نا ممکن نہیں ‘وزیر داخلہ چاہیں تو ہو سکتا ہے!

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *