ذرا عمرِ رفتہ کو آواز دینا

انجم نیازAnjum Niaz

امریکہ میں صدر اوباماسے لے کر عام شہری تک سب ہلاکت خیز ایبولا وائرس سے خائف ہیں۔ جب سے امریکہ میں ایبولاوائرس کا تیسرا کیس منظرِ عام پر آیا ہے، سٹاک ایکس چینج میں پانچ سو پوائنٹ کی کمی واقع ہوچکی ہے۔ سٹاک مارکیٹ کے نروس ہونے کی وجہ یہ ہے کہ سرمایہ کاراس بیماری سے خائف ہیں جس کی وجہ سے مغربی افریقہ میں کئی ہزار افرا د ہلاک ہوچکے ہیں۔ اس وائرس کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ی کی جارہی ہے۔ ا س کا علاج دشوار ہے اور ہلاکت کاخدشہ زیادہ ۔
فی الحال ایبولا کو ایک طرف رکھتے ہوئے امریکہ میں طبی میدان کی اہم پیش رفت منظرِ عام پر آ رہی ہے۔ کیے جانے والے تجربات کا محور امریکیوں کو نوے سال کی عمر تک جسمانی اور ذہنی طور پر فٹ رکھنا ہے۔ چونکہ امریکہ میں نوجوانی کی قدر ہے، اس لیے آدمی اور عورتیں ہر جتن کر کے جوان رہنے کے آرزو مند ہیں تاکہ وہ معاشرے کے لیے اپنی اہمیت اور قدروقیمت برقرار رکھیں۔ ان تجربات کی روحِ رواں بائیو ٹیکنالوجی اور فیس کریمز ہیں۔ دنیا میں زیادہ معمر افراد جوان دکھائی دینے کے لیے چہرے کی جھریوں کو ہموار اور جسم سے زائد چربی زائل کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ دولت مند معمر افراد اکثر اپنی عمر سے نصف کی عورتوں کے ساتھ دوستی کرنا چاہتے ہیں۔ شاید وہ سوچتے ہیں کہ یوتھ اور ایج کا ملاپ بہت انوکھے نتائج کا حامل ہوتا ہے۔ ویسے بھی تازہ خون کی مہک ایک معمر اور درویش صفت شیر (پلیز) کو بھی آدم خور بنا کر لپکنے جھپکنے پر آمادہ کردیتی ہے۔
نوجوان چوہوں کاخون معمر چوہوں کو لگاکر تجربات کیے گئے تو بہت ہی حوصلہ افزاء نتائج نکلے۔ نوجوان خون اور تجربہ کار ذہن ... کیا کہنے اس ادغام کے!فی الحال تجربات چوہوں پر ہورہے ہیں ۔ دیکھا گیا کہ معمر چوہے نوجوان خون کے ساتھ ذہنی فعالیت اور جسمانی چستی کا بہت عمدہ ملاپ ثابت ہوتے ہیں۔ دولت مند افراد ان تجربات پر نظر جمائے ہوئے ہیں۔ اب لگتا ہے کہ انتظار کی گھڑیاں ختم اور انسانوں پر تجربات شروع ہونے کو ہیں۔ اس اکتوبر میں معمر افراد کے جسموں میں نوجوان خون کے پلازمے داخل کیے جائیں گے۔ فی الحال ان تجربات کا محور جسمانی خوبصورتی نہیں بلکہ جسم کی طبی استعداد کو بڑھانا ہے۔
سٹن فورڈ سکول آف میڈیسن کی ایک ٹیم تیس سال سے کم عمر افراد کے خون کے پلازمے معمر افراد کے جسم میں داخل کرے گی۔ چوہوں کے جسم پر یہی تجربات کرنے والے ماہرین کی ٹیم کے سربراہ ٹونی ویس کورے(Tony Wyss-Coray) کا کہنا ہے...’’میرا خیال ہے کہ یہ طریقہ بہت سے حوالوں سے مفید ثابت ہوگا۔خون ہی نوجوانی کا سرچشمہ ہے اور یہ سرچشمہ ہمارے اندر ہے۔ تاہم عمر گزرنے کے ساتھ ساتھ اس میں کمزوری آتی جاتی ہے۔ ‘‘کیلی فورنیا کا ادارہ،SENS Research Foundation ، جسے غیر نفع بخش بنیادں پر چلایا جارہا ہے، بھی بڑھاپے کے خلاف جنگ کرنے میں مصروف ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ دنیا کو بڑھاپے سے پاک کیا جاسکتا ہے۔ ان کی تحقیق کا محور ایسی بیماریوں کا تدارک ہے جس سے جسم کے سیل اور ٹشوز کمزور ہوکر بڑھاپے کا باعث بنتے ہیں۔ وہ دنیا سے بڑھاپا ختم کرنے کی ’’ صنعت‘‘ کو فروغ دینے کے لیے پرعزم ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ مستقبل میں یہ ایک انتہا ئی اہم صنعت بننے والی ہے۔
ہم میں سے زیادہ تر یہ محسوس کرتے ہیں کہ گزرتے ہوئے ماہ وسال زندگی کے لطف کو ایک معمول میں بدل کر بے کیف کردیتے ہیں۔ ہم دیکھتے رہتے ہیں یہاں تک کہ دن ہفتوں میں اور ہفتے مہینوں اور سالوں میں بدل کر ہمارے نظر سے اوجھل ہوجاتے ہیں۔ ہم خالی ہاتھ کھڑے اس سفر کو دیکھتے رہتے ہیں جس کے ہم مسافر ہیں۔ اس سفر کو سکوت تیز اور حرکت سست کردیتی ہے۔ تاہم جب ہمیں اس حقیقت کا علم ہوتا ہے، ہم نہ حرکت کے اہل ہوتے ہیں نہ سکوت۔ جب امریکہ میں موسمِ بہار تیزی سے گزرجاتا ہے، توامریکی باہر گہری ہوتی ہوئی دھند دیکھ کر سوچتے ہیں کہ ان کے دھوکہ ہوگیاہے۔ جب موسمِ بہار ہوتا ہے تو ہم سفر کی تیار ی میں مصروف ہوتے ہیں لیکن جیسے ہی تیاری مکمل ہوتی ہے، بہار گزر جاتی ہے۔ بہار میں موسم اتنی تیزی سے کیوں گزرجاتا ہے یا ہر موسم سرما(امریکہ میں)سست وقت کا حامل کیوں ہوتا ہے؟کیا موسم کا وقت کے بہاؤ پر بھی اثر ہوتا ہے؟شاید معروضی وقت پر نہیں لیکن داخلی وقت اس سے ضرور متاثر ہوتا ہے۔
اب امریکہ میں موسمِ خزاں کی آمد ہے۔ ہوا کے جھونکے زرد پتوں کو ہلاتے ہوئے گرارہے ہیں۔ زردپتوں کی بارش دیکھ کر ہمیں بھی یاد آتا ہے کہ بہار تمام ہونے کو ہے۔ انسان بہت جلد وقت کے یک طرفہ دریا میں اکیلا بہتاہوا موت کے سمندر میں ڈوب جاتا ہے۔ اس کے ساتھ اور بھی ہوتے ہیں لیکن بہاؤ اور غرقابی میں کوئی ساتھی نہیں۔ جب معمر افراد پتوں کا گرنا دیکھتے ہیں تو وہ اداسی سے سوچنے لگتے ہیں کی بھی اسی طرح باری آنے والی ہے۔ گھر کے قریب Park Savoy میں شادی ہے۔ مہمان دلہا اور دلہن کااستقبال کیا جارہا ہے۔ سڑک کے دوسری طرف ایک گھر میں کوئی شخص فوت ہوگیا ہے۔ پارک کے دوسرے میں حصے میں تعزیت کے لیے آنے والے جمع ہیں۔ کتنا تضاد ہے!
بعض اوقات ایک دن بھی گزارنا مشکل ہوت ہے لیکن سالوں کے حوالے سے زندگی مختصر معلوم ہوتی ہے۔ اس میں جوانی کا دور اور بھی مختصر ہوتا ہے۔ تاہم اگر اس میں بیس تیس سال کا مزید اضافہ ہوجائے تو اسے غنیمت سمجھنا چاہیے۔ خون میں جوان پلازمے شامل کر کے انسانوں کی جوانی میں اضافہ کیا جارہا ہے۔ ستر، اسی یا نوے سال تک جوان رہنا اس وقت امریکی ڈریم ہے۔ اب وہ دنیا کو فتح نہیں کرنا چاہتے کیونکہ افغانستان نے اُنہیں تھکا دیاہے۔ اب وہ جوان ہونا چاہیں گے اور جوانی صرف جنگ و جدل کرنے کا ہی نام نہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ بوڑھے اور شکست خوردہ اس دنیا کے لیے کوئی اہمیت نہیں رکھتے۔ اس لیے وہ نہ شکست کھانا چاہتے ہیں اور نہ ہی بوڑھا ہونا۔جنگ سے بچنا ممکن ہے، لیکن عمر کا بہاؤ کیسے روکا جائے؟ یہاں سائنسی پیش رفت سے استفادہ کیا جائے گا۔
وہ لوگ ، جو تجربات کی اس دنیا سے دور ہیں، کے لیے مشورہ کہ فی الحال دنیا کے ہمارے حصے میں خون (اگر مچھر سے بچ گیا) میں کسی پلازمے کے دخول کا امکان نہیں، اس لیے اگر وہ دوبارہ جوان ہونا چاہتے ہیں تو خود کو طالبِ علم سمجھنا شروع کردیں کیونکہ کتابیں بھی انسان کو جوان بنا سکتی ہیں۔ ہر وہ چیز جس کے لیے مسلسل جدوجہد کرنے پڑے، آپ کو دیر تک جوان رکھ سکتی ہے۔ چونکہ ہم پاکستانی کتابوں سے دور رہے ہیں، اس لیے کتابیں پڑھنا اور اُنہیں سمجھنا ہمارے لیے جہدِ مسلسل کے مترادف ہی ہے۔ چنانچہ آپ پھر سے جوان ہونا چاہتے ہیں۔ بسمہ اﷲ، میڈیکل سٹور نہیں، کسی کتابوں کی دکان کا رخ کیجئے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *