ٹرمپ کا ٹرمپ کارڈ

saleem-safi
دنیا انہیں بے وقوف سمجھ رہی تھی حالانکہ دنیا کو انہوں نے بے وقوف بنایا ۔ امریکی میڈیا اور اس کی تقلید میں عالمی میڈیا (جس کا پاکستانی میڈیا بھی ایک چھوٹا سا حصہ ہے ) باور کرانے میں لگا تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ بے وقوف ہے لیکن انہوں نے ثابت کرادیا کہ خود میڈیا بے وقوف اور بے خبر ہے یا پھر بے وقوف بنانے کی کوشش کررہا ہے ۔ انہوں نے ثابت کرادیا کہ بڑے شہروں کی بڑی عمارتوں میں بیٹھنے والے، بڑے بڑے بقراط بسا اوقات کسی ملک کے زمینی حقائق سے کتنے دور ہوتے ہیں ۔ پورے امریکہ میں کوئی ایک بڑا میڈیا گروپ ایسا نہیں تھا کہ جس نے ڈونلڈٹرمپ کو صدارت کے لئے موزوں قرار دیا ہو یا پھر یہ پیشنگوئی کی ہو کہ وہ انتخاب جیت جائیں گے لیکن ٹرمپ نے وہاں کے عوام کی اکثریت (الیکٹورل کالج کی بنیاد پر) کی نظروں میں اپنے آپ کو اس منصب کے لئے موزوں ترین ثابت کروا دیا اور عمل سے بتا دیا کہ اپنی ذات کے بارے میں صرف ان کی پیشنگوئی درست تھی۔ انہوں نے ثابت کردیا کہ وہ واشنگٹن اور نیویارک میں بیٹھے ہوئے دانشوروں اور ٹی وی اسکرینوں پر فلسفے جھاڑنے والے بقراطوں کے برعکس امریکی معاشرے، اس کی ساخت اور اس کی سوچ سے زیادہ باخبر ہیں اور ان کے جذبات سے بہتر کھیل سکتے ہیں ۔ وہ ایک کاروباری اور محفل آرائی کے شوقین شخص ہیں اور بڑے شہروں کے بڑے میڈیا چینلز کے بڑے دماغوں کی بنسبت ایک کاروباری اور عوام میں جینے والا شخص بہتر انداز میں سمجھ سکتا ہے کہ اس کے ملک کے شہریوں کے مسائل اور ضروریات کیا ہیں اور ان کی سوچ پر کیا چیز حاوی ہے ۔ چنانچہ وہ آئے ، سب کے جذبات سے کھیلتے ہوئے چھا گئے ۔ لیکن انتخابی نتائج آنے کے بعد کی تقریر میں وہ ایک بدلے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نظر آئے ۔ پاکستانی مثال سے واضح کرنے کی کوشش کریں تو یہ کہا جاسکتا ہے کہ انتخابی مہم کے دوران وہ عمران خان نظر آرہے تھے تو جیت کے بعد مولانا فضل الرحمان نظر آئے ۔ اگرچہ امریکی سیاست اور پھر ڈونلڈ ٹرمپ کے بارے میں کوئی تجزیہ یا پیشنگوئی کرنا خود اپنے آپ کو رسوائی کے لئے پیش کرنے کے مترادف ہے لیکن لگتا یہی ہے کہ جو کچھ انہوں نے انتخابی مہم کے دوران کیا اور کہا ، وہ سب ان کی انتخابی چالیں تھیں ۔ وہ بے وقوف نہیں بلکہ نہایت زیرک اور شاطرانسان ہیں اور یوں شاید ان بے وقوفیوں کا ارتکاب نہ کرلیں جن کا وہ انتخابی مہم کے دوران عزم ظاہر کرتے رہے ۔ وہ اگر ایک کاروباری شخص کے طور پر امریکی معاشرے کے نبض شناس ہوگئے ہیں تو بریفنگز لینے کے بعد یقینا دنیا کے مختلف خطوں کی نزاکتوں کو بھی سمجھ پائیں گے ۔ ان کی خارجہ پالیسی کا رخ ان کی انتخابی مہم کی تقریریں نہیں بلکہ امریکی اداروں کی بریفنگز اور سب سے بڑھ کر ان کی ٹیم متعین کریں گی ۔ ہاں البتہ وہ جس راہ پر چل نکلے ، پھر اس پر سختی اور یکسوئی کے ساتھ چلیں گے ۔ وہ صدر اوباما کی طرح کنفیوژن کے شکار نہیں ہوں گے بلکہ یکسوئی اور ڈھٹائی کے ساتھ آگے بڑھیں گے ۔ صدر اوباما کے ذاتی دنیا کے تصورات کچھ الگ تھے لیکن صدر بننے کے بعد وہ اپنے ان تصورات اور ادارہ جاتی فیڈ بیک کو ساتھ ساتھ لے کر چلنے کی کوشش کررہے تھے ، جس کی وجہ سے وہ الجھن کا شکار رہے ۔ افغانستان کی ایگزٹ پالیسی اس کنفیوژن کی اچھی مثال ہے ۔ علاوہ ازیں انہیں حزب مخالف کی اکثریت کے حامل پارلیمان کا سامنا تھا لیکن ڈونلڈ ٹرمپ کو کانگریس اور سینیٹ دونوں میں اپنی پارٹی کی اکثریت ساتھ مل رہی ہے ۔ اوباما دانشور قسم کے محتاط صدر تھے لیکن ٹرمپ رسک لینے والا اور بازی لگانے والا انسان ہے ۔ انتخابی مہم میں بھی انہوں نے جو نعرے اپنائے وہ بڑے رسکی (Risky) تھے ۔ یوں وہ عالمی محاذوں پر بھی رسک لیں گے ،اس لئے پاکستان جیسے ملکوں کے لئے ضروری ہے کہ وہ ابتدا میں امریکہ کے اندر اپنے حق میں زیادہ سے زیادہ لابنگ کی کوشش کریں۔ یہ شخص اگر مخالف سمت میں چل پڑا تو پھر خطرناک ثابت ہوسکتا ہے ۔
یوں تو ٹرمپ نے اپنی جیت کے ذریعے امریکی معاشرے سے لے کر اپنے مخالفین تک ، سب کی حقیقت آشکارکردی جس طرح انہوں نے امریکی میڈیا کا پول کھول دیا ، اسے تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ امریکی میڈیا کے اندازوں اور تجزیوں کے برعکس ڈونلڈ ٹرمپ جس طرح جیت گئے ، اس سے پوری دنیا پر واضح ہوگیا کہ موجودہ متحرک اور باوسائل میڈیا اور بالخصوص الیکٹرانک میڈیا زمینی حقائق سے کتنا دور ہے ۔ بڑے شہروں کے بڑے گھروں میں ، معاشرے کے اقلیتی بڑے طبقے کے ساتھ اٹھک بیٹھک کے نتیجے میں یہ میڈیا جو تصورات قائم کرتا ہے ، وہ ذہنوں کو متاثر تو ضرور کرتے ہیں لیکن ضروری نہیں کہ اس کی سوچ اس ملک کے عوام کی سوچ کی آئینہ دار ہو۔یہ پاکستانی میڈیا اور بالخصوص الیکٹرانک اور سوشل میڈیا کے لئے سبق ہے اور بہت بڑا سبق ہے بشرطیکہ ہم اپنے گریبانوں میں جھانکنے کی صلاحیت پیدا کرسکیں ۔ ہمیں سوچنا چاہئے کہ امریکہ جیسے ترقی یافتہ ، باوسائل اور گلیمرزدہ ملک میں اگر ان کا میڈیا اپنے عوا م کی اصل سوچ اور اپروچ سے اس قدر دور یا بے خبر ہے تو پاکستان جیسے پسماندہ اور علاقائی و معاشرتی تفریق کے شکار ملک کے میڈیا کی کیا حالت ہوگی ۔ ہمیں سوچنا چاہئے کہ امریکہ کے ایک سرے اور دوسرے سرے پر واقع بڑے اور ترقی یافتہ شہروں کا باوسائل میڈیا اگر اپنے ملک کے وسطی علاقوں کے عوام کی سوچ سے اس قدر لاتعلق تھا تو نہ جانے پاکستان کے ایک کونے میں واقع، ریٹنگ کی بیماری کا شکار میڈیا بلوچستان، قبائلی علاقہ جات ،پختونخوا، اندرون سندھ ، جنوبی پنجاب، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیروغیرہ کے عوام کی اصل سوچ سے کتنا بے خبر ہوگا۔اگر امریکہ جیسے ملک کے میڈیا نے وہ ایشوز ، اہم ترین ایشوز بنا رکھے تھے کہ جو امریکہ کے مکینوں کے اصل ایشوز نہیں تھے تو نہ جانے پاکستانی میڈیا نے کتنے نان ایشوز کو ایشو نمبرون بنایا ہوگا اور جب امریکی میڈیا اپنے عوام کے باطن اور اصل سوچ سے بے خبر تھا تو پاکستانی میڈیا کا کیا حال ہوگا۔ امریکی میڈیا کےعام کارکنوں کے ساتھ وہ ظلم نہیں ہورہا جو ہمارے ہاں ہورہا ہے ۔ امریکی میڈیا اسی طرح نادیدہ قوتوں کے قبضے میں نہیں جس طرح کہ ہمارا میڈیا ہے ۔ امریکی میڈیا اس عدم توازن کا شکار نہیں جس طرح کہ ہمارا میڈیا ہے ۔ پھر اگر اپنا محاسبہ نہ کرنے کی وجہ سے امریکی میڈیا کی یہ سبکی ہوئی تو ہم پاکستانی میڈیا والوں نے اگر اپنا محاسبہ نہ کیا تو نہ جانے ہمیں کن سبکیوں اور رسوائیوں کا سامنا کرنا پڑے گا ۔ ذرا سوچئے!

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *