یقین مجھ کو کہ منزل کھورہے ہو

Muhammad Umair

گماں تم کہ رستہ کٹ رہا ہے
یقین مجھ کو کہ منزل کھورہے ہو
مرحوم حبیب جالب نے یہ شعر مشرقی پاکستان کی علحیدگی کے پس منظر میں کہا تھا۔مگر موجودہ ملکی صورتحال کی بھی یہ شعر بھرپور عکاسی کرتا ہے۔سانحہ مشرقی پاکستان ہماری فوجی اور سول قیادت کی کوتاہیوں اور بنگالیوں کو دئیے گئے احساس محرومی کا نتیجہ تھا۔ملکی تاریخ کا یہ سب سے بڑا سانحہ تھا۔اس سے بڑا سانحہ یہ ہے کہ ہم آج تک اس سانحہ کے ذمہ داران کا تعین نہیں کرسکے اور نہ ہی ہم نے اس سانحہ سے کوئی سبق حاصل کیا۔جنرل امیر عبداللہ خان نیازی کو ذمہ دار ٹھہرا کر ہم سجھتے ہیں کہ شاید ایک یہی وجہ تھی جس کی وجہ سے ملک دولخت ہوگیا۔ہتھیار ڈالنا تو تابوت میں آخری کیل تھا۔بنگلہ کی دیش کی عمارت کھڑی کرنے میں ہماری سیاست دان،فوجی قیادت اور بیوروکریسی برابر کی شریک تھی۔
بنگلہ دیش کے قیام کے بعد اب نادان قیادت ویسے ہی حالات بلوچستان میں پیدا کررہی ہے۔نامعلوم نعشیں ملنے کا معاملہ ہو یا گمشدہ افراد کا بلوچستان پر بات کرنے والے کو ملک دشمن قرار دیکر چپ کروادیا جاتا ہے۔گزشتہ چند ماہ میں بلوچستان میں تین بڑے خودکش دھماکے ہوئے ہیں۔پہلے دھماکے میں 90سے زائد وکلاء،دوسرے دھماکے میں پولیس کے 60اہلکار اور تیسرے دھماکے میں 60عام شہری جان کی بازی ہارگئے۔ان تین دھماکوں میں ہونے والے زخمیوں کی تعداد 300کے قریب ہے۔پولیس کالج پر دھماکے سے چند روز قبل ہی آئی جی بلوچستان نے وزیراعلی بلوچستان ثناء اللہ زہری سے کالج کی دیوار تعمیر کروانے کی اپیل کی تھی مگر دیوار تعمیر نہ ہوئی اور دہشت گردی کا واقعہ رونما ہوگیا۔دو ہفتے گزرچکے مگر اب تک اس دیوار کی تعمیر کا کام شروع نہ ہوسکا ہے۔حب میں شاہ نورانی مزار پر دھماکے بعدامدادی کاموں کی یہ صورتحال تھی کہ 2گھنٹے تک کوئی بھی زخمی ہسپتال نہ پہنچ سکا،امدادی ٹیموں کے پاس انتظامات کا یہ عالم تھا کہ جائے وقوعہ پرروشنی کے لئے لائٹس تک موجود نہ تھیں۔
سانحہ حب کو گزرے ابھی 24گھنٹے بھی نہ ہوئے تھے،جنازے ابھی گھروں میں پڑے تھے،زخمی ہسپتالوں میں کراہ رہے تھے،گھر گھر کہرام مچا تھا،گلی گلی جنازوں کا انتظام ہورہا تھا کہ سول اور فوجی قیادت سی پیک کا افتتاح کرنے بلوچستان کے شہر گوادر پہنچ گئی۔بے حسی کا یہ عالم دیکھ کر دل خون کے آنسو رو رہا ہے ۔ایسی کیا آفتادآن پڑی تھی کہ آج ہی اس بندرگاہ کا افتتاح ضروری تھا۔یہ افتتاح دو دن بعد ہوجاتا تو کونسی قیامت آجاتی۔اگر یہ دھماکہ لاہور میں ہوتا اور اتنے ہی لوگ جان سے گئے ہوتے تو کیا وزیراعظم اگلے روز کسی سڑک کا افتتاح کرنے کی جرات کرتے؟ہماری روایات تو یہ ہیں کہ ساتھ والے گھر میں جنازہ پڑا ہوتو لوگ شادی کی خوشیاں بھول کر ہمسائے کے غم میں شریک ہوتے ہیں۔بلوچی تو پھر اپنے ہیں،ایک نہیں ساٹھ جنازے ایک ساتھ اٹھے ہیں،کئی بچے یتیم ہوئے ،خواتین بیوہ ہوئیں،کسی نے اکلوتا بھائی کھو دیا تو کسی نے اپنا لخت جگر ،کسی کا سہاگ اجڑاتو کوئی ہمیشہ کے لئے باپ کی شفقت اور ماں کے پیار سے محروم ہوگئے۔مگر ہمارے بڑے یوم تشکر منارہے ہیں۔گوادر پورٹ کا تیسری بار افتتاح کررہے۔
سی پیک جسے ترقی کی ضمانت قرار دیا گیا ہے،حکومت ہر جگہ یہ عزم دہراتی نظر آتی ہے کہ سی پیک سے پاکستان کی تقدیر بدل جائے گی۔مگر اس منصوبے کے نقطہ آغاز والے صوبے اور ضلع کا حال یہ ہے کہ وہاں پینے کو صاف پانی میسر نہیں۔وہاں سے نکلنے والی گیس پنجاب کے گاوں گاوں پہنچ چکی مگر بلوچستان کے کئی اہم اضلاع میں یہ سہولت موجود نہیں۔سی پیک کے لئے اربوں روپے موجود ہیں مگر صوبے کی پولیس کے سب سے بڑے کالج کی دیوار کی تعمیر کے لئے رقم موجود نہیں۔ہنگامی صورتحال میں مریضوں کو ہسپتال منتقل کرنے کے لئے ہیلی کاپٹر کی سہولت موجود نہیں۔جناب عالی دنیا کی سب سے بڑی آبی گذرگاہ نہر سویزہر سال ساڑھے 5ارب ڈالر کمانے کے باوجود اگر مصر جیسے ملکو کوترقی کی راہ پر گامزن نہیں کرسکی تو چینی تعاون سے بننے والا سی پیک کس طرح ترقی کا ضامن ہے؟کرپشن کا خاتمہ نہ ہوا تو سی پیک جیسے درجنوں منصوبے بھی ملک کو ترقی کی راہ پر نہیں ڈال سکتے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *