روز اک چیز ٹوٹ جاتی ہے

mehmood-asghar-chaudhry

جون ایلیا نے لکھا تھا
’’ کون اس گھر کی دیکھ بھال کرے
روز اِک چیز ٹوٹ جاتی ہے ‘‘
میرے ملک کی حالت یہ ہے کہ ایک سانحے سے نکلتے ہیں تو دوسرا سانحہ اس کا منتظر ہوتا ہے ۔ہر آنے والا واقعہ گزشتہ واقعے کو شرما جاتا ہے ۔ ابھی ابھی ایک خواجہ سرا کی چیختی چلاتی ویڈیو نظروں سے گزری ہے جس میں وہ شور مچا رہا ہے اور رو رہا ہے کہ’’ ہمیں سارے مل کر ماردو ، پاکستان میں جانوروں کے بھی حقوق ہیں لیکن ہمارا کوئی حق نہیں ۔کیا ہم پیدا نہیں ہوئے؟ کیا ہمیں بھی اسی خدا نے پیدا نہیں کیا ؟نہ کوئی اس جہاں میں ہماری مدد کو آرہا ہے اور نہ ہی اگلے جہاں ہمارا کوئی سہارا بننے والا ہے ۔‘‘ ہمارے ادب میں سعادت منٹو جیسے درد دل رکھنے والے مصنف تو مل جاتے ہیں جو کوٹھوں کے پیچھے سسکتی انسانیت کی کہانیاں لکھ کر نام کماتے ہیں لیکن تیسری نسل پر لکھنے والا کوئی ادیب نہیں ملتا ۔ منٹو کہتا ہے’’چکی پیسنے والی عورت جو دن بھر کام کرتی ہے اور رات کواطمینان سے سوجاتی ہے میرے افسانوں کی ہیروئین نہیں ہوسکتی ۔ میرے افسانوں کی ہیروئین چکلے کی ایک رنڈی ہوسکتی ہے جو رات کو جاگتی ہے اور دن کو سوتے میں کبھی کبھی یہ ڈراؤنا خواب دیکھ کر اٹھ بیٹھتی ہے کہ بڑھاپا اس کے دروازے پر دستک دینے آرہا ہے ۔اس کے بھاری بھاری پپوٹے جن پر برسوں کی اچٹی ہوئی نیندیں منجمدہوگئی ہیں میرے افسانوں کا موضوع بن سکتے ہیں ۔ اس کی غلاظت ،اس کی بیماریاں اس کا چڑ چڑا پن ، اس کی گالیاں یہ سب مجھے بھاتی ہیں ‘‘ منٹو تو بازار حسن کے پردوں کے پیچھے روتی بلکتی انسانیت کے خاموش آنسوؤں کو موضوع بنا کر اپنا حق ادا کر گیا لیکن سوچتا ہوں کہ کوئی ایسا افسانہ نگارہمارے اردو ادب کے منظر پر کیوں نہیں آیا جوتیسری نسل کے ہیجڑوں کو بھی اپنا قلم کا موضوع بناتا ۔
کوئی ایسا افسانہ نگار کیوں پیدا نہیں ہوا جو ان بے نواؤں کے درد کو بھی آوازدے دیتا جن کی زندگی کانٹوں پر تڑپتی اورانگاروں پر لوٹتی ہے ۔وہ جن کے بارے مشہور ہے کہ ان کی بد دعا سے ڈروسوچتا ہوں ان کی دعا ان کے کام کیوں نہیں آتی ۔جن کی مسکراہٹیں دکھوں کے جانے کتنے سمند پار کر کے آتی ہیں۔جن کا رقص غموں کی وحشت چھپانے ،جن کے قہقہے ان کی چیخیں دبانے ، جن کی تالیاں ان کی آہیں گم کرنے اور جن کے چہرے پر میک اپ کی تہیں ان کے کرب چھپانے کا کام دیتی ہیں۔ کبھی کسی نے یہ جاننے کی کوشش کیوں نہیں کی کہ انہیں بھی ماں نے نومہینے ہی پیٹ میں رکھاہوگا ان کی پیدائش کے انتظار میں بھی ان کے باپ نے منتیں مانیں ہوگی لیکن پھر اُس بے رحم معاشرے کے اصولوں نے انہیں اتنی نفرت کا نشانہ بنایا کہ سب سے پہلے تو اسکے والدین نے اسے اٹھا کراس ظالم اوربے اصول جنگل میں پھینک دیا جہاں تمسخر اڑاتے بچے، شہوانے ریچھوں کی طرح ان کے گرد گھیرا ڈالتے نوجوان اور مستانے سانڈ کی طرح پھدکتے مرد ان کی روح کو کرچی کرچی کرتے ہیں
سب نے انہیں بدکار کہا اور دھتکار دیا لیکن کسی نے یہ جاننے کی کوشش نہیں کی کہ کیا ان کے پاس کوئی دوسرا آپشن تھا کیا معاشرہ انہیں قبول کرتا ہے ۔ کیا ان کے لئے تعلیم کے دروازے کھلے ہیں کیا ان کے لیے روزگار کے مواقع ہیں ،کیا ریاست نے ان کی ذمہ داری لی ، مذہب والوں نے تو یہ کہہ کر جان چھڑا لی کہ ان کے بارے میں قرآن و حدیث خاموش ہے تو کیا وہ خدا کے بندے بھی نہیں رہے کیا انہیں اسی خدا نے پیدا نہیں کیا جس نے ہمیں پیدا کیا ہے ؟
سیالکوٹ کے علاقہ ڈسکہ میں بھتہ خوروں نے جس طرح ایک خواجہ سرا کو تشدد کا نشانہ بنایا ہے اور اس کی ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر پھیلائی ہے اس نے انسانیت کو شر ما دیا ہے ۔ پوری دنیا میں یہ ویڈیوکئی ہزار دفعہ دیکھی گئی ہے ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ گینگ کا مرکزی ملزم خاتون خواجہ سرا کو چارپائی پر الٹا لٹا کر اس کی گردن پر پاؤں رکھ لیتا ہے اور اس کے بعد لیدر کی بیلٹ سے اسے مارنا شروع کر دیتا ہے۔ وہاں موجود دوسرے خواجہ سرا یا ہیجڑے اپنی ساتھی کو بچانے کے لیے آگے بڑھتے ہیں لیکن گینگ میں موجود نوجوان ان کو پیچھے ہٹا دیتے ہیں اس دوران خواجہ سرا کی شلوار بھی نیچے کر دی جاتی ہے اور اسے دوبارہ بیلٹ مارنے کا سلسلہ شروع کر دیا جاتا ہے۔ سوشل میڈیا پر یہ ویڈیو وائرل ہونے کے بعد علاقائی پولیس نے ملزمان کو بھتہ خوری اور تشدد کے الزام میں گرفتار کر لیا ہے ۔سوال یہ نہیں ہے کہ اس کے بعد کیا ہوگا ؟ سوال یہ ہے کہ کیا ہماری ریاست اتنی کمزور ہو چکی ہے کہ ملزمان اب جرم کرنے کے بعد اس کی ویڈیو بھی بنوا سکتے ہیں کیا ہیجڑہ وہ تھا جس پر تشدد ہوا یا وہ سسٹم نامرد ہوچکا ہے جس کا خوف مجرموں کے دل سے غائب ہوگیا ۔ کیا وہ لیدر بیلٹ ایک ہیجڑے کی تشریف پر پڑے ہیںیا اس کے زخموں کے نشان پورے معاشرے کی بے حسی پرنقش ہو گئے ہیں
گزشتہ کئی سال سے پاکستان میں خواجہ سراؤں پر تشدد اور ان کے قتل کے واقعات سامنے آرہے ہیں لیکن یہ سب واقعات ایک خبر سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتے ، اس سے پہلے خیبر پختونخوا میں خواجہ سراؤں کو قتل، اغوا، حراساں، ریپ اور ان کی توہین کرنے کے واقعات پیش آچکے ہیں۔ ایسے واقعات مسلسل سامنے آرہے ہیں جن میں خواجہ سراؤں سے بھتہ مانگا جاتا ہے لیکن ریاست اس سلسلے میں کچھ رد عمل نہیں دکھاتی۔ پاکستان کی تاریخ میں جسٹس افتخار محمد چوہدری کے سر یہ سہر اجاتا ہے کہ انہوں نے ان کے حقوق کے لئے بھرپور اعلانات کئے تھے کہ انہیں معذوروں کے کوٹہ سے نوکریاں دی جائیں اور ان معاشرے کا ایک فعال رکن بنایا جائے گا ۔ ہمارے مقابلے میں ہمارا پڑوسی ملک ان کے حقوق کے معاملے میں کافی آگے ہے وہاں کی سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق انہیں نوکریوں اور تعلیم کے میدان میں اقلیتوں کی طرز کا کوٹہ متعارف کرایا گیا ہے لیکن اس میں اہم کردار بھارتی فلم انڈسٹری کا بھی ہے جنہوں نے ان کے مسائل پر فلمیں بنائی ہیں اور عوام الناس کو سو چنے پر مجبور کیا ہے ہمارے ہاں حالت یہ ہے کہ پشاور میں علیشانامی خواجہ سرا کو ایک قاتلانہ حملہ کے نتیجے میں پشاور کے ہسپتال میں لایا گیا جس کے نتیجے میں وہ مر بھی گیا تو ہسپتال کے ڈاکٹر علیشا کے ساتھ آنے والے خواجہ سراؤں سے مذاق کرتے رہے ان سے پوچھتے رہے کہ کیا وہ صرف ڈانس کرتے ہیں؟ اور وہ بطور معاوضہ کتنے پیسے لیتے ہیں۔
اس طرح کے واقعات سوسائٹی کی لئے ایک ویک اپ کال ہوتے ہیں معاشرے کے لئے آئینہ ہوتے ہیں کہ وہ اپنی خرابیوں کو دیکھیں اور ان کا حل نکالیں ۔میڈیا کوچاہیے کہ وہ اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کرے اور لوگوں میں شعور پیدا کرے کہ ہر وہ انسان جو کسی پیدائشی کمزوری یا معذوری کی بنا پر ہم سے مختلف ہے وہ قابل تمسخر نہیں ہے اور وہ بھی اتنا ہی اس معاشرے کا فرد ہیں جتنے ہم ہیں ،ہمارے نصاب میں ایسے موضوعات شامل کرنا ہوں گے جہاں ہمارے بچے دوسرے بچوں کو اپنا جیسے انسان ہی سمجھیں اور صرف انسان ہی کیوں بلکہ جانوروں اور پودوں تک کے حقوق کے لئے فکر مند ہوں ۔ قرآن مجید میں ہے لوگوں سے اچھی گفتگو کرو اس آیت کی صحیح تشریح مجھے اس دن سمجھ آئی جس دن میں نے اٹلی میں معذوروں کے لیے لگی ہوئی لفٹ پریہ تحریر پڑھی کہ یہ لفٹ ’’اسپیشل پرسنز ‘‘کے لیے ہے یعنی جنہیں ہمارا معاشرہ لولا لنگڑا اندھااور معذور جیسے خطابات دیتا ہے اسے مہذب معاشرہ خصوصی فرد کے خطاب سے نوازتا ہے -

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *