کراچی میں بہتر ایمبولینس سروس کیوں نہیں ؟

خرم ضیا خان

khurrum-zia-khan

کچھ سال قبل میرا ایک کزن گوادر میں انتقال کر گیا۔ اس کی بیوی کو لاش گوادر سے کراچی  ٹیوٹا ہائی ایس میں لانی  پڑی کیونکہ اسے ایمنولینس کی سروس نہ مل سکی۔ کوئٹہ پولیس ٹریننگ سنٹر میں حملے کے وقت یہ میرے ذہن میں دوبارہ یہ سوال آیا کہ آخر  کراچی میں ایمبولینس کی اتنی کمی کیوں تھی کہ شہدا کی لاشیں  کراچی پہنچانے میں اتنی دقت پیش آئی۔ اگر کوئی یہ وجہ بتائے کہ گوادر کراچی سے بہت دور ہے  توبھی یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کراچی اور دوسرے ترقی یافتہ شہروں میں ایمبولینس کی کمی کیوں ہے۔ ایمبولینسوں کی کمی کے علاوہ یہ بھی اہم مسئلہ ہے کہ جو گاڑیاں موجود ہیں ان میں زندگی بچانے والے اوزار نہیں ملتے۔ صرف امان فاونڈیشن کی ایمبولینس کے اندر یہ اہم اوزار موجود ملتے ہیں جن میں آکسیجن سلینڈر، ڈی فبرلیٹر، سکشن مشین، سپلنٹس، سپائن بورڈ  سٹریچر اور نیوبلائزر شامل ہیں۔

 یہ بات قابل افسوس ہے کہ جو ایمبولینس سروس موجود ہے جیسے، ایدھی ایمبولینس، چھیپا، خدمت خلق، سینٹ جانز اور دوسری بہت سی تنظیمیں شامل ہیں، ان کے اندر سب سے اہم چیز یعنی آکسیجن سلنڈر بھی موجود نہیں ہوتے۔ اگرچہ این جی اوز اور دوسرے پرائیویٹ سیکٹرز ہیلتھ سیکٹر میں بہت اہم کردار ادا کر رہےہیں  یہ دیکھتے ہوئے کہ  مرکزی اور صوبائی حکومت کو اس سیکٹر کی کوئی پرواہ نہیں ہے،  لیکن  شہروں کی بڑھتی آبادی اور بے ڈھنگ پھیلاو کی وجہ سے  یہ معلوم ہوتا ہے کہ ہمیں بہت زیادہ فنڈز اور انویسٹ منٹ کی ضرورت ہے  تا کہ تمام شہریوں کی ہیلتھ  کے لیے تمام سہولیات مہیا کی جا سکیں۔

کراچی جیسے شہر کےلیے جہاں 16 ملین سے زیادہ لوگ آباد ہیں وہاں اتنے کم ہسپتال ہیں اور زیادہ تر ہسپتال آبادی والے علاقوں سے دور ہیں ۔ اس حالت میں ہمیں زیادہ بہت ٹیکنالوجی والی  ایمبولینس کی ضرورت ہے۔ تا کہ  مریضوں کو زندہ ہسپتال تک لے جایا جا سکے۔ آج کل تو زیادہ تر ایمبولینس ایسی ہیں جو صرف جنازہ ہسپتال تک لےکر جاتی ہیں۔ بہت سے معاملات میں ابتدائی طبعی امداد بھی زندگی بچانے کے لیے کافی ثابت ہوتی ہیں ۔ اگر ہر ایمبولینس میں فرسٹ ایڈ اور لازمی پیرامیڈکس موجود ہوں تو بیماروں کو حالت بہتر ہونے میں مدد مل سکتی ہے۔

 حد درجہ بیمار لوگوں کو ہسپتال لے جاتے وقت   ابتدائی طبعی امداد بہت فائدہ مند ثابت ہو سکتے ہیں۔ اس سے ہسپتال سٹاف پر بھی بوجھ کم ہو تا ہے  اور مریضوں کو بھی وقت پر ٹریٹمنٹ مل سکتی ہے۔ زیادہ تر ایمبولینس آپریٹر سوزوکی ہائی روف استعمال کرتے ہیں جو کہ ایمبولینس کے طور پر ایک اچھی گاڑی نہیں ہے۔ اس میں ہر وقت تیز رفتاری کی وجہ سے الٹنے کا بہت خطرہ ہوتا ہے۔ شاہ راہ فیصل  پر میں نے خود مریض لے جانے والی تیز رفتار ایمبولینس کو الٹتے دیکھا ہے۔ ایمبولینس میں اے سی کی غیر موجودگی بھی بیمار کے لیے گرمیوں کے موسم میں تکلیف کا باعث بن جاتی ہے۔

اس معاملے میں امان فاونڈیشن کی ایمبولینس سروس باقی سب سے بہتر ہے لیکن ان کے پاس صرف 100 کے لگ بھگ ایمبولینسیں ہیں اور پورے کراچی میں سروس مہیاں نہیں کی جا سکتی۔ اس کے ساتھ ساتھ امان فاونڈیشن کی ایمبولینس رابطہ کرنے سے 30 منٹ تک مطلوبہ جگہ پر پہنچ سکتی ہے۔ جیسے جیسے امان فاونڈیشن ایمبولینس کی ڈیمانڈ بڑھ رہی ہے انہیں اپنا معیار برقرار رکھنے میں مشکل پیش آ رہی ہے۔ اب ان کی زیاد ہ تر ایمبولینسوں میں اے سی بھی نہیں ہے۔ چارجز بھی بہت زیادہ ہیں۔ مجھے گھر جانے کے لیے 300 روپے ادا کرنے پڑے لیکن اگر کسی کو گھر سے ہسپتال مریض لے جانا ہو تو اس سے 2000 روپے لیے جاتے ہیں۔ جب میں نے پوچھا کہ اتنا زیادہ چارجز کیوں تو جواب ملا کہ اس لیے کہ لوگ ایمبولینس کا غلط استعمال نہ کر سکیں۔

اس سب کا خلاصہ یہ کہ کراچی میں نہ صرف ہسپتالوں کی کمی ہے بلکہ ایمبولینس سروس بھی پوری طرح سے میسر نہیں ہے۔ جو ایمبولینس میسر ہیں وہ بھی مریضوں کی مدد کرنےکے لیے تیار نظر نہیں آتے۔ ایک خاندان کے مریض کو ایک ماہ ہسپتال میں زیر علاج رہنے کے بعد گھر لے جانے کے لیے ہم نے امان فاونڈیشن سے ایمبولینس کی درخواست کی کیونکہ اس کے کرایے بہت کم تھے۔ لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ اتنا عرصہ ہسپتال میں رہنے، اتنے بل ادا کرنے کے بعد بھی ہسپتال انتظامیہ سے اتنا نہ ہوا کہ اپنی طرف سے مریض کو ایمبولینس کی سہولت مہیا کر دیتے۔

 کراچی کی بڑھتی ہوئی آبادی اور پھیلاو کو دیکھتے ہوئے یہ اہم ضرورت ہے کہ شہر کو اچھی اور تمام سہولیات سے لیس ایمبولینسیں فراہم کی جائیں۔ مجھے امیدہے کہ پرائیویٹ سیکٹر کے ساتھ ساتھ سندھ حکومت بھی اپنے لوگوں کی صحت پر توجہ دیتے ہوئے صوبے بھر میں ہسپتال اور ایمبولینس کی سہولیات  مہیا کرے گی بلکل ایسے ہی جس طرح  پنجاب میں ریسکیو 1122 کی سہولت عوام کے لیے مہیا کی گئی ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *