کیا تحفظ مرداں بل ایک مذاق ہے؟

ریم واسع

reem-wasey

لوگ کہتے ہیں کہ مایوسی بزدل کو ہمت دیتی ہے۔ یہی بات پاکستان کی اسلامی نظریاتی کونسل کے معاملے میں دکھائی دیتی ہے۔

پنجاب پروٹیکشن آف وومین 2016 بل جو عورتوں کو حفاظت اور تشدد  اور ظلم و زیادتی کا شکار ہونے والی عورتوں کی حمایت میں پاس کیا گیا ہے  کے بعد داڑھیوں والے حضرات بھی اپنے ظلم اور زیادتیوں کی شکایت لے کر آ گئے ہیں ۔ پہلے تو کونسل نے بل کی مخالفت کی اور اسے  ہمارے عصمت دری، غیرت کے نام پر قتل، تیزاب پھینکنے اور آن لائن بلیک میل کرنے والے معاشرے میں اسلامی اقدار کے خلاف قرار دیا  ۔ جس آزادی سے مرد پورے ملک میں عورتوں پر تشدد کر رہے تھے اس بل سے اس آزادی پر قدغن لگ سکتی تھی۔ لیکن کچھ نہ کچھ تو کرنا پڑے گا۔ انہوں نے اپنی چھاتیاں پیٹنا شروع کیا اور آواز اٹھائی   کہ انصاف اور برابری کے اس عمل کو فوری روک دیا جائے۔ لیکن سول سوسائٹی کی کہر نے اس آواز کو دبا دیا اور بل پاس کروانے میں اہم کردار ادا کیا۔ بالآخر عورتوں کو بھی سکھ کا سانس نصیب ہوا۔

ظلم کرنے والوں کے خلاف ایف آئی آر کے اندراج کو ترجیح دی گئی  اور اس کے مطابق  ڈومسیٹک اور دوسرے تشدد کے خلاف شکایت کے لیے ہیلپ لائن قائم کی جانی تھی اور عورتوں کے لیے علیحدہ شیلٹر قائم کرنے اور ظلم و تشدد کرنے والوں کو سزاد ینے کے وعدے کیے گئے۔ عورتوں کے لیے یہ ایک اہم واقعہ تھا۔ مولانا شیرانی جو اسلامی نظریاتی کونسل کے ہیڈ ہیں نے اعلان کیا کہ اس سے ہمارے معاشرے کی اقدار کی دھجیاں اڑ جائیں گی۔ کچھ لوگوں کو خوف تھا کہ اس سے پاکستان کے اچھے شہری بھی بدنام ہوں گے اور  مرد و عورت کے تعلقات متاثر ہوں گے۔

 ان کی اس چیخ و پکار کو کسی نے اہمیت نہیں دی  اور پہلی بار ملا گروپ کو شکست ہوئی۔ اب یہی کونسل مردوں کے حقوق کے تحفظ کا بل پیش کرنے والی ہے جس کے مطابق ایک ایسے ملک میں جہاں سالانہ 8500 عورتیں گھریلو تشدد کا اشکار ہوتی ہیں، جہاں صرف پنجاب میں روزانہ 6 عورتیں قتل ہوتی ہیں ، روزانہ 4 عورتوں کی عصمت دری کی جاتی ہے، اور جہاں تحفظ حقوق نسواں بل سے پہلے تک  عورتوں کے حقوق بڑی بے شرمی سے چھینے جاتےتھے،  تمام مردوں کو برابری کی بنیاد پر حقوق دیے جانے چاہییں۔ حقائق کو دیکھا جائے تو پاکستان میں شاذو نادر ہی مردوں کو  ان کے حقوق سے محرومی یا گھریلو تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔

 اسلامی نظریاتی کونسل کا خیال ہے کہ جس طرح عورتوں کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنایا گیا ہے اس طرح مردوں کے حقوق کا بھی تحفظ کیا جانا چاہیے۔ خاص طور پر ایسے مرد جن پر تشدد کیا جاتا ہے یا انہیں ان کے گھروں سے نکال دیا جاتا ہے۔اس طرح کے اقدامات صرف مردوں کو عورتوں پر برتری دلانے کے لیے کیے جا رہے ہیں۔ کونسل جو کر رہی ہے  وہ عورتوں کے حقوق کودبانے ،  اور انہیں اپنی تکالیف کو اپنی قسمت کا حصہ مان لینے پر مجبور کرنے کے مترادف ہے۔ کونسل میں موجود مولوی حضرات یہ جانتے ہیں کہ مردوں کو اس قدر ہزیمت کا نشانہ نہیں بنایا جاتا ہے جس طرح پچھلی کئی دہائیوں سے عورتوں کو بنایا جا رہا ہے۔

 ان کو معلوم ہے کہ مردوں کو اپنے جنس کی وجہ سے منافقت اور گمراہی سے بھرے کلچر میں مشکلات کا سامنا نہیں کرنا پڑے۔ انہیں یہ بھی معلوم ہے کہ انہیں شور کو دبانا ہے، عورتوں کی خوشی پر پانی پھیرنا ہے،  اور ہمیں آگے کا سوچنے سے روکنا ہے، اور مردوں کو عورتوں پر ہر معاملے میں برتری دلوانا ہے۔ اس کونسل میں موجود تمام مردوں کو معلوم ہے کہ  اعتراف اور برداشت کا نتیجہ کیا ہوتا ہے۔ انہیں معلوم ہے کہ اس وقت عورتوں کو فتح ملنے کا مطلب یہ ہو گا کہ مستقبل میں عورتوں کے لیے مزید مطالبات آئیں گے ۔

 ایک پاکستانی عورت کو صرف تشدد  سے نجات پر ہی صبر نہیں کرنا ہے۔ انہیں اس ہاتھ سے تھپڑ نہیں پڑنا چاہیے جس ہاتھ سے مرد اس کے جسم کو چھوتا ہے۔ اسے چھوٹی چھوٹی  فتوحات پر بھی جشن منانے کا موقع نہیں ملنا چاہیے۔ ان زیادتیوں کے خلاف اٹھنے والے تمام سوالات سے بچنے کے لیے عوتوں کو خوف کی حالت میں رکھنا ہو گا۔ یہ ایک عجیب سوچ ہے ان مولویوں کی۔ مردو ں کے حقوق کے تحفظ کی آواز سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستانی عورتوں کو خوف زدہ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس وقت مردوں کو جس چیزسے تحفظ کی ضرورت ہے وہ ان خود مرد ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *