بلاول بھٹو زرداری کا بہترین فیصلہ

anwar abbas anwar
پاکستان پیپلزپارٹی کے چئیرمین بلاول بھٹو زرداری نے قمر زمان کائرہ کو وسطی پنجاب کا صدر اور ندیم افضل چن سکریٹری جنرل اور مصطفی نواز کھوکھر کو سکریٹری اطلاعات مقرر کیا ہے، قمر زمان کائرہ میاں منظور احمدوٹو کی جگہ لیں گے جبکہ ندیم افضل چن لطیف کھوسہ کی جگہ خدمات سرانجام دیں گے، بلاول بھٹو زرداری نے پارٹی ذمہ داریاں سنبھالتے ہی پنجاب پیپلز پارٹی کی تنظیم نو کرنے کے عزم کا عندیہ طاہردیا تھا، وسطی پنجاب کی تنظیم کا اعلان کرنے سے قبل انہوں نے جنوبی پنجاب کی تنظیم انائونس کی تھی بلاول بھٹو زرداری کے اس فیصلے کو انتۃائی اہم ،وقت کی ضرورت اور بہترین فیصلہ قرار دیا جا رہا ہے۔ سیاسی تجزیہ نگاروں اور پارٹی کے راہنماوں کی جانب سے اس فیصلے کو سراہا جا رہا ہے ان کے مطابق اس فیصلے سے پارٹی مضبوط ہوگی اور ناراض کارکن بھی راضی اور خوش ہونگے۔
پیپلز پارٹی کے بزرگ اور نوجوان ورکرز کا کہنا ہے کہ بلاول بھٹو زرداری کا یہ اقدام پارٹی کے کارکنوں کو تو متھرک کرنے کا باعث ہوگا ہی لیکن ان عام پاکستانیوں کو بھی گھروں سے باہر لانے میں معاون اور مددگار ثابت ہوگا جو سابق پارٹی عہدیداروں کی نالائقی، پارٹی معاملات سے عدم دلچسپی اور غلط پالیسیوں کی وجہ سے گھروں میں دبک کر بیٹھ گئے تھے۔
نئے نامزد عہدیدار عوام کے ساتھ ساتھ مقتدرہ حلقوں کے بھی قابل قبول ہیں،وسطی اور جنوبی پنجاب کی نئی قیادت آزمائش اور امتحان کی گھڑی میں ثابت قدم رہے گی اوربلاول بھٹو زرداری اور ان کے والد گرامی سابق صدر آصف علی زرداری کی آرزوئوں تمنائوں اور پالیسیوں کو اپنی سوچوں کا محور و مرکز بنائے رکھے گی،اور وقت آنے پر نہ تو آنکھیں پھیرے گی اور نہ ہی کسی اور کے اشارہ ابرو پر پارٹی قیادت کی پیٹھ میں چھرا گھونپے گی
اس نامزدگیوں پر بعض تجزیہ نگاروں اور صحافیوں نے لکھا ہے کہ قمرزمان کائرہ جہانگیر بدر کے متبادل نامزد ہوئے ہیں، جب کہ حقیقت اس کے برعکس ہے جہانگیر بدر مرحوم ضیا دور میں پیپلز پارٹی پنجاب کے صدر رہےتھے اب تو وہ بی بی بے نظیر کی شہادت تک پارٹی کے مرکزی سکریٹری جنرل کے عہدے پر فائز تھے ، مجھے نامور تجزیہ نگاروں اور صحافیوں کی اتنی اہم شخصیت کے بارے میں اس قدر ناقص معلومات رکھنے پر حیرت ہوئی یہ سطور قلمبند کرت ہوئے سوچا کہ ریکارڈ کی درستگی اور اپنے دوستوں کی اصلاح کرنا ضروری ہے
اگر غیر جانبدارانہ نگاہ سے دیکھا جائے تو وسطی پنجاب اور جنوبی پنجاب کی نئی تنظیم انتہائی متوازن انتخاب ہے ،اس ٹیم کا انتخاب کرتے وقت بلاول بھٹو زرداری کے سامنے یہ چیلنج ہوگا کہ انکی انتخاب کردہ ٹیم پنجاب میں پارٹی کی واپسی کو یقینی بنانے گی اور انکی توقعات پر پورا اترے گی کیونکہ ان کا خیال ہے کہ پنجاب میں اقتدار حاصل کیے اور حکومت بنائے بغیر وفاق میں برسراقتدار آنا بے سود ہے ۔ اسکی وجہ یہ ہے کہ پنجاب پاکستان کا پیسنٹھ فیصد ہے، ان کے ذہن میں ہے کہ پنجاب کے بغیر محترمہ بے نظیر بھٹو اور ان کے والد گرامی کےا دوار حکومت میں کیا کیا مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا اس لیے ان کی ہر ممکن کوشش ہوگی کہ اگلی بار پنجاب کو ہاتھ سے نہ جانے دیا جائے۔
پنجاب میں کم بیک کرنا اور ایسا سوچنا اور اس کے لیے منصوبہ بندی کرنا اچھی سوچ اور بات ہے لیکن بلاول بھٹو زرداری کو یہ بات بھی ذہن نشین رکھنی ہوگی کہ پاکستان کی سول اور ملٹری اسٹبلشمنٹ ایسا نہیں چاہے گی اور نہ ہی ایسا ممکن ہونے دے گی کیونکہ اس نے پانچ جولائی 1977 سے فیصلہ کر رکھا ہے کہ پنجاب پیپلز پارٹی کو واپس نہیں دینا یہی وجہ ہے کہ پیپلز پارٹی کو اکثریت میں ہونے کے بوجود عارف نکئی اور میاں منظور وٹو کو بطور وزیر اعلی پنجاب قبول کرنا پڑا تھ
پیپلز پارٹی پنجاب سے ہمدردی رکھنے والے سیانے کہتے ہیں کہ اگر اب بھی بلاول کو اس بات کا احساس ہوگیا ہے اور وہ واقعی پنجاب کو سرمایہ داروں کے قبضے سے آزاد کروانے میں مخلص ہیں توانہیں ضرور کامیابی ملے گی اور اگر موجودگی نامزدگیوں کے فیصلے کے محرکات کچھ اور ہیں تو پھر الگ بات ہے۔
ایک بات جو کہنا ضروری سمجھتا ہوں وہ یہ کہ وسطی اور جنوبی پنجاب کی تنظیم کو تجوریاں بحرنے والی مشین نہ بنا لیا جائے جیسا کہ ماضی میں ہوتا رہا ہے پنجاب کا صدر نامزد ہونے والے وزیروں مشیروں سے کہیں زیادہ مالدار بن گے اور اب بھی ایسا ہی ہے کیونکہ قومی و صوبائی اسمبلیوں کے لیے انتخابی ٹکتوں کے خواہشمند حضرات کی یہ حتمی رائے ہے کہ پنجاب کے صدر اور سکریٹری کی خوشنودی حاصل کیے بغیر ٹکٹ کا حصول مشکل ہی نہیں ناممکن بھی ہے۔
بلاول بھٹو زرداری کے اس اہم ےترین فیصلے کو بعض نیوز چینلز کی جانب سے سابق صدر آصف علی زرداری کے خلاف بلاول کا اقدام قرار دیا گیا اور عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کی گئی ۔ پیپلز پارٹی کے کسی نئے اور پرانے لیڈر کو اس کا جواب دینے کی فرصت ہی نہ ملی، ہوش و حواس قائم رکھنے والا ہر انسان بخوبی اندازہ لگا سکتا ہے کہ بلاول اپنے والد گرامی کے خلاف ایک قدم بھی اٹھانے کی ہمت اور جرات نہیں کر سکتا، کیونکہ ابھی چند روز پہلے ہی بلاول اپنے والد سے تنظیم سازی کے لیے مشاورت کرکے وطن لوٹے ہیں، ہو سکتا ہے کہ ایسی باتیں میڈیا پر چلانے والے نیوز چینلز کے اپنے مقاصد ہوں جو باپ بیٹے کو لڑانے سے ہی پورے ہوتے ہوں۔
نئے عہدیداروں کے دامن کرپشن ہرقسم کے داغ سے پاک ہیں اور جوش وجذبے کے سمندر ان کے سینوں کے اندر موجزن ہیں یہ نئی تنظیم پوتی کی پوری متحرک ہے اور جوان بھی ان کے سفید بالوں پر نہ جائیں قمرزمان کائرہ اور ندیم افضل چن اور ان کے دیگر ساتھیوں چند ہفتوں میں ہی پیپلز پارٹی کے زندہ ہونے کا ثبوت گفراہم کریں گے ،قمر زمان کائرہ 27 دسمبر سے قبل بلاول بھٹو زرداری کو پنجاب کے دورے کی دعوت دینے والے ہیں اور لاہور میں انکا فقید المثال استقبال کرنے کی تیاریاں شروع کردی گئی ہیں قمر زمان کائرہ اور انکی ٹیم کو یقین ہے کہ وہ بلاول بھٹو کو اپریل 1986کو انکی والدہ کی لاہور آمد کی یاد تازہ کروا دیں گے اور ثابت کریں گے کہ انکی نامزدفی کا فیصلہ غلط نہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *