بنگلہ دیش: جماعتِ اسلامی کے سابق امیر غلام اعظم انتقال کر گئے

ghulam azamڈھاکہ: مولانا سید ابوالا علیٰ مودودی کے دیرینہ رفیق اور جماعتِ اسلامی بنگلہ دیش کے سابق امیر پروفیسر غلام اعظم 91 برس کی عمر میں انتقال کر گئے ہیں۔اُن کا انتقال جمعرات کو رات دس بج کر دس منٹ پر حرکتِ قلب بند ہو جانے کی وجہہ سے ہوا۔ غلام اعظم کو جولائی 2013 میں 1971 میں بنگلہ دیش کی پاکستان سے آزادی کے حوالے سے عائد 60 الزامات میں سے پانچ جرائم کا مرتکب قرار دے کر 90 برس قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ دنیا بھر میں یہ عدالتی فیصلہ حسینہ واجد کی حکومت کے سفاکانہ اقدامات کے تناظر میں نشانۂ تنقید بنا تھا۔ بنگلہ دیش کی علیحدگی کے حوالے سے چلنے والی تحریک میں پاکستان حامیوں کے خلاف حسینہ واجد کے انتقامی فیصلوں پر پاکستان کے عوامی حلقوں میں بھی شدید بے چینی پیدا ہوگئی تھی۔ مگر پاکستانی حکومت نے اس پر کوئی شدید ردِعمل ظاہر کرنے سے گریز کیاتھا۔
پروفیسر غلام اعظم پر 1971 میں پاکستان مخالفین کا قتل کرنے والی ایک ملیشیا بنانے میں کردار ادا کرنے کے الزامات تھے۔ جن سے اُنہوں نے صریحاً انکار کیا تھا۔ اور اِسے سیاسی مخالفت کا شاخسانہ قرار دیا تھا۔ استغاثہ کا مطالبہ تو یہ تھا کہ اُنہیں پھانسی کی سز اسنائی جائے مگر تین رکنی ججوں کے ایک پینل نے اپنے فیصلے میں لکھا تھا کہ اگر چہ وہ اپنے ’’جرائم‘‘ کی وجہہ سے انتہائی سزا (پھانسی) کے ہی مستحق ہیں مگر اُن کی عمر کے پیشِ نظر اُنہیں قید کی سزا سنائی جا رہی ہے۔
پروفیسر غلام اعظم 7؍ نومبر 1922 کو پیدا ہوئے تھے۔ وہ 1960 سے 2000 تک جماعتِ اسلامی کے امیر رہے ۔وہ 1971 کی علیحدگی کی تحریک کے دوران پاکستان کے شدید ترین حامیوں میں تھے ۔ انہوں نے جماعتِ اسلامی کے امیر کی حیثیت سے پاکستان حامی بنگالی رہنماؤں کے ایک گروپ ’’شانتی کمیٹی‘‘ کی سربراہی بھی کی تھی۔ مگر اُن پر انٹر نیشنل کرائمز ٹریبونل میں پاکستان حامی عسکری گروپ ’’رضاکار‘‘ اور ’’البدر‘‘بنانے کے الزامات تھے۔ جس نے بنگلہ دیش کی علیحدگی کے لئے بھارتی امداد کے ساتھ سرگرم مسلح گروپ ’’مکتی باہنی‘‘ کی مخالفت کی تھی۔پروفیسر غلام اعظم کو 11؍ جنوری 2012 کو جنگی جرائم کی بنیاد پر گرفتار کیاگیا تھا۔ اور اُنہیں 15؍جولائی 2013 کو سزا سنائی گئی تھی۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *