13 سالہ پاکستانی افشین جنھیں انڈین ڈاکٹر نے کامیاب آپریشن کے بعد نئی زندگی دی

'جب پیدا ہوئی تو بالکل ٹھیک تھی جب یہ آٹھ دس ماہ کی ہوئی تو تب ہم نے گردن میں جھکاؤ محسوس کیا، اس سے قبل یہ بہن کے ہاتھوں سے گر گئی تھی ہم نے سمجھا ہو سکتا ہے کہ اس کی وجہ سے ایسا ہو مقامی ڈاکٹر کے پاس لے گئے اس نے دوائی کے ساتھ گردن کے لیے ایک بیلٹ بھی لکھ کر دیا، ہم غریب لوگ ہیں مزید علاج نہیں کروا سکے۔'

یہ کہنا ہے پاکستان کے صوبہ سندھ کے صحرائی علاقے تھر سے تعلق رکھنے والی 13 سالہ افشین کی والدہ جمیلاں بی بی کا، جن کی بیٹی کا سر بچپن سے بائیں جانب 90 ڈگری جھکا ہوا تھا۔

لیکن اب افشین معمول کی زندگی گزار رہی ہیں اور ایسا تب ممکن ہوا جب انڈیا کے ہسپتال اپالو میں ایک انڈین ڈاکٹر افشین کی زندگی میں ایک 'فرشتہ' ثابت ہوئے اور انھوں نے ان کے جھکے ہوئے سر کا کامیاب آپریشن کر کے انھیں ایک نئی زندگی دی ہے۔

افشین گذشتہ 12 برس سے اسی حالت میں تھی جس کے باعث انھیں چلنے پھرنے، اور کھانے پینے، بات کرنے میں مشکلات کا سامنا تھا۔

افشین کی والدہ جمیلاں بی بی کا کہنا ہے کہ 'وہ بچپن سے ہی زمین پر پڑی رہتی تھیں، وہیں کھانا پینا ہوتا تھا۔'

افشین کے والد آٹے کی چکی پر مزدوری کرتے تھے لیکن کینسر میں مبتلا ہونے کے بعد آج کل وہ بیروزگار ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ بچپن میں انھوں نے بچی کو کمہار کو دکھایا جس نے اس کی گردن کو جھٹکا دیا جس سے تکلیف مزید بڑھ گئی کیونکہ پہلے وہ گردن ہلاسکتی تھی اس کے بعد ان کی گردن ایک طرف ڈھلک گئی تھی۔

افشین کی چار بہنیں اور تین بھائی ہیں۔

میڈیکل کیمپ اور سوشل میڈیا مہم

مٹھی شہر کی رہائشی 13 سالہ افشین 2017 میں اس وقت میڈیا میں آئی، جب مقامی طور پر منعقد کیے گئے طبی کیمپ میں انھیں معائنے اور علاج کی غرض سے لایا گیا تھا جہاں ڈاکٹر دلیپ کمار نے ان کا معائنہ کیا جس کے بعد ان کی مشکلات اور مرض کی خبریں میڈیا پر آنے لگیں۔

آفشین

اداکار احسن خان نے سماجی ویب سائٹ فیس بک پر افشین کی تصویر شیئر کی جس میں انھوں نے اس بچی کی تکلیف اور بیماری کے متعلق آگاہی دی اور لکھا کہ 'افشین کو ہماری مدد کی ضرورت ہے اور اس کے علاوہ اس کے والد کو بھی منھ کا کینسر ہے۔'

افشین اور ان کی والدہ جمیلاں بی بی کو پاکستان کے نجی ٹی وی چینل اے آر آئی وی کے پروگرام 'دی مارننگ شو' کی میزبان صنم بلوچ نے بھی مدعو کیا اور ان کی روداد سنی، جس کے بعد سوشل میڈیا پر افشین کی تکلیف اور بیماری نے ایک موضوع کی شکل اختیار کرلی تھی۔

سندھ حکومت ابتدائی مدد کے بعد غائب

سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جب افشین کی تصاویر وائرل ہوئیں تو تحریک انصاف سے پاکستان پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کرنے والی سابق رکن اسمبلی ناز بلوچ نے ٹوئٹر پر پیغام تحریر کیا کہ حکومت سندھ کی جانب سے افشین کا مکمل علاج کرایا جائے گا، جس کے بعد انھیں آغا خان ہپستال میں داخل کرایا گیا ہے جہاں ڈاکٹروں نے ان کا معائنہ کیا۔

افشین گل

ناز بلوچ نے ہسپتال میں بی بی سی کو بتایا تھا کہ پیپلز پارٹی کی رہنما فرہال تالپور نے نوٹس لیا ہے اب وہ خود افشین کے پورے علاج کی نگرانی کر رہی ہیں۔

افشین کچھ عرصہ آغا خان ہسپتال میں رہیں اس کے بعد والدین انھیں اپنے ساتھ لے گئے، افشین کے بھائی یعقوب کنبھر نے بی بی سی کو بتایا کہ `آغا خان ہسپتال کے ڈاکٹروں نے انھیں بتایا کہ اس آپریشن کے دوران زندگی بچنے کے پچاس فیصد امکانات ہیں۔‘

جس پر افشین کے والدین نے ڈاکٹروں سے سوچنے کے لیے وقت مانگا اور بعدازاں بہن کی شادی میں مصروف ہو گئے اور افشین کا علاج مکمل نہ ہو سکا۔

ان کے بھائی بتاتے ہیں کہ جب بہن کی شادی سے فارغ ہوئے اور اہل خانہ کو سمجھایا تو اس کے بعد انھوں نے پاکستان پیپلزپارٹی کی قیادت اور سندھ حکومت سے رابطہ کیا لیکن کوئی مثبت جواب نہ ملنے پر وہ مایوس ہو گئے۔

افشین گل

’انڈین ڈاکٹر ایک فرشتہ ثابت ہوئے‘

برطانوی اخبار کی رپورٹر الیگزینڈریا تھامس نے 2019 میں افشین کنبھر کی صحت اور ان کے خاندان کی مالی صورتحال پر خبر کی۔ جس کے بعد افشین ایک بار پھر زیر بحث آئیں، یعقوب کنبھر کے مطابق آسٹریلیا سے کسی نے ان سے رابطہ کیا اور کہا کہ وہ یہاں آجائیں ان کا علاج کرایا جائے گا اور کراچی میں دارالاسکون ادارے سے رابطہ کرنے کا مشورہ دیا۔

'ہم دارالاسکون گئے انھوں نے کہا کہ پاسپورٹ بنوائیں، اس کے بعد ویزہ کا عمل شروع کیا گیا اور اس دوران دنیا میں کووڈ کی وبا آگئی اور ہمارا کام وہاں ہی رک گیا۔‘

یعقوب نے بتایا کہ ’گذشتہ سال الیگزینڈریا تھامس نے انڈیا کے شہر دلی کے ای اپالو ہسپتال میں ڈاکٹر گوپالن کرشنن سے رابطہ کیا اور ہمیں بتایا کہ وہ آپ سے بات کریں گے جس کے بعد انھوں نے ہم سے سکائپ پر بات کی اور کہا کہ آپ انڈیا آجائیں یہاں مفت علاج ہو گا۔‘

یعقوب کنبھر کے مطابق ’انھوں نے بھی بتایا کہ آپریشن کے دوران دل بند ہو سکتا ہے، پھپھڑے کام کرنا چھوڑ سکتے ہیں اس کے علاوہ انھوں نے یوٹیوب کی کچھ ویڈیوز بھی دیکھنے کے لیے بھیجیں۔‘

’ہم نے میڈیکل بنیادوں پر ویزے کی درخواست دی اور جیسے ہی ویزہ ملا ہم دلی روانہ ہو گئے، ہماری پاکستان حکومت یا کسی ادارے و تنظیم نے کوئی مدد نہیں کی تھی ہمیں بیرون ملک سے لوگ مدد کر رہے تھے جن کے ذریعے ہم گذشتہ برس نومبر میں انڈیا پہنچے۔‘

انڈیا میں آپریشن اور امداد کی اپیل

افشین گل

عطیات جمع کرنے کی ویب سائٹ ’گو فنڈ فار می‘ پر یعقوب کنبھر نے مدد کی اپیل کی جس کے جواب میں انھیں 29 ہزار ڈالر پہلے مرحلے میں ملے جبکہ انڈیا میں علاج اور اخراجات کے لیے دوبارہ اپیل کی گئی۔

افشین کی ایک جانب ڈھلکی ہوئی گردن کی بڑی سرجری سے قبل ان کے دو آپریشن کیے گئے جس کے بعد بڑا آپریشن ہوا، یعقوب کنبھر کہتے ہیں کہ اس عرصے میں ان کا کئی ڈاکٹروں سے رابطہ ہوا ہے مگر انھوں نے ڈاکٹر کرشنن جیسے نفیس اور شفیق ڈاکٹر نہیں دیکھا ان کی کوششوں سے یہ آپریشن کامیاب ہوا۔

علاج نہ کیا جاتا تو افشین زیادہ عرصہ زندہ نہ رہتی

ڈاکٹر کرشنن نے آپریشن کی کامیابی کے بعد انڈین میڈیا کو بتایا تھا کہ اس سے ملاقات کے بعد یہ واضح ہو گیا تھا کہ اگر علاج نہ کیا جاتا تو وہ زیادہ عرصے تک زندہ نہیں رہ سکتی تھی۔ بقول ان کے ’شاید یہ دنیا میں اپنی نوعیت کا پہلا کیس ہے۔‘

افشین گل

دماغی فالج کی وجہ سے افشین نے صرف چھ سال کی عمر میں چلنا اور بولنا اس وقت سیکھا جب وہ آٹھ سال کی تھی لیکن ان کی گردن ایک سال کی عمر میں ڈھلکنے لگی تھی۔

سب سے پہلے انھیں دسمبر کے شروع میں ہیلو-گریویٹی لگانا پڑا تاکہ ان کی گردن کچھ وقت کے لیے سیدھی ہو جائے۔ ڈاکٹر کرشنن کی ٹیم جس میں ڈاکٹر منوج شرما، ڈاکٹر جے للیتا اور ڈاکٹر چیتن مہرا اور ڈاکٹر بھانو پنت شامل تھے، نے 28 فروری کو چھ گھنٹے کے آپریشن کے دوران افشین کی کھوپڑی کو اس کی ریڑھ کی ہڈی سے جوڑ دیا۔ اس کے بعد گردن کو سیدھا رکھنے کے لیے چھڑی اور پیچ کا استعمال کرتے ہوئے کھوپڑی کو سروائیکل ریڑھ کی ہڈی سے لگایا گیا۔

یعقوب کنبھر نے ٹوئٹر پر افشین کی ایک مسکراتے ہوئے تصویر پوسٹ کی جس کے ساتھ میں لکھا کہ ’اس مسکراہٹ کا کریڈٹ ڈاکٹر گوپالن کرشنن کو جاتا ہے، جنھوں نے سرجری کر کے گردن کو سیدھا کیا۔‘

’آپ بہت اچھے انسان ہیں پورا علاج مفت کیا اسی لیے تو ہم نے آپ کو کہا کہ آپ ہمارے لیے فرشتہ بن کر آئے ۔ ڈاکٹر کرشنا ہر اتوار کو سکائپ پر افشین کا معائنہ کرتے ہیں۔‘

افشین گل

یعقوب نے رکاوٹوں مشکلوں کے باوجود ہار نہیں مانی اور مسلسل جدوجہد کرتے رہے اور بالاخر پاکستان کے ایک پسماندہ علاقے کا ایک نوجوان جس کے ہاتھ خالی تھے بہن کا آپریشن کرانے میں کامیاب ہو گیا، بقول یعقوب اب وہ مسکراتی ہے، بات کرتی۔

error: