مقدر یا آزمائش ؟

roqaiya gazal

ہم اکثراوقات یہ فقرہ بولتے ہیں کہ سب مقدر کا کھیل ہے بلاشبہ تقدیرپر ایمان ہمارے عقیدۂ ایمان کا حصہ ہے لیکن ہمیں یہ بھی نہیں بھولنا چاہیئے کہ روز ازل سے ہی ہر انسان کے سامنے دو راستے ہیں ایک وہ جس کا عندیہ شیطان نے دیا تھا کہ یا اللہ! میں تیرے بندوں کو بھٹکاؤں گا ، گمراکرونگااور دوسرا وہ کہ جس کا اللہ سبحانہ تعالی نے شیطان سے فرمایاتھا کہ جو بھی میرے بندے ہونگے وہ تیری باتوں میں کبھی نہیں آئیں گے اور اگر آگئے تو ان کا ٹھکانہ جہنم ہوگا! اس سے ثابت ہوا گرچہ مقدرلکھا جا چکا ہے لیکن ہر انسان زندگی گزرانے کا طریقہ اور راستہ خود چنتا ہے اس کے بعد اس میں آسانیاں اور برکتیں اللہ کی طرف سے شامل ہو جاتی ہیں جو اسے بد نصیب یا با نصیب بناتی ہیں یعنی انسان تدبیر سے تقدیر بدل سکتا ہے لیکن اگر کوئی برے راستے پر چل کر دنیاوی آسائشوں سے مالا مال ہے اور اسے قسمت یا خدائی فضل کا نام دیتا ہے تو اس سے بڑا احمق کوئی نہیں کیونکہ وہ نا عاقبت اندیش ہے اس کا ٹھکانہ جہنم ہے جس کا اعلان اللہ نے کیا ہے بے شک اللہ کا وعدہ سچا ہے! یہ تمہید اس لیے باندھی ہے کہ آج کل اکثر بری شہرت کے حامل اور گمراہ لوگوں کو اونچے مراتب حاصل ہیں بریں سبب فی زمانہ اکثر ایسے ہی لوگ شرفا کہلاتے ہیں جس پر وہ بذات خود اور ان کے حلقہ احباب میں شامل خوش آمدی اسے قسمت اور فضل الہی قرار دیتے ہیں تو خیال گزرا کہ چلو وہ تو حکم خداوندی کو بھلا سکتے ہیں کیونکہ وہ پہلے ہی گمراہی کے راستے پر ہیں مگر وہ لوگ جو انھیں مقدر کا سکند ر کہہ رہے ہیں کیاوہ کفر کی انتہا نہیں کر رہے ؟ اس سے بالاتر وہ متا ثر ہیں ،مجبور ہیں یا نا امید ہیں دونوں صورتوں میں ان کا اس طرح کی داد دہی کا فعل گناہ کے زمرے میں آتا ہے کہ محض چند کوتاہ بینوں کی دیدہ دلیری دیکھ کر انھوں نے اللہ پر برا گمان باندھ لیا ہے اور یہی وجہ ہے کہ ہمارے حالات اور بحران بے قابو ہو چکے ہیں اور ہم لمحہ بہ لمحہ زوال کی طرف بڑھ رہے ہیں
میں جب بھی زوال کی بات کرتی ہوں تو اکثر نامی گرامی تجزیہ نگار اور مبصر ین بھی چیخ اٹھتے ہیں کہ کونسا زوال ؟ کہاں وہ پہلے والا پاکستان اور کہاں اب ترقی یافتہ بدلا ہوا پنجاب ! یہ بھی ایک المیہ ہے کہ بعض لکھاریوں نے لاہور کی چند اہم شاہراہوں کو پنجاب کا نام دے رکھا ہے حالانکہ اندرون لاہور کے حالات کسی سے چھپے ہوئے نہیں ہیں تو جناب ! معاشرے افراد سے بنتے ہیں جب افراد ہی بے سکونی ، افراتفری ،لاقانونیت اوربھوک و ننگ کا شکار ہیں تو ستاروں پر کمندیں کس کام کی ہیں کہ جنازہ جسے دیکھ کر روح کانپ جاتی ہے جسم کا ہر بال کھڑا ہوجاتا ہے اس میں بھی جیبیں کٹنے لگیں ہیں جو کہ الارم ہے کہ بھوک نے ایمان اور احساس کو نگل لیا ہے واضح رہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے راہنما جہانگیر بدر کے جنازے میں پی پی کے دو راہنماؤں کی جیبیں کٹ گئیں تھیں ،اخلاقی جرائم کی تو کوئی حد ہی نہیں ہے کہ پہلے سیالکوٹ میں خواجہ سرا کو برہنہ کر کے ایک بھتہ خور غنڈے نے بیہمانہ تشدد کا نشانہ بنایا جبکہ اس کے ساتھی یہ ظلم ہوتا دیکھتے رہے اور ویڈیو بناتے رہے پھر لاہور میں خواجہ سراؤں کے ساتھ بد اخلاقی اورتشدد کیا گیا، بچیوں کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور پولیس یہ مؤقف اختیار کرتے ہوئے رپورٹ درج کرنے سے انکار کر دیتی ہے کہ ایسے واقعات میں لڑکیوں کا قصور ہوتا ہے ، غیرت کے نام پر قتل و غارت عام ہے،چائلڈ لیبر کے تحت بننے والے قوانین پر عملدرآمد ہونا باقی ہے، ڈھونگی باباؤں کا ہر طرف راج ہے جو کہ بار بار’’ سرعام ‘‘ جیسی جرائم کو بے نقاب کرنے والی ٹیموں کی محنت سے بے نقاب ہو رہے ہیں جو کہ کئی سالوں سے خواتین کو فیض عام کے نام سے ا پنی ہوس کا نشانہ بنا رہے تھے جبکہ انھیں پہلا کلمہ تک نہیں آتا ،سر عام ڈاکو شہریوں کو لوٹ رہے ہیں، انتخابات میں جیل سے قیدی نکلتا ہے ،ووٹ کاسٹ کرتا ہے اور واپس بھی چلا جاتا ہے ، 40سنگین جرائم میں ملوث شخص جیل میں ہی مئیر بن جاتا ہے اور چھوٹ بھی جاتا ہے جبکہ دو بے گناہ بھائیوں کی ضمانت ہوئی تو یہ حقیقت کھلی کہ ایک سال قبل ہی ا نھیں پھانسی دی جا چکی تھی، کئی جرائم میں مطلوب آدمی کونسلر بن جاتا ہے ،کھانے والی اشیا میں ملاوٹ کی خبروں کی تو کوئی حد ہی نہیں ہے اور اگر الیکٹرانک میڈیا کی بات کریں تو صبح زرق برق لبا س میں ملبوس خواتین سکرین پر جلوہ گر ہوتی ہیں جو کہ رات اور دن کے قصے سناتی ہے کہ میرے شو ہر نے یہ کیا اور وہ کیا ،رات کو لگاؤ تو حلالہ، محبت اور زیادتی جیسے حساس موضوعات پر ڈرامے اسلامی اقدار کی دھجیاں اڑاتے دکھائی دیتے ہیں۔ میرا اپنے مفکرین سے یہ سوال ہے کہ سماجی اور معاشرتی زوال کسے کہتے ہیں ؟ مجھے بتائیں کہ میں ایک اندھی اور لنگڑی جمہوریت کی اچھی تصویر کیسے بناؤں کہ
ہمارے ذہن پر چھائے نہیں ہیں حرص کے سائے
جو ہم محسوس کرتے ہیں وہی تحریر کرتے ہیں
جہاں تک بات ہے کرپشن کی تو حالیہ ہنگامہ محض پتلی تماشا ہے کیونکہ پاکستان میں کرپشن اور لوٹ کھسوٹ کی کہانی بہت پرانی ہے90 کی دہائی میں جتنی بھی منتخب حکومتیں بر سراقتدار آئیں انھیں کرپشن کے الزامات کے تحت ہی ختم کیا گیا تھا ۔کبھی محترمہ بے نظیر بھٹو کا سرے محل سامنے آیا تو کبھی جناب نواز شریف کے رائے ونڈ فارم کے چرچے ہوئے۔کبھی محترمہ بے نظیر بھٹو کے غیر ملکی اکاؤنٹس کی بات چلی تو کبھی جناب نواز شریف کے لندن کے فلیٹس کا ذکر ہوایہ قصے یا کہانیاں نہیں ہیں یہ تمام الزامات ملکی اور غیر ملکی اخبارات میں شائع ہوتے رہے اور بڑے بڑے اشاعتی اداروں کے صفحات کی زینت بنے مگر کسی لیڈر یا منصف کے کانوں پر جوں تک نہ رینگی بلکہ ہمارے ملک کے نامور کالم نگاروں نے ان پر تبصرہ کیااور ایک دوسرے کے مخالفین نے ان الزامات کو جائز اور حامیوں نے جھوٹ اور الزام تراشیاں قرار دیا تحقیق کے مطابق پہلے محترمہ کے خلاف سنڈے ایکسپریس ،لندن ٹائمز اور واشنگٹن پوسٹ میں مضمون چھپے اور بعد میں نواز شریف کے متعلق ابزرور ،نیویارک ٹائمز اور واشنگٹن ٹائمز میں فلیٹوں وغیرہ کے قصے چھپتے رہے لیکن یہ سبھی الزامات مسترد ہوتے ہوئے سیلن زدہ الماریوں میں دفن ہوگئے حالانکہ اپوزیشن جماعت نے کافی ہنگامے برپا کئے مختصراً جو کچھ آج ہورہا ہے وہی سب کچھ نوے کی دہائی میں ہو چکا ہے بس نام اور چہرے بدل گئے ہیں حتہ کہ اگر آپ حالیہ بیانات کو سامنے رکھیں اور پرانے اخبارات کو کھولیں تو ایسے ہی بیانات اور کردار کشیاں ملیں گی یہاں تک کہ آپ لوگ قطری شہزادے کے خط سے حیران ہیں یہ پینترا بھی نیا نہیں ہے کیونکہ جب سرے محل اسکینڈل میں جناب آصف علی زرداری پر دباؤ ڈالا گیا تو انھوں نے سرے محل کے کاغذات برطانوی جوڑے کو منتقل کر دئیے تھے اور اسی دہائی میں جب رائیونڈ فارم سکینڈل کا شہرہ ہوا تو جناب نواز شریف نے تو رائے ونڈ فارم صحافیوں کے لیے کھول دیا تھا اور ایک تواضع پر انھوں نے اسے عام سا ڈیرہ قرار دے دیا تھا جبکہ برطانیہ کے اخبار سنڈے ٹائمز میں شائع ہونے والے مضمون میں لکھا گیا کہ رائے ونڈ میں 1440 ایکڑ رقبے پر پھیلی ہوئی نواز شریف کی جائیداد ایک ایسے شخص کی جانب سے اپنی دولت کی بے جا نمودو نمائش ہے جو غریبوں کی زندگی بدل دینے کے مینڈیٹ کے ساتھ فروری 97 میں برسر اقتدار آیا تھا شریف خاندان نے رائے ونڈ کی زمین 13 کروڑ روپے میں خریدی تھی مزید تفصیلات کے لیے سید عبید مجتبی کی کتاب ’’شریف خاندان نے پاکستان کیسے لوٹا‘‘ پڑھی جاسکتی ہے اس کے علاوہ بھی کتب موجود ہیں مگر یہ سب ثابت کرنے کے لیے کوئی نہیں ہے اور نہ کسی کے پاس اتنا وقت ہے کہ وہ سیلن زدہ الماریوں کو کھولے اور دیمک زدہ فائلوں سے ثبوت اور تفصیلات جمع کرے باالفرض وہ ایسا کر بھی لے تو یہ کیسے ممکن ہے کہ کوئی ایسا جگرے والا ہوگا جو سرمایہ داران سے حساب لے گا ۔ جبکہ کہنے والوں نے تو یہ بھی کہہ دیا ہوا ہے کہ
دستار کے ہر تار کی تحقیق ہے لازم
ہر صاحب دستار معزز نہیں ہوتا
مگر تاریخ گواہ ہے کہ تحقیق آج تک کوئی کر نہیں پایا ۔ہاں ! اکیسویں صدی میں اتنا ضرور ہو گیا ہے کہ اس بے راہرودھرنا سیاست سے عوام کو شعور مل گیا ہے کہ سچ اور جھوٹ ان پر عیاں ہوچکا ہے لیکن بھوک اتنی بری چیز ہے کہ وہ عقل ماؤف کر دیتی ہے اور یہاں ہر طرف بھوک ہی بھوک ہے لامحالہ غریب وہی کرے گا جو سرمایہ دار کہے گا مگر اتنا تو ہوا ہے کہ حالیہ کرپشن کا ذکر ہر زبان پر ہے کیونکہ اس اکھاڑ پچھاڑ میں صرف حکومت کا نام نہیں ہے بلکہ بہت سی پگڑیاں اچھل گئیں ہیں اور ان کی بلوں میں ہوتے ہوئے پاپ سامنے آگئے ہیں ایک محفل میں کسی نے کسی سے پوچھا کہ ہمارے سیاستدان جب کہتے ہیں کہ یہ ہمارے خون پسینے کی کمائی ہے تو ثابت کیوں نہیں کرتے جواب دہی کرنے میں کیا برائی ہے ۔ان صاحب نے کہا ! کیا کبھی کسی اداکارہ نے بتایا ہے کہ اس کے پاس اتنا روپیہ کہاں سے آیا ہے ؟ وہ بولے !نہیں ۔۔ایسا تو کبھی نہیں ہوا ۔ انھوں نے ایک زوردار قہقہ لگایا اور یوں فرمایا ! آپ کو اتنا شعور تو ہونا چاہیئے کہ جواب دہی خوف خدا رکھنے والے لوگ کرتے ہیں !
یہ ایک قطعی امر ہے کہ جب حبس بڑھ جائے ‘ ماحول بے یقینی اور مایوسی اوڑھ لے تو انسان مقدر کو کوستا ہے بلاشبہ اخلاقی گراوٹ ،سماجی گھٹن ،سیاسی حبس اور طبقاتی تضاد نے مل جل کر محشر سا بپا کر رکھا ہے جبکہ ارباب اختیار کے چہروں اور اعمال سے سکون، اطمینان اورخوشی چھلک رہی ہے یہی وجہ ہے کہ عوم امید و نا امیدی کے بیچ بھٹک رہے ہیں اور کسی فرشتے کے منتظر ہیں لیکن بھلائے بیٹھے ہیں کہ’’ خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی ۔۔نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا ‘‘اگرچہ حالیہ منظر نامہ اور اپوزیشن بیانات کسی تبدیلی کا مژدہ سنارہے ہیں لیکن عرض ہے کہ بلا شبہ یہ کہانی وہی ہے جو بیس سال پہلے تھی ،بیانات بھی وہی ،انداز بھی وہی اور کرسی چھوڑنے کا عندیہ بھی وہی ہے مگر اب کے حالات وہ نہیں ہیں کہ یہاں سب کچھ مفادات کی بھینٹ چڑھ چکا ہے اور پہلے سا کچھ نہیں ہوگا البتہ اگر واقعی کوئی گنہگار ہے تو رب کریم کی رسی دراز ہے لیکن جکڑ سے بچنا دشوار ہے کہ گئے وقتوں میں ہر طاقتور اور سرکش کو اپنے مال و دولت پر گھمنڈ اور غرور تھا وہ یہ بات بھول چکا تھا کہ وہ سب کچھ جو اس کے پاس تھا اللہ تعالیٰ کی عطا تھا،وہ غربا اور مساکین کو نفرت سے دیکھتا تھا اور انہیں اس مال میں سے قطعی کچھ دینے کیلئے تیار نہ تھا اللہ کا عذاب آیا تو اسے مال و دولت سمیت زمین میں دھنسا دیا گیا تھا ۔بلا شبہ وہ کبھی دے کر آزماتا ہے اور کبھی لیکر اب یہ سوچنے کی بات ہے کہ ہم اسے مقدر (فضل الہیٰ)سمجھیں یا آزمائش !

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *