کیبل سے آزادی

inspecter-kay-qalam-say

میں وہ وقت آج بھی یاد کرتا رہتا ہوں جب گھروں میں بلیک اینڈ وائٹ ٹیلی ویژن ہوتے تھے اور ان کی نشریات رات گیارہ بجے ختم ہو جایا کرتی تھیں اور یہ گویا سارے تھکے ماندوں جن میں سرکاری ملازم بھی تھے اور بھی ہر طبقہ کے لوگ جن کی رسائی ٹیلی ویژن تک تھی کے لئے دن کا اختتام بھی ہوا کرتا تھا۔ رات دس گیارہ بجے سونے کا مطلب یہ تھا کہ صبح جلدی اٹھا جا سکتا تھا۔ مائیں بچوں کو نماز کے لئے جگاتی تھیں اور بچوں کی بھی صبح اٹھتے وقت نیند پوری ہو چکی ہوتی تھی ۔ ظاہر ہے اس تصویر کے کینوس میں وہ کردار دکھائی نہیں دیتے تھے جن تک ہماری یعنی عام لوگوں کی رسائی نہیں تھی اور ان لوگوں کی رسائی دنیا کی ہر چیز تھ تھی ۔ ان کے پاس راتیں جاگنے کے لئے اور بہت اہتمام ہوتا تھا۔

دن کا اختتام جلدی ہونے کی وجہ سے جن گھروں میں ائیر کنڈیشنر نہیں تھے ان گھروں کے صحنوں میں چارپائیاں اکٹھی بچھا کر سونے کا معمول تھا۔ میری والدہ کی چارپائی درمیان میں بچھی ہوا کرتی تھی اور ہم سب بہن بھائی سرکل میں ان کے اردگرد کی چارپائیوں پر دراز ہوا کرتے تھے۔ چھتوں پر لیٹ لیٹ کر یا صحنوں میں چارپائیوں کے ہونے کی وجہ سے ہم ستارہ شناسی کا فن تقریباً جان گئے تھے ہم سب بچوں کو معلوم تھا کہ دب اکبر کا چمکدار ستارہ کس جگہ پر ہے۔ تخیل ہی تخیل میں ہم اس دب اکبر کے ستاروں کی ترتیب سے ماضی کے عربوں کے بارے میں سوچا کرتے تھے جو رات کو اونٹوں پر سامان لاد کر ان ستاروں کی ترتیب سے منزل کا یقین کیا کرتے تھے۔

میں کیونکہ سب سے بڑا تھا تو چھوٹوں کے سونے کے بعد میں امی سے کبھی پرانی انڈٰن دلیپ کمار کی فلم کی کہانی بھی سن لیا کرتا تھا ۔ وہ جب مجھے "انداز" یا "آن" کی کہانی سناتیں تو ان کا موڈ خوشگوار ہوتا ۔ لیکن اگر "بابل" یا "آہ" کی کہانی کی باری ہوتی تو کہانی سناتے ہوئے ان کی آواز بھر آتی۔ کہانی سناتے شائد انہیں اپنی مشکلیں یاد آتیں وہ ہیڈ مسٹریس تھیں اور تاندلیانوالہ جیسے چھوٹے سے قصبے میں تعینات تھیں اور ابا میاں بھی سرکاری ملازم تھے ۔ اس لئے ان کا تاندلیانوالہ چکر کبھی ہفتے بعد اور کبھی پندرہ دن کے بعد لگتا تھا۔ ہمارے ننھیال فیصل آباد میں تھے ۔ اس لئے امی اپنی میکے سے بھی دور تھیں اور سسرال سے بھی۔ لہذا فلموں میں "آن" اور "انداز" جیسی فلموں کی باری کم آتی اور "آہ" جیسی فلموں کی کہانی جو دکھوں سے بھرپور تھی۔ نمی کے آنکھوں سے لبریز تھی۔ نلنی جیونت کے رلا دینے والے جذبات تھے ۔ ایسی کہانیاں امی مجھے زیادہ سنایا کرتی تھیں۔ ٹی وی پر ہم بچوں کے لئے پروگرام بھی ساری نشریات میں ایک دو ہی ہوا کرتے تھے۔ جن میں ایک پروگرام تو کارٹونوں والا ہوا کرتا تھا۔ اور ہم بڑے شوق سے "پوپائی دی سیلرمین" دیکھا کرتے تھے اور دوسرا پسندیدہ پروگرام پی ٹی وی ڈرامہ تھا۔ کبھی "وارث" جیسے ڈرامے لگا کرتے تھے "تیسرا کنارہ" سے ہماری واقفیت ساحرہ کاظمی اور نیرہ نور سے ہوتی تھی۔ راحت کاظمی اور عثمان پیرزادہ ہمارے آئیڈٰل تھے ۔ نیلام گھر تھا اور پھر پاکستانی فلموں کے گیتوں پر مشتمل پروگرام گیت مالا بھی ہوا کرتا تھا۔ یہی پروگرام ہمیں پسندتھے۔

ان دنوں ہندوستانی کارٹون " چھوٹا بھیم" وغیرہ تک  پاکستانی بچوں کی رسائی نہیں ہوا کرتی تھی۔ میں جب سے اپنے بچپن کی سرحدوں سے باہر نکلا یہ بات بھی اتنی مدت پہلے کی ہے کہ مجھے صحیح مدت یاد نہیں۔ لیکن آج تک اپنے بچپن کو یاد کیا کرتا ہوں ۔ پچھلے کچھ دنوں سے "بھیم" وغیرہ کے کارٹون بچوں کے لئے بند کئے گئے  اور بڑوں کے لئے بھی انڈین چینلز کی نشریات بند ہونے سے روحانی خوشی ہوئی ۔ عورتیں جن انڈین ڈراموں کو دیکھ کر گھر میں ڈرامہ کیا کرتی تھیں وہ ڈرامے بند کر دئیے گئے سوچا کہ چلیں پاکستانی قلم کاروں کو اپنی صلاحیتیں اجاگر کرنے کا دوبارہ موقع ملے گا۔ ابھی ہم اسی خوشی میں سرشار پھر رہے تھے کہ بچوں کی جان انڈین ثقافت سے چھوٹی۔ ان کی خراب ہوتی زبان کو سدھار کا موقع ملے گا کہ پرسوں سے ہمیں لگا کہ جیسے ہمارے خدا نے ہماری زندگی کی سب سے بڑٰ دعا قبول کر لی ہے اور ہمارے بچپن کے سہانے اور پرسکون دن واپس آ گئےہیں۔

بچے پیار سے ہمارے گرد منڈلانے لگے ہیں جیسے کبھی ہم اپنے ماں باپ کے گرد چارپائیاں ڈال کر گھیرا ڈالا کرتے تھے اور تو اور بچوں کی امی یعنی ہماری زوجہ محترمہ کو بھی وقت میسر ہو گیا اور وہ بھی بڑے التفات سے دو تین دفعہ ہمارے پاس تشریف لا چکی ہیں۔ دو دن میں تین دفعہ ۔ یکا یک ہمیں دنیا جنت نہ لگنے لگے تو اور کیا سوچیں امید ہے کہ اگلے دنوں میں معاملہ ایسا ہی رہا تو چارپائیاں بھی اکٹھی ہو جائیں گی۔ اگر سردیاں نہ ہوتیں تو شائد اب تک ہو بھی گئی ہوتیں۔ گرمیاں ہوتیں تو پائنتی کے پاس گھڑولی پر گھڑا بھی آ چکا ہوتا اور بڑی مدت کے بعد گھڑے کا ٹھنڈا اور کورا پانی بھی پیا جانا شروع ہو چکا ہوتا۔ اس کایا پلٹ کے لئے ہماری قوم مرہون منت ہے تو وہ ہیں کیبل آپریٹر ۔ اللہ تعالیٰ کی حکمت سے حکومت وقت سے ان کا مسئلہ شروع ہوا اور چاہے کچھ دنوں کے لئے صحیح ہماری کیبل سے جان چھوٹ گئی۔ میری زوجہ محترمہ جو کبھی مجھ سے "ساس بھی کبھی بہو تھی" کھیلا کرتی تھیں اور کبھی "سنگ مرمر" بن کر مجھے ٹک دیکھا کرتی تھیں گویا منہ میں زبان نہ ہو۔ اب دو دنوں سے وہ بچوں کو پوچھ رہی ہیں کہ بچو تمہیں بھوک لگ رہی ہو تو چپس بنا دوں ۔ ان کو سکول جاتے وقت اچھا سا ناشتہ بھی بنا کر دیا جا رہا ہے۔ ہمیں وقت پر چائے مل رہی ہے۔

من حیث القوم ہم خوشیوں سے سرشار ہیں کہ حامد میر ۔ جاوید چوہدری۔ کامران خان اور مبشر لقمان جیسے مہنگے اینکرزسے ہامری جان مستقل بنیادوں پر چھوٹ جائے تو بتائیں ہماری معیشت کتنی بہتر ہوگی۔ ملک میں کتنی خوشحالی آئے گی۔ ضروریات زندگی اتنی ارزاں ہو جائیں گی کہ لوگ پاناما لیکس اور کرپشن سکینڈلز کو بھول جائیں گے۔ شیخ رشید جیسے سیاستدانوں کی چند دن ٹی وی سے چھٹی ہو جائے گی تو ہو سکتا ہے وہ گھر بسانے کی سوچ لیں۔ عمران خان صاحب کو ملک میں بہتری کی صورت نظر آئے تو وہ شائد ضد چھوڑ کر اپنے لئے بھی وقت نکالیں ۔ پختونخواہ کے لوگ تو صرف اس بات پر ہی راضی ہو جائیں گے کہ ان کا "پیا گھر واپس آ گیا ہے"۔

احمد رضا قصوری ، بابر اعوان ، نعیم بخاری ، حامد ملک اعتزاز احسن جیسے بڑے وکلا بھی یہ کہہ کر دوبارہ وکالت کی طرف رجوع کرلیں گے کہ اب سیاست میں کیا رکھا ہے۔ غرضیکہ میری دانست میں ہمارے ملک کی ہر چیز اپنی جگہ پر واپس چلی جائے گی ۔ کل کلاں کو کیبل آپریٹرز کے ساتھ حکومت کی صلح بھی ہو جائے اور کیبل گھروں میں واپس آ جائے۔ میری بیوی دوبارہ ڈراموں میں مشغول ہو جائے میرے بچے بغیر ناشتے کے سکول جانے لگیں۔ احمد رضا قصوری اور کمپنی وکالت چمکانے کے لئے اپنے چیمبرز کی بجائے ٹی وی کا استعمال کرتے رہیں ۔ اینکرز کی تنخواہیں اور ریٹنگز مزید بڑھ جائیں ۔ پاکستان کی معیشت نیچے چلے جائے۔ ساس بھی کبھی بہو تھی پھر سے گھروں میں کھیلا جانے لگے۔ مودبانہ التماس ہے کہ میری گذارشات پر درد بھرے دل سے غور کیا جائے اور اس عفریت کو گھروں سے ہمیشہ کے لئے دور کر دیا جائے۔ ہم دوبارہ چھتوں پر پی ٹی وی کے اینٹینا لگا لیں گے اور سلور کے برتن بھی خرید کر ان پر لگا لیں گے اور یقین کریں کوئی احتجاج بھی نہیں ہوگا۔ کبھی بجلی کی لوڈشیڈنگ پر قوم کچھ کر سکی ہے کبھی cng  کے اسٹیشنز کی ویرانی پر ان کے مالک روئے ہیں۔ کبھی گھروں میں گیس نہ آنے پر کسی عورت نے اشک بہائے ہیں اور تو اور ذوالفقار علی بھٹو کی شہادت پر اس قوم نے کیا کر لیا تھا۔

بہتر ہے یہی صحیح وقت ہے گھروں سے کیبل نکالیں ۔ ان اینکروں سے جان چھڑوائیں ۔ کوئی ہرا سچ لئے پھرتا ہے تو کوئی کھرا سچ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *