کا لا دھن اور قطار میں کھڑے ہندوستانی

faheem-akhter-uk

9؍نومبر کو جب ساری دنیا کی نظر امریکی الیکشن پر ٹکی ہوئی تھی تو اسی وقت بھارتی وزیر اعظم نے ٹی وی پر آکر یہ اعلان کر دیا کہ 500اور 1000روپئے کے نوٹ کو ختم کر دیا جا ئے گا۔ بھارتی وزیر اعظم نے یہ بھی کہا کہ ایسا کرنا بہت ضروری تھا کیونکہ اس سے ہندوستان میں کالے دھن کا خاتمہ ہوجا ئے گا۔ اس اعلان سے پورے ملک میں افراتفری پھیل گئی ۔ سوشل میڈیا پر دھڑا دھڑ لوگوں کے پیغام پوسٹ کئے جانے لگے۔کوئی بھارتی وزیر اعظم کی ستائش کر رہا تھا تو کوئی ان کے اعلان پر حیرانی کا اظہارکررہا تھا۔دیکھتے ہی دیکھتے پورے ملک میں ایک عجیب و غریب ماحول بن گیا۔ بینکوں کے باہر لمبی لمبی قطاریں لگنے لگیں اور لوگوں میں پریشانی کے ساتھ ساتھ غصہّ بھی پایا جانا لگا۔
لیکن جوں جوں وقت بیت رہا ہے ملک میں افراتفری اور بڑھتی جارہی تھی۔ برطانیہ کے علاوہ دنیا کے تمام اخبارات میں بھارتی وزیر اعظم کے اس اعلان پر حیرانی کے ساتھ ساتھ عام لوگوں کی پریشانیوں کے بارے میں تبصرہ کیا گیا ہے اور بھارتی وزیر اعظم کے اعلان کو ایک حیران کن قدم بتا یا گیا ہے۔زیادہ تر ہندوستانی جو ہندوستان سے باہر رہتے ہیں انہوں نے بھارتی وزیر اعظم کے اس قدم کو کافی سراہا اور وہ مان رہے ہیں کہ وزیر اعظم کا یہ قدم ان کے الیکشن کے اُس وعدے کے مطابق ہے جس میں انہوں نے اعلان کیا تھا کہ حکومت بننے کے چھ مہینے بعد کالا دھن کو ملک میں واپس لا ئیں گے۔
زیادہ تر بھارتی جو بیرونِ ممالک میں رہ رہے ہیں انہیں وزیر اعظم مودی کے ڈائیلگ اور زوردار تقریر نے اپنا گرویدہ بنا رکھا ہے۔ اس لئے وہ مودی کے ہر فیصلے پر صرف واہ واہ ہی کرتے نظر آتے ہیں اور بھارت کو ایک ہندو راشٹر بننے کا ادھورا سپنا دیکھ رہے ہیں ۔ جو شاید ہزاروں مودی کے آنے کے بعد بھی نہ بن سکے گا۔
لیکن مودی کی نیند تب حرام ہوگئی جب لاکھوں ہندوستانی بینکوں کے باہر سارے دن کھڑے اپنی باری کا انتطار کرتے ہوئے نظر آئے اور پورے ملک میں افراتفری کا منظر پایا جانے لگا۔اس کے علاوہ عام لوگوں میں کافی غصہّ بھی ابھرنے لگا ۔ قطار میں کھڑے عام آدمی کہہ رہے تھے کہ کیا یہاں کوئی بھی آدمی کالا دھن والا دِکھ رہا ہے؟ پھر مودی اچانک ہم روزانہ مزدوری کرنے والوں کوکیوں پریشا ن کر رہے ہیں؟ اس کے علاوہ متعدّد شہروں میں بھیڑ بے قابو ہونے کی وجہ سے لوگوں کو ہندوستانی پولیس نے بے رحمی سے پٹائی بھی کی۔اس دوران ایسی بھی خبریں آنے لگیں کہ لمبی لمبی لائن میں کھڑے ہونے سے کئی لوگوں کی جان بھی چلی گئی۔
لیکن مودی جی اپنی انا اور ہٹ دھرمی پر ڈٹے ہوئے ہیں اور حد تو تب ہوگئی جب گوا کی ایک تقریب میں مودی اپنی بھوس بھری چھاتی کو دکھاتے ہوئے عام ہندوستانیوں کی شادی، بیمار لوگوں اور عوام کی تکلیف کا مذاق اڑاتے ہوئے جلسہ گاہ میں موجود لوگوں کی واہ واہ ہی لوٹی تھی۔ سچ پوچھئے تو مجھے غصّے سے زیادہ راون کا چہرہ یاد آرہا تھا جسے ہم نے بچپن میں ہر سال دسہرے میں ایک ظالم کی شکل میں دیکھا تھا اور جس کا پتلا جلایا جاتا تھا۔
حکومت کے ترجمان ٹیلی ویژن پر آکر وزیر اعظم کے قدم کو ایک تاریخی اور مثالی قدم بتا رہے ہیں اور دعویٰ کر رہے ہیں کہ ایسا کرنا بہت ضروری تھا ۔ ملک میں لوگوں نے کالا دھن چھپا رکھا ہے اور جس سے عام آدمی اور ملک کی معیشت کو کافی نقصان پہونچ رہا ہے۔ جب یہ سوال پوچھا جاتا کہ 500روپئے اور 1000روپئے کے نوٹ پر پابندی لگا دینے اور بیک وقت 2000روپئے کے نوٹ جاری کر کے کالا دھن کیسے ختم ہوگا؟تو ترجمان کہتے ہیں کے اس کا نتیجہ جلد منظرِ عام پر آئیگا اور اس میں کچھ وقت لگے گا۔
جب وزیر اعظم نے 500روپئے اور 1000روپئے کے نوٹ پر پابندی کا اعلان کیا تھا تو انہوں نے چند دنوں کی مہلت مانگی تھی ۔ بعد میں انہوں نے اپنی ایک تقریر میں لوگوں سے پچاس دن کی مہلت کی مانگ کرنے لگے جس سے لوگوں میں تشویش اور بڑھ گئی۔وزیر خزانہ کی شکل پر ہوائیاں اڑ تی دیکھی جارہی ہے جس کی ایک وجہ شاید ان کو خود اس بات کا پتہ نہیں تھا یا وہ اس بات سے غافل تھے۔ اور کہے بھی تو بیچارے کیا کہے کیونکہ پانی تو اب سر سے اوپر بہہ رہا ہے۔ویسے بھی وزیر خزانہ ارون جیٹلی کالے دھن کے معاملے میں ماسٹر اسٹروک مانے جاتے ہیں تبھی ایم پی کیرتی آزاد کو بی جے پی پارٹی سے نکال دیا گیا ہے۔ کیری آزاد کا قصور یہ تھا کہ انہوں نے ارون جیٹلی پر دھاندلی کا الزام لگا یا تھا۔
آئیے بھارتی وزیر اعظم کے اس احمقانہ قدم اور اس کے حوالے سے چند اہم باتیں آپ کو بتاتے ہیں۔ 500روپئے اور 1000روپئے کے نوٹ کو ہندوستانی عوام 10؍نومبر سے 30؍ دسمبر تک ایکسچینج کر سکتے ہیں۔ تاہم 500روپئے اور 1000روپئے کے نوٹ ائیر پورٹ،ریلوے اسٹیشن اور ہسپتال میں 11؍ نومبر تک ہی قبول کئے گئے۔حکومت نے24؍ نومبر تک بینکوں کو اس سلسلے میں یہ گائیڈ لائن دیا ہے کہ ایک آدمی ایک دن میں صرف 4000روپئے نوٹ ہی ایکسچینج کر سکتا ہے۔
یوں تو حکومت اس بات کو نہیں بتا پارہی ہے کہ ملک میں آخر کتنا کالا دھن ہے لیکن ایسا اندازہ لگایا جا رہا کہ اس کی گنتی کرنا آسان نہیں ہے۔جس کی ایک وجہ جعلی نوٹ بھی ہے جو بازار میں عام دستیاب ہے۔حکومت نے بینک کو یہ ہدایت دی ہے کہ اگر کوئی بھاری مقدار میں500 روپئے اور 1000روپئے کے نوٹ لے کر آئے تو اس سے پوچھ تاچھ کی جائے اور انکم ٹیکس کو اس کی اطلاع دی جائے ۔ ویسے زیادہ تر لوگ بینک کے باہر 500روپئے اور 1000روپئے کے چند ہزار نوٹ ہی لے کر پریشانِ حال ہیں۔
لیکن ان تمام باتوں سے عام آدمی یہ نہیں سمجھ پارہا ہے کہ لمبی لمبی قطاروں میں دن بھر کھڑے ہو کر نوٹوں کے ایکسچینج کرانے سے کالے دھن کیسے ختم ہوجائیگا۔ تا ہم اس کے بر عکس لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ وزیر اعظم کی اس احمقانہ حرکت سے عام آدمی کا جینا حرام ہوگیا ہے۔ان کے گھروں میں چولہے نہیں جل رہے ہیں۔ کسی کی بیٹی کی شادی ہونا نہ ممکن ہوگیا ہے تو کہیں کوئی بیمار اپنی علاج سے مایوس ہو کر مودی کو کوس رہا ہے۔
آخر یہ کون لوگ ہیں جو لمبی لمبی قطاروں میں کھڑے ایسی باتیں کہہ رہیں ہیں۔کیا یہ لوگ کسی خاص سیاسی پارٹی کے حامی ہیں؟جی نہیں یہ ہندوستان کا عام آدمی ہے جو روزانہ کام کر کے اپنی اور اپنے پریوار کی زندگی گزار رہا ہے۔ ان میں شاید زیادہ تر وہ لوگ بھی ہیں جنہوں نے وزیر اعظم کی دھواں دھار تقریر سن کر کچھ لمحوں کے لئے اپنے ہوش و حواس گنواکر ایک امید کے تحت بھارتی وزیر اعظم کو ووٹ دیا تھا ۔ اس بات کے لئے ووٹ دیا تھا کہ اب وہ ایک نئے ہندوستان میں ایک نئی اور اچھی زندگی گزارے گا جس کا مودی نے بار بار وعدہ کیا تھا۔
میں روزانہ اس خبر پر نظر رکھ رہاہوں اور گاہے بگاہے عام ہندوستانیوں سے رابطہ بھی کر رہا ہوں۔ اب تک مجھے کوئی ایسا نہیں ملا جو یہ کہہ رہا ہو کہ یہ ایک اچھا قدم ہے اور آنے والے دنوں میں ہندوستان سے کالا دھن ختم ہو جائیگا۔ بلکہ لوگ کافی ناراض اور حیران پائے جارہے ہیں۔ اس کے علاوہ اب ٹیلی ویژن پر بھی حقیقت دکھائی جارہی ہے جو شروع میں شاید حکومت کے اشارے پر متعصبانہ اوریک طرفہ رپورٹنگ کر رہے تھے۔
میں نے اس معاملے کا بغور جائزہ لینے کی کوشش کی ہے کہ کس طرح سے نوٹوں کی پابندی سے ایک عام آدمی اور امیر ترین ہندوستانی متاثر ہو سکتا ہے۔ مثلاً ایک امیر ترین آدمی جو لاکھوں روپے کماتا ہے اور وہ اپنے روز مرّہ کے اخراجات کی ادائیگی نوٹوں کی بجائے میری طرح یا تو (contactless card)یا موبائیل فون کے ذریعہ کرتا ہے تو اسے 500روپئے اور 1000روپئے کے نوٹوں سے کیا مطلب ہے۔دوسری طرف ہندوستان کی 70%فی صد عوام جو اس سسٹم کو نہ تو جانتی ہے اور نہ ہی ان کی اتنی کمائی ہے کہ وہ اس سسٹم کو اپناسکتی ہے۔ ان میں رکشہ چلانے والے، مزدوری کرنے والے، اور معمولی نوکری کرنے والے لوگ ہیں۔ تو 500روپئے اور 1000روپئے کے نوٹ پر پابندی لگا کر یہ کہنا کہ کالا دھن ختم ہوجائیگا ، بات مجھے ہضم نہیں ہو رہی ہے۔
اب آپ دیکھے کہ ہندوستان کے لگ بھگ 5%فی صد امیر ترین اور ارب پتی لوگ جن کے نام دلّی کے وزیر اعلیٰ اروند کجریوال نے بہت پہلے حکومت کو دئے تھے کہ ان لوگوں کی دولت بیرون ممالک اور سو ئیس بینک میں پڑی ہے۔ اُس وقت وزیر اعظم نے اپنی چھاتی کو چوڑا کر کے کہہ دیا تھا کہ ہم ان لوگوں کے کالا دھن ہندوستان واپس لا ئیں گے اور عام لوگوں کو بانٹ دیں گے۔اب آپ سوچے کوئی بینک کسی کے اکاونٹ کی تفصیل کیسے کسی کے حوالے کر سکتا ہے۔اب جب دوسال ہوگئے اور وزیر اعظم نے دنیا کے لگ بھگ این آر آئی کی واہ واہ لوٹ لی تو ان کو ایسا لگا کہ ہندوستان کی عوام وزیر اعظم مودی کی نوٹنکی کو سمجھنے لگے ہیں اور آنے والے دنوں میں مودی کے ڈائلیگ کا ان پر کوئی اثر نہیں ہونے والا ہے تو انہوں نے 9؍ نومبر کو بوکھلاہٹ میں 500روپئے اور 1000روپئے کے نوٹ پر پابندی لگانے کا فیصلہ کر ڈالا۔
میں ہندوستانی عوام کے اس پچھتاوے پر افسوس کرتاہوں کہ انہوں نے مودی کی چاپلوسی اور احمقانہ باتوں میں آکر ان کو ملک کا وزیر اعظم بنا دیا ۔لیکن مجھے امید ہے کہ مودی نے جس طرح ہندوستان کے محنتی عوام کو گھروں سے باہر نکال کر قطار میں کھڑا کر دیا ہے اس کا بدلہ عوام ضرور لیں گے اور آنے والوں دنوں میں عوام مودی جیسا کسی سر پھرے انسان کو عظیم ہندوستان کا وزیر اعظم نہیں بنائیں گے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *