ٖفکاہاتِ جلیس۔۔ ایک مطالعہ

jaleesذوالکفل بخاری

بہت دن ہوتے ہیں کہ جب یہ نکتہ ایک مردِ دانا نے ہمیں سمجھایا تھا کہ کالم جس صنفِ سخن کا نام ہے، تمہید باندھ کر لکھنے سے اُس کی جنس تبدیل ہو جاتی ہے، حتیٰ کہ نوع تک کے بدل جانے کا احتمال ہوتا ہے۔ آج کی اخباری اور جریدی دنیا میں کالم کے نام سے جو کچھ چھپ رہا ہے اُسے دیکھ کر اِس نکتے پر ہمارا یقین مضبوط سے مضبوط تر ہوتا رہتا ہے۔ ظاہر سی بات ہے کہ مثالوں سے چیزیں آسانی سے سمجھ میں آجاتی ہیں لیکن مثالیں ’’ سلبی‘‘ اور ’’ایجابی‘‘ دونوں ہی طرح کی ہوتی ہیں۔ کالم نگاری کی ایک اچھی مثال حال ہی میں ہمارے مطالعے میں آئی ہے اور وہ ہیں مرحوم ابراہیم جلیس کے کالم۔ اگر کالم کو ادب اور صحافت کا نقطہِ اتصال مان لیا جائے تو جلیس کے یہ کالم اپنی معنوی قدروقیمت اور ادبی حیثیت ثابت کرنے میں بہمہ وجوہ کامیاب ہیں۔ ان کالموں کا اسلوب شگفتہ، مزاحیہ اورت فکاہیہ ہے جب اِن کی زبان عوامی ہے، آسان ہے اور بے تکلّف ہے۔
بات یہ ہے کہ جو آج کی اردو صحافت میں بہت رونق اور بہت چہل پہل بلکہ صحیح تر لفظوں میں بہت زیادہ رنگ و روغن دیکھا جا رہا ہے، اُس کو مہیا کرنے میں کتنے ہی اوارو عہود اور کتنی ہی مساعی و جہود کا پس منظری کردار رہا ہے۔ زبان، ادب، سماج اور سیاست کی راہوں سے امکانات اور تغیرّات کے کتنے ہی فاصلے چلے جنھوں نے صحافت کے کوچے کو آباد کیا۔ کبھی یہ ایک مشن تھی، آج ایک صنعت ہے۔کبھی یہ بہت سادہ تھی ، آج بہت رنگین ہے۔ رنگین ہی نہیں، پُر کار بھی ہے۔ پاکستان بنا تو لاہور ایک بنا بنایا صحافتی مرکز تھا۔ پھر کراچی نے آنکھیں کھولیں۔ اس ’’ عروس البحر‘‘ کے خبری و نشری پر پُرزے دنوں ہی میں نکل آئے۔رنگ جم گیا، سماں بندھ گیا، میدان سج گیا اور پھکیت میدان میں اُتر گئے۔تاریخ نے ورق پلٹ دیا۔اور پھر وہ سب لوگ نجانے کہاں کہاں سے آتے چلے گئے جنھوں نے ایک نئے عہد کی راہ میں بچھی آنکھوں ، صحافت کی آنکھوں میں اُمید اور اُمنگ، شوخی اور ژرارت، زندگی اور حرارت بھر دی۔ اِنھی بہت سے لوگوں میں ایک نام جلیس کا بھی ہے۔
ابراہیم جلیس کے فکاہیہ کالموں کے مجموعے ’’فکاہاتِ جلیس ‘‘ میں اسی زندگیاور اسی حرارتکے عکس ہیں جو جابجا اُبھرتے ہیں، سائے ہیں جو جھومتے اور لہراتے ہیں اور رنگ ہیں جو بکھرتے ہی چلے جاتے ہیں۔ جلیس کی زندگی اور ملک کی تاریخ کے پچیس سال، ہنگامہ خیز اور بحرانی( یوں کہیے’’فوجداری اور ’’دیوانی‘‘)ان کالموں می محفوظ ہیں۔ کچھ لوگ چیزوں کو محفوظ کرنے کے لیے حنوط کر دیتے ہیں لیکن جلیس کے ہاں ایک اور ہی فن بروے کار لایا جاتا ہے۔اظہار کا بے ساختہ پن، جو تحریروں کو مرنے نہیں دیتا۔ ایک اقتباس دیکھیے کہ۔۔۔۔۔
ہمارے زمانے میں ایسی فلمیں بہت بنتی تھیں جس میں ایک ہیرو ایک نقاب پوش نوجوان ہوا کرتا تھا جو نیک دل بادشہ کی خوبصورت شہزادی کو بار بار باغی اور بد طینت دیو یا جن کے چنگل سے بچایا کرتا تھا، اور ایسے موقع پر شیزادی یا بادشاہ پوچھا کرتے’’ ایک بہادر محسن !اپنا نقاب ہٹا کر بتاؤ کہ تم کون ہو؟ ‘‘ تو ہیرو کہتا تھا ’’وقت آنے پر سب بتا دیا جائے گا‘‘ یہ کہہ کر وہ کھڑکی سے پھلانگ، گھوڑے پر سوار، شوں سے غائب۔مگر سینما ہال میں پبلک چیخ چیخ کر بتاتی تھی ’’ شہزادی ہن نے پہچان لیا کہ وہ دلیپ کمار تھا مگر تو نہیں پہچان سکی۔دُر فٹے منہ تیرا‘‘۔وقت کے بارے میں پرانی فلموں کا یہ تھیم ڈائلاگ ہمیں آجکل بار بار اسلیے یادآرہا ہے کہ اِن دنوں نئے شیرِ پنجاب جناب۔۔۔ جب بھی جلسہِ عام نما پریس کانفرنس کرتے ہیں تو اُن کا تھیم ڈائیلاگ بھی ہوتا ہے ’’ وقت آنے پر میں بھی موجودہَ حکومت کے سارے راز فاش کر دوں گا‘‘۔
جلیس کے ان کالموں کے لکھے جانے کا عرصہ 1954سے1977تک کا ہے۔ دسیوں روزناموں اور ہفت روزوں کی کوچہ گردی پر مشتمل اس کٹھن صحافتی زندگی کا حاصل یہ کالم ہیں جنھیں جواں سال اور جواں ہمت محقق ڈاکٹر امتیاز بلوچ نے اخباریاور جریدی فائلوں کے قبرستانوں سے ڈھونڈ ڈھانڈ کر یکجا کیا ، مرتب کیا اور پھر اِن میں ’’ کتابی روح‘‘پھونک دی۔ فراموش گاری کی گرد صاف ہوتے ہی بے شمار تخلیقی جملے، تمثیلیں، طنز پارے اور مزاح نامے اپنی اصل جون میں واپس آگئے۔
جلیس بنیادی طور پرافسانہ نگار تھے۔ اُن کا یہی پس منظر اور تربیت و ریاضت اُنھیں گرد و پیش کے مناظر و مظاہراور حالات و واقعات کو تمثیلی اور علامتی پیرائے میں پیش کرنے کی ایک خاص مہارت فراہم کرتی ہے۔ اِس مہارت کے ثبوت کے طور پر شاید اُن کا ہر دوسرا کالم پیش کیا جا سکتا ہے۔ اس سلسلے کی غیر معمولی مثال وہ نو کالم ہیں جو اُنھوں نے یکے بعد دیگرے یعنی تابڑ توڑ 1976کے اوائل میں لکے۔ اُس وقت کی سیاسی صورتحال کو Allegorizeکرنے کے لییجلیس نے جنگلی اور حیوانی’’ امیجری‘‘ کا کالموں میں خوب خوب استعمال کیاہے۔ وہ لکھتے ہیں۔۔۔
صبح نو بجے سے چھانگا کے جنگل میں جانوروں کے اقوامِ متحّدہ کی سلامتی کونسل کی جلسہ گاہ کھچا کھچ بھر گئی تھی۔ جانوروں میں بڑاجوش و خروش تھا۔ دنیا کا شاید ہی کوئی ملک ایسا ہو جہاں سے مندوبین اس کونسل میں نہ پہنچے ہوں۔ جلسہ گاہ کے ڈائس پر مشہور مصور پکاسو کے پالتو بندر موسیوسپانزی کا بنایا ہوا انسان کا ایک ایسا سکیچ تھا کہ اُس سے سانپ بچھو چمٹے تھے۔ گھوڑے گدھے اُس پر دولتیاں چلا رہے تھے اور شیر ببر، چیتے اور تیندوے ہر چہار سمت سے اُس پر جُست لگا رہے تھے۔ اور چیل ،کوّے اور گدھ اُس کے سر پر باری باری ٹھونگیں لگا رہے تھے۔ اور تو اور کتا جو انسان کا وادار ازلی غلام تھا، وہ بھی ایک دم فرنٹ پر اُس پر بھونک رہا تھا۔
مزے کی بات تو یہ تھی کہ جلسہ گاہ میں مہامانوں مور مبصرین کے لیے ایک الگ انکلوثر تھا جس میں آدم کی ما خلف اولاد یعنی اسمگلر، چور بازار تاجر،ناجائز منافع خوردکان دار،ہر دوسرے تیسرہ مہینے کرایہ بڑھانے والے اور بار بار ایڈوانس بگڑی طلب کرنیوالیلالچی بے مروت مالکانِ مکان، مسافروں کو کم سے کم آرام اپن سے زیادہ سے زیادہ کرایہ بٹورنے والے مالکانِ بس و منیبس اور ٹیکسی و رکشہ ڈرائیور، رشوت خور ملازمینِ سراکر۔ دودھ مین پانی ملانے والے گوالے، گوشت میں چھیچھڑے ملانے والے قصائی، گھی میں موبل آئل ملانے والے گھی فروش،آٹا ، چینی چاولوں میں برادہ ملانے والیراشن مرچنٹ، ماں ، بہمن بیوی اور بیٹی کی آبرو بیچنے والے بے غیرت دلّال، قوم و ملک بیچنے والے عوام دشمن۔ سامراج کے پٹھو ڈکٹیٹر ڈٹے بیٹھے تھے۔ ان میں صاف طور پر پہچانے جانے والوں مین کمبوڈیا کے مارشل لون نول۔ جنوبی ویت نام کے جرنل تھؤ اور مارشل کاؤ جنوبی افریقہ کی گوری اقلیت کے انسان دشمن وزیرِ اعظم اسمتھ اور اسرائیل کے انسان نما درندے وزیرِ اعظم مسٹر رابن نمایا تھے۔
سب سے زیادہ دلچسپ مسئلہ یہ تھا کہ شیر اور بکری ایک ساتھ ایک ہی صوفے پر بیٹھے تھے۔ اس عجیب و غریب منظر کو دیکھ کر ایک اخبار نویس نے بڑی حیرت سے دوسرے سے کہا’’ پُر امن بقائے باہمی کا اس سے بہتر ثبوت اور کیا مل سکتا ہے کہ ایک بکری ایک شیر کاے ساتھ یوں بے خوف و خطر بڑے اطمینان سے شانہ بشانہ بیٹی ہے‘‘۔تو دوسرے اخبار نویس نے بڑی بے نیازی سے جواب دیا’’ ارے یہ کوئی نظارہ نہیں ہے ایسا تو میں نے نیو کراچی کے زوالوجیکلگارڈن بلکہ اہلِ کراچی کی عام سیر گاہ ’’ گاندھی گارڈن‘‘ میں بھی دیکھا ہے۔ وہاں بھی ایک شیرکے پنجرے میں ایک بکری مدّتوں سے رہتی ہے اور ابھی زندہ سلامت ہے ۔‘‘ اخبار نویس کی یہ گفتگو سن کرشیر کے ساتھ بیٹھی بکری کو بڑا غصّہ آیا اور اُس نے دونوں فو ٹو گرافرووں کو ڈانٹا ’’ اے بے خبر اخبار والو ! میں تمھیں گاندھی گارڈن میں شیر اور بکری کے نام نہادپُر امن بقائے باہمی کا راز بتاتی ہوں کیونکہ میرے خاندان کی کئی بکریاں اس نام نہاد پڑ امن بقائے باہمی کی جھوٹی نمائش کے لیے اس شیر کے پنجرے میں موت کے گھاٹ اُتر چکی ہیں۔ تمھاری یہ اطلاع غلاط ہے اُس شیر کے پنجرے میں ایک بکری مدّتوں سے رہتی ہے اور ابھی تک زندہ سلامت ہے۔ راز کی بات تو یہ ہے کہ دنیا والوں کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لیے اُس پنجرے میں روز علی الصبح ایک نئی بکری باندھی جاتی ہے۔
فکاہاتِ جلیس میں ڈاکٹر امتیاز بلوچ نے کو دو سو کے لگ بھگ کالم یکجا کیے ہیں۔ اسے ہم جلیس کے کالموں کا ایک نمائندہ انتخاب قرار دے سکتے ہیں۔ پیروڈیاں، لطیفے، تضمینیں،پنجابی لوک گیتوں کے چست و برجستہ مصرعے۔ بعض نادر روز مرے محاورے کتنی ہی سوغاتیں ہیں جنھیں اس انتکاب نئے آج کے قاری کی حدِّ رسائی میں لا کھڑا کیا ہے۔ ا س موقع پرفاضل مرتب و مدون کے انتخاب و ترتیب کے ذوق اور محنت کی داد نا دینا نا انصافی ہے۔ خصوصاََ اُس طول طویل مقدمے کے لیے بھی جنابِ مرتب لائقِ داد ہیں کہ جسے اس کتاب کا کلید کہنا چاہیے۔ یہ جلیس کی شخصیت، فن اور زندگی کاایک طویل مختصر جائزہ ہے۔ جلیس کے بعض نقادوں کا اھساس ہے کہ اپن کی کلام نگاری کے آخری دورمیں اُن کے اسلوب میں کچھ ایسی تبدیلیاں وقع پذیر ہوئیں جنھوں نے اُن کے فن کو نقصان پہنچایا۔ ڈاکٹر امتیاز بلوچ نے اپنے مقدمے میں نقادوں کی اس رائے سے اختلاف ضرور کیا ہے لیکن کسی بھی تفصیل یا تجزیے سے گریز کرتے ہوے۔ ہمارے خیال میں جلیس کے اسلوب کے بارے میں اس رائے میں خاصا وزن ہے۔ کتاب کے مندرجات اس کی تائید کرتے ہیں۔ اپنی کالم نگاری کے آخری دور میں جلیس ایک ’’ کامریڈ‘‘ نظر ااتے ہین جس کے گرد و پیش کی دنیا میں صرف دو طرح کے ناسان بستے ہیں: بورثوا اور پرولتاری۔بورثوا کے؛یے اُن کا طنز براہَ راست اور تلخ ہو جاتا ہے۔ اس میں تمسخر، تضحیک اور استہزاء کے رنگ بھی جھلکنے لگتے ہیں۔ اُن کے اندر کا صھافی حقائق و مظاہرے کے کسی گہرے تجزیہ کا متحمل ہی نہیں ہے بلکہ وہ تازہ خبروں پر تبصرے سے کلام بناتا چلا جاتا ہے۔ اِس تبصرے میں فوری ردِّ عمل، جذباتیابال، غم و غصّہ، بے بسی کا احساس سبھی کچھ شامل ہے۔ ایسے میں مزاح کی شگفتگی ناپید اور طنز کی بے ساختگی مجروح ہوتی ہے اور بار بار ہوتی ہے۔ البتہ یہ صورتِ حال بعض دلچسپ داخلی تضادات کے نمایاں ہونے کا سبب بھی بنتی ہے۔ مثلاََ ایک جگہ ’’ رجعت پسندوں‘‘کے بارے میں اپنے رویے کی وضاحت کرتے ہوے وہ لکھتے ہیں:
وہ مجھے یا میریرسالے کو برا سمجھا کریں، میں اُن کو برا نہیں سمجھتا۔ یہ لوگ بااخلاق ہوتے ہیں۔ ان کی سب سے اچھی خصوصیت یہ ہے کہ اُنہیں خریدا نہیں جا سکتا۔ مگر سیاست میں وہ نا صرف رجعت پسند ہیں بلکہ ان کا رول آمرانہ یا ہٹلرانہ ہے۔ان سے میرا بس اتنا ہی اختلاف ہے کہ وہ جمہوریت کے بجائے آمریت کے پرستار ہیں۔
اس موقع پر جلیس اپنے ایک قاری کا ایہ اعتراض بھی نقلکرتے ہیں کہ ’’ ترقی پسند دوست آپ سے ناراج ہیں کہ آپ ایک آمرانہ حکومت کی حمایت کرتے ہیں اور بِک چکے ہی‘‘ اور جواباََ لکھتے ہیں۔۔۔ آپ نے جن ترقی پسند ساتھیوں کا نام لکھا ہے اُن کا کام صرف دوسروں پر اعتراض کرنا ہے۔ میں تو چلیے عوام کے ووٹوں سے منتخبپاکستان کی پہلی عوامی حکومت کے ہاتھوں بکا ہوا ہوں، یہ لوگ تو چھوٹے چھوٹے سرمایہ داروں، بنیوں، بقالوں کے ہاتھوں بکے ہوے ہیں۔ ان پر لعنت بھیجیے۔
یہی وہ دو ٹوک پنا ہے جس سے اُن کے ضمیر، اُن کے شفاف تکلیقی باطن، اُن کا سچی فن کارانہ کمٹ منٹ کا سراغ ملتا ہے۔ بقول یگانہ ’’ چتونوں سے ملتا ہے کچھ سراغ باطن کا‘‘! اگرانگریزی محاورے کا سہارا لیا جائے تو کہا جا سکتا ہے کہ dictates of conscienceپرdictates of comradeکے غالب آ جانے سے جلیس کے ہاں تخلیقی سطح پر وہ سب مسائل پیدا ہوے جن کا ادراک تو شائد اُنہیں خود بھی تھا مگر تدارک یقیناََُاُن کے بس میں نہیں تھا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *