چیرمین این ایچ اے سے دانشور سعید آسی تک

شہزاد حسین بھٹی

shehzad-hussain-bhatti

ٍ ایک سوال گذشتہ طویل عرصے سے سنجیدہ حلقوں میں اکثر زیر بحث آتا ہے کہ ہمارے ملک کے قانون نافذکرنے والے ادارے دن بدن گراوٹ کا شکار کیوں ہو رہے ہیں۔ان کی کارگردگی بدلتے وقت کے ساتھ بہتر ہونے کے بجائے بد سے بدترین کیوں ہوتی جا رہی ہے۔ اور اس ملک سے محبت کرنے والے طبقات کے لیے یہ انتہائی خوفناک صورت حال ہے کیونکہ ہمارے اداروں کی کارکردگی کبھی بھی قابل رشک نہیں رہی۔ اگر اس کار کردگی میں بہتری کے بجائے مزید تنزلی آرہی ہے تو ہم قانونی بدحالی کے جس سفر پر رواں دواں ہیں اسکا انجام یقیناًانتہائی بھیانک ہو گا۔ ملک میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بدحالی کے حوالے سے ریسرچ کرنے والے لوگ اگرچہ اسکی بے پناہ وجوہات بیان کرتے ہیں تاہم تمام اس امرپرمتفق ہیں کہ اسکی دوبڑی وجوہات ایک وی آئی پی کلچر اور دوسرا ان اداروں کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا ہے۔
ایک معاصر اخبار نے گذشتہ روز اپنی ایک تحقیقاتی رپورٹ میں انتہائی شرمناک اور تلخ واقعے کا ذکر کیا ہے۔جسکی بھینٹ چڑھنے والا ایک افسر جواپنے ادارے کے لیے ہمیشہ قابل فخر رہا ہے اور بے پناہ انعامات اسکی فرض شناسی پر مہرتصدیق ثبت کرتے ہیں۔"یہ 29اپریل کی صبح تھی جب مذکورہ افسر ضیاء اللہ اپنے ساتھیوں کے ہمراہ موٹر وے پر اپنے فرائض سرانجام دے رہا تھاکہ اچانک چیرمین نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے) کی گاڑی (جی ڈبلیو 971) انتہائی تیز رفتاری سے گذری۔ ڈیوٹی پر موجود پیٹرولنگ اآفیسر نے گاڑی کو روکنے کا اشارہ دیا تاہم طاقت کے نشے میں چور چیرمین این ایچ اے شاہد اشرف تارڑ اس اشارے کو خاطر میں نہ لایا۔ چنانچہ وائرلیس پر پیغام کے ذریعے غازی انٹرچینج پر گشتی عملے کو مستعد کیا گیا جہاں قانون کی دو خلاف ورزیوں پر 1250روپے جرمانہ عائد کیا گیا۔ یہاں پر چیرمین نے جرمانہ کرنے والے عملے کوجو صلواتیں سنائی ہونگی اس کا اندازہ آپ بخوبی لگاسکتے ہیں کیونکہ اس جرمانے کو انہوں نے جوتی کی نوک پر رکھا اور دوبارہ پہلے سے بھی زیادہ تیز رفتاری کے ساتھ موٹر وے پر رواں دواں ہوگئے۔ جسکا نتیجہ یہ نکلا کہ ان کو رشکائی انٹرچینج پر ایک بار پھر جرمانے کا سامنا کرنا پڑا۔ اس جرمانے پر چیرمین بالکل آپے سے ہی باہر ہوگئے انہوں نے مذکورہ موٹروے افسران کو گالیاں اور دھمکیاں دیں اور آئی جی موٹر وے پولیس سے شکایت کرکے متعلقہ افسران کے تبادلے صوابی (خیبر پختونخواہ ) سے گوادر (بلوچستان) کروا دیئے۔موقع پر موجود موٹر وے پولیس کے افسر ضیاء اللہ نے چیرمین این ایچ اے کے اس نامناسب روئیے اور دھمکیوں کی بابت روزمرہ رپورٹ میں اندراج کیا۔ بجائے اس اندارج پرکوئی کاروائی عمل میں لائی جاتی ، اُلٹاقانون کی عملداردی یقینی بنانے والے افسران ضیاء اللہ،انکے ساتھی ذوالفقار علی اور دُوسرا چالان کاٹنے والے افسران امجد علی اور واجدہ بیگم کو ہی تختہ مشق بنا دیاگیا۔غیر قانونی تبادلوں کے خلاف مذکورہ افسران نے ایف ایس ٹی سے اپنے حق میں فیصلہ بھی لے لیا مگر ان کو تاحال سابقہ پوزیشنوں پر بحال نہیں کیا گیا۔
اس ملک میں نام نہاد اشرافیہ اپنے آپ کو قوانین و ضوابط سے بالاتر سمجھتی ہے۔ مذکورہ چیرمین کو چونکہ وزیر اعظم کی آشیر باد حاصل ہے اس لیے وہ بھی اپنے آپ کو چھوٹانوازشریف سمجھتے ہیں اور اس حوالے سے کئی واقعات سامنے آچکے ہیں۔ کچھ عرصہ قبل این ایچ اے میں ہونے والے بدعنوانیوں کے خلاف جب ایک ٹی وی چینل پر باقاعدہ پروگرام چل رہاتھا تو شاہد اشرف تارڑ نے ٹیلی فون کرکے مذکورہ اینکر سے مطالبہ کیا کہ انہیں بھی لائیو پروگرام میں شریک کیا جائے۔ چنانچہ انکی کال کو لائیو پروگرام کے ساتھ جوڑ دیا گیا۔اس پروگرام میں وہ کوئی وضاحت تو پیش نہ کرسکے البتہ دھمکی آمیز لہجے میں اینکر اور پروگرام کے شرکاء کو بُرا بھلا کہتے رہے۔ بات یہیں پر ختم نہیں ہوجاتی بلکہ گردن گردن تک کرپشن میں ڈوبے ہوئے ادارے کے سربراہ ہر اُس رپورٹر پر گرجتے برستے دیکھائی دیتے ہیں جو این ایچ اے میں بدعنوانی کی نشاندہی کرتا ہے۔ حالانکہ مذکورہ چیرمین کا کارنامہ یہ ہے کہ انہوں نے موٹروے ایم 2 قواعد و ضوابط کے برعکس ایف ڈبلیو او کی جھولی میں ڈال دیا اور اس سے این ایچ اے کی ساکھ کوبُری طرح متاثر ہوئی۔ کیا اس ادارے کی اہلیت اتنی بھی نہیں کہ وہ موٹر وے کے ایک سیکشن کو سنبھال سکے؟
اقتصادی راہداری کو اپنا تمغہ قرار دینے والے چیرمین کو شاید یہ خبر بھی نہیں کہ یہ منصوبہ کب سے زیر غور تھا اور ابتدائی کام بھی شروع ہو چکا تھا۔اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ منصوبہ ملک کی تقدیر بدل کر رکھ دے گا۔لیکن پاکستان کے عوام اور مسلح افواج کے جوان اس منصوبے کی پاداش میں آئے روزقربانیاں دے رہے ہیں اور اپنی جانیں نچھاور کر رہے ہیں۔جبکہ این ایچ اے کی نااہلیت کا اندازہ اس بات سے بھی ہوتا ہے کہ اس اہم منصوبے کے لیے رائے عامہ تک ہموار نہیں کی جاسکی۔ عام آدمی کو اس سے کیا فوائد ہونگے اس حوالے سے کوئی آگاہی مہم جاری نہیں ہوئی۔ غیر ملکی میڈیا بالعموم اور پڑوسی ملک کا میڈیا بالخصوص آئے روز اس منصوبے کے بخیے اُدھیڑتا رہتا ہے جبکہ این ایچ اے کی جانب سے جواب صرف خاموشی ہے۔ موٹر وے پولیس پر تیوریاں چڑھانے والے چیرمین اگر ایک دن اپنے آپ کو ضمیر کی عدالت میں پیش کریں کہ اتنے اہم منصوبے پر بچگانہ طرز عمل اوررائے عامہ کی ہمواری میں ناکامی کس قدر افسوس ناک ہے۔ایک ادارے کی غفلت اور لاپرواہی ملک میں ہمیشہ کے لیئے انتشار اوربے چینی کا سبب بن سکتی ہے اور اللہ نہ کرے کہ یہ غیر ذمہ دارانہ رویہ انتہائی اہم اقتصادی منصوبے کی راہ میں رکاوٹ بن گیا تو آنے والی نسلیں موجودہ چیرمین این ایچ اے کو اس نیرو کے روپ میں یاد کرینگی جو تاریخ کے لیے ایک بدترین پھبتی ہے کہ جب روم جل رہا تھا تو اس کا فرما روا نیرو آگ کے شعلوں پر بانسری بجا رہا تھا۔
مسلم لیگ ن کی حکومت کے حوالے سے یہ مشہورہے کہ میاں براداران اورا نکے مٹھی بھر حواریوں کے علاوہ اختیارات کسی کے پاس نہیں ہوتے۔ اور انکےوی آئی پی کلچرل اور سیاسی بنیادوں پر ترتیب دیئے جانے والے ادارے ایک طرف تو چیرمین این ایچ اے کا جائز چالان کرنے پر اپنے اہلکاروں کو نشان ستم بنا دیتے ہیں جبکہ دوسری طرف ملک کے انتہائی معتبر اور باوقار سینئر صحافی سعید آسی جیسے لوگوں کو تحفظ دینے میں ناکام ہو جاتے ہیں۔ سینئر صحافی سعید آسی کے ساتھ پیش آنے والے افسوس ناک واقعہ اور اس پر انتظامیہ کی بے حسی نے یہ ثابت کردیا ہے کہ مُٹھی بھر نام نہاد اشرافیہ کو نکال کر اس ملک میں کوئی بھی اہم نہیں ۔ ملک کی خدمت کرنے والے ایک دانشور کی تذلیل ہماری اقدار کی زبوں حالی اور نظام کی فرسودگی کو عیاں کر رہی ہے۔اس نظام پر لعنت ڈالنے کو جی چاہتا ہے کہ جہاں ایک بیوروکریٹ کی آبروئے خم دار پر انتہائی مستعد فرض شناس لوگوں کی قربانی دے دی جائے اور ملک کی نظریاتی سرحدوں کی حفاظت کرنے والوں کے معاملے پر بے حسی اور بے رخی کا رویہ اپنایا جائے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *