اردو ہے جس کا نام

mehmood-asghar-chaudhry

داغ دہلوی نے تو لکھا تھا کہ’’ اردو ہے جس کانام ہمی جانتے ہیں داغ۔۔۔ ہندوستان میں دھوم ہماری زبان کی ہے ‘‘لیکن اردو کی محبت میں اہل دل نے اس شعرکا دوسرا مصرعہ تبدیل کر کے یہ مشہورکرادیا ہے کہ’’ سارے جہاں میں دھوم ہماری زبان کی ہے ‘‘ یہ مصرعہ اب حقیقت کا روپ دھار رہا ہے ۔اردو زبان یعنی خسروکی پہیلی ، میر کی ہم جھولی، غالب کی سہیلی اورداغ کے آنگن کی یہ چنبیلی پاکستان اور ہندوستان کی سرحدوں سے نکل کر تہذیب اور ادب کی خوشبوئیں بکھیرنے ان کے آنگن میں آپہنچی ہے جو کبھی اس کو سیاسی طور پر دبانے کے در پے تھے اب اس پر یہ متعصبانہ رنگ نہیں چڑھایا جا سکتا کہ یہ صرف مسلمانوں کی زبان ہے بلکہ اقبال کی اخوت ، حالی کی مروت اور مولوی عبدالحق کی شفقت کا یہ پر امن لشکر ادب ،شائستگی اور امن کے سفید پرچم اٹھائے سارے جہاں میں واقعی دھوم مچانے کو تیار ہے۔معروف مزاحیہ شاعر پروفیسر انور مسعود صاحب سے کسی صحافی نے انٹرویو کے دوران پوچھا کہ آپ کی زندگی کی سب سے بڑی خواہش کیا ہے تو وہ کہنے لگے میری زندگی کی سب سے بڑی خواہش یہ ہے کہ میں اپنی آنکھوں سے دیکھوں کہ کوئی انگریز اردوزبان میں کوئی فارم پرُ کر رہا ہو اور وہ مجھ سے مدد مانگنے آئے ۔

انور مسعود صاحب کی یہ خواہش جانے پوری ہوئی ہے یا نہیں لیکن میں نے یہ تجربہ ضرور کر لیاہے کہ جب کچھ انگریزوں نے اپنے تدریسی شوق کی تکمیل میں مجھ سے مدد طلب کی اور یہ تجربہ کرانے کا سہر ا جاتا ہے مانچسٹر یونیورسٹی میں اردو زبان کے لیکچرار شیراز علی کے سر جنہوں نے مجھے یہ موقع فراہم کیا کہ میں برطانیہ میں موجود اردو سیکھنے والوں سے ملاقات کر سکوں
شیراز علی گزشتہ پانچ سال سے مانچسٹر یونیورسٹی میں اردوکے لیکچرار ہیں ۔ وہ اردو زبان سے جنون کی حد تک محبت کرتے ہیں اور نہ صرف مانچسٹر میٹروپولیٹن یونیورسٹی میں بلکہ علاقائی سکولوں میں بھی اردو زبان کی ترویج و ترقی میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ گزشتہ دنوں انہوں نے مجھے مانچسٹر یونیورسٹی کے شعبہ اردو کے طلباء طالبات کے ساتھ شام کے کھانے پر مدعو کیا وہ ہر سال اپنے طلبا ء کو پاکستانی ریستوران میں لیکر جاتے ہیں جہاں انہیں اردو بولنے کی مشق کراتے ہیں اس کے علاوہ وہ انہیں پاکستان دوکانوں میں بھی لیکر جاتے ہیں جہاں یہی طلباء اردو زبان میں خرید و فروخت کرتے ہیں۔شام کے اس کھانے میں جب میں نے ان طلبا ء کو اردو زبان میں کھانے کا آرڈر دیتے اور اردو زبان کے مشکل الفاظ استعمال کرتے ان کی جدو جہددیکھی تو میرے دل میں یہ خیال آیا کہ آج اگر انور مسعود صاحب یہاں ہوتے تو دیکھتے کہ خواہشوں کی تکمیل میں کچھ بھی نا ممکن نہیں ہوتا۔

4

مانچسٹر یونیورسٹی کے مذکورہ طلبا ء کا اردوسیکھنے کا جنون واقعی قابل ستائش تھا ان میں سام ، تھامسن اورفرنچ نژاد ’’اورلی‘‘ بھی تھے جو برطانیہ کے شعبہ صحت ، بنکوں اور مذہبی و سماجی تنظیمات میں کام کے خواہشمند تھے اور ان کاخیال تھا انہیں اپنے روزگار و دیگرسرگرمیوں کے سلسلے میں برطانیہ بھر میں موجود اردو بولنے والوں سے رابطہ کی ضرورت ہوتی ہے تو اس سلسلے میں ان کا اردو جاننا ان کے لئے مدد گار ثابت ہو گا مانچسٹر یونیورسٹی میں جواد ، عائشہ اور ارم جیسے نوجوان بھی تھے جو ایسی خاندانوں سے تعلق رکھتے تھے جن کے آباؤ اجداد پاکستان سے تھے لیکن وہ اردو نہیں جانتے تھے تو اس طرح وہ اپنے خاندان سے زبان نہ آنے کی وجہ سے بات کرنے سے قاصر تھے اور ان میں اناس نامی عرب طالبات بھی تھیں جن کا کہنا تھا کہ اردو زبان کے رسم الخط کی وجہ سے وہ نہ صرف اردو آسانی سے سیکھ سکتے ہیں بلکہ ہندوستانی یعنی ہندی کے ساتھ اردو کا تلفظ ایک جیسا ہوتے ہوئے بیک وقت دو زبانیں سیکھ سکتے ہیں
ویسے تو برطانیہ میں اردو زبان کی تاریخ بہت پرانی ہے جوسن 1800ء میں کلکتہ کے فورٹ ولیم کالج کے ڈاکٹر جان گل کرسٹ سے شروع ہوتی ہے جنہوں نے تقریباً ستر کتابیں اردو زبان سے متعلق تصنیف و تالیف کی اور لندن آکر لیسٹر سکوائر میں اردو زبان کی تدریس کا ایک کالج قائم کیالیکن یہ سلسلہ وہاں سے نکل کر ہیلری کالج اور لندن یونیورسٹی کے کنگز کالج سے ہوتا ہوا آکسفورڈ اور کیمبرج یونیورسٹی تک جا پہنچا جہاں آج بھی اردو زبان پڑھائی جاتی ہے ۔البتہ مانچسٹر یونیورسٹی میں اردو کی تدریس کا سلسلہ 2007ء سے جاری ہواہے ۔لیکچرار شیراز علی اس یونیورسٹی میں اردو زبان و ثقافت کا کورس گزشتہ پانچ سال سے کروا رہے ہیں ۔ان کی زبانی معلوم ہوا کہ اْردو زبان ایک طویل عرصہ سے برطانیہ کے سکولوں میں ایک جدید زبان کے طور پر پڑھائی جا رہی ہے۔ ہر سال اوسطاً پانچ ہزار کے قریب طالب علم سیکنڈری سکول سر ٹیفکیٹ یعنی (جی۔سی۔ایس۔ای) اْردو کا امتحان پاس کرتے ہیں اور پانچ سو کے قریب اْردو اے لیول کا امتحان دیتے ہیں۔ جن میں سے ایک کثیر تعداد لڑکیوں کی ہوتی ہے۔
برطانیہ کے دو بڑے امتحان بورڈ جی سی ایس ای اور اے لیول اْردو کے امتحانات آفر کرتے ہیں۔اے لیول اْردوکے بعد یونیورسٹی میں ڈگری کورسسز کے ساتھ اْردو160 پڑھنے کی کمی بڑی حد تک محسوس کی جاتی تھی جو اب شیراز علی جیسے اساتذہ کی مدد سے مانچسٹر میٹروپولیٹن یونیورسٹی نے پوری کر دی ہے۔مانچسٹر میٹروپولیٹن یونیورسٹی برطانیہ کی پہلی یونیورسٹی ہے جو اْردو میں ڈگری لیول کے کورسسز کے ساتھ اْردو پڑھنے کا مواقع فراہم کررہی ہے۔یہ طلباء کو یہ موقع مہیا کرے گی کہ وہ ایک ایسی زبان160(اْردو) میں تعلیمی مہارت160حا صل کریں جو دْنیا بھر میں تقریباً ایک سو ملین لوگ بولتے ہیں۔ مانچسٹر میٹروپولیٹن یونیورسٹی160 میں بی۔اے آنرز کے ڈگری کورسسز کے ساتھ اْردو160 بطور جدید زبان پڑھی جا سکتی ہے
سن 2011ء کی مردم شماری کے مطابق اْردو برطانیہ کی چوتھی بڑی بولے جانے والی زبان بن چکی ہے۔اس لئے برطانیہ میں رہنے والی پاکستانی فیمیلیوں کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کو اردو زبان کے تمام کورسز سے فائدہ اٹھانے کی ترغیب دیں یہ زبان نہ صرف ان کی تہذیب ، ثقافت اور ان کے آباء کے ملک سے رابطہ میں رکھے گی بلکہ برطانیہ میں ان کے لئے روزگار کے مواقع میں بھی اضافہ کرے گی اسی طرح پاکستان سے برطانیہ آنے والے نوجوانوں کے لئے لیکچرار شیراز علی ایک قابل تقلید نمونہ ہیں جنہوں نے اپنی محنت سے یہ مقام حاصل کیا کہ وہ اٹھارہ سال پہلے جب برطانیہ تشریف لائے توپاکستان سے ایم اے اردو کی ماسٹر ڈگری رکھنے والے بی ایڈ پاس نوجوان تھے لیکن انہوں نے اسی ملک میں شعبہ تعلیم میں پوسٹ گریجویٹ ڈپلومہ کیا اور آج میں برطانیہ بھر میں نہ صرف ایک پہچان رکھتے ہیں اور اردو زبان کی ترویج و ترقی میں اپنا کردار ادا کررہے ہیں بلکہ پاکستانی ثقافت اور تہذیب کو عزت دے رہے ہیں بقول اختر شیرانی
افریقہ ہو عرب ہو امریکہ ہو کہ یورپ
پہنچی کہاں نہیں ہے اردو زباں ہماری

مٹ جائیں گے مگر ہم مٹنے نہ دیں گے اس کو
ہے جا ن و دل سے پیاری ہم کو زباں ہماری

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *