ایک پہیہ پر (سفرنامہ جاپان)

japan-flag
انتساب
جاپان کے ایک شاپنگ سینٹر کی تیسری منزل پر ساتھ ساتھ جُڑے کئی ریستوران تھے۔ ان کی بیرونی حدود میں میزیں اور کرسیاں قرینے سے رکھی تھیں جن کے قریب سے لوگ گزرتے تھے۔ میں ایک ریستوران کی ایک کرسی پر بیٹھا تھا کہ اتنے میں وہاں ایک نوعمر لڑکا، اپنے آپ میں مگن، گنگناتا ہوا آیا۔
وہ مجھ سے کچھ فاصلے پر ایک میز کے پاس رُکا۔ اس نے اس پر پڑا ایک جاپانی سکہ اُٹھا کر اُس کا اپنی معصوم حیرت سے جائزہ لیا اور پھراُسے وہیں چھوڑ کر پہلے کی طرح گاتا ہوا آگے نکل گیا۔میں اس سفرنامے کو اس لڑکے کے نام مُعنوَن کرتا ہوں۔
پہلی قسط:
(جہاں جاپا ن آج ہے تمام اقوام وہاں ایک دن پہنچیں گی، مگر میں نہیں جانتا کہ جاپان اُس دن کہاں ہو گا۔ف۔خ)
اس کا احساس مجھے جاپان پہنچ کر کچھ ہی دنوں میں ہو گیا تھا اور اس کا اظہار میں نے بزریعہ برقی ڈاک اپنے بعض جاننے والوں سے کیا تھا۔ مگر اس سے بہت پہلے بھی میں جانتا تھا کہ جاپان اپنے محلِ وقوع کے اعتبار سے ایک الگ تھلگ ملک تو ہے ہی ، وہ اپنی کئی ایک خصوصیات کے لحاظ سے بھی ایک جُداگانہ و ممتاز مقام رکھتا ہے اور غالباََ باقی دنیا کے لیے ہر اَول دستے کا کردار ادا کرتا ہے۔
جاپانی دنیا کے کسی بھی ملک سے کچھ سیکھنا اور آگے نکل جانے کی خو میں ایک گہری اُمنگ پاتے ہیں اور وقت آنے پراُنہی پر اپنی بر تری ثابت کرتے ہیں۔ یہ اُنہوں نے اُنیسویں صدی کے آخر میں چین اور بیسویں صدی کے شروع میں روس پر فتح حاصل کر کے کیا۔ اِن دونوں ممالک کو وقتی طور پر ہی سہی۔ زیر کرنے کی صلاحیت و اہلیت نے بعد میں اُنہیں یورپ کے ایک بڑے حصّے پر حکمرانی قائم کرنے پر اُکسایا اور اس کے لیے اِنہیں نازی جرمنی سے اتحاد کرنے کی ضرورت محسوس ہوئی۔ ان کے ارادے پایہِ تکمیل کو نہ پہنچے اور دوسری جنگِ عظیم میں جرمنی کو شکست کے ساتھ اُنہیں بھی ہزیمت سے دوچار ہونا پڑا۔ اس بڑے سانحے سے ان کے حوصلے پست نہیں ہوے اور اُنہوں نے بہت سے دیگر حوالوں سے یعنی سائنس، معاشی اور معاشرتی طور پر دنیا کے مختلف ممالک پر فتح حاصل کی۔ جاپان کو چڑھتے سورج کی سر زمین بھی کہا جاتا ہے۔ یہ اِس کے جھنڈے پر طلوع ہوے سورج کی طرح، ایک سُرخ گول نشان سے ظاہر ہے تو یہ جاپانیوں کے درخشندہ اور قابلِ تعریف روّیوں سے بھی عیاں ہے اور یہی ایک پہیہ اُنہیں آگے اور آگے لیے جارہا ہےْ۔ بہر کیف میں اس ملک اور اِس کے باشندوں کی گوناں گوں خبیوں کے ذکر کو چھوڑ کر وہاں اپنے سفر کی روداد بیان کرتا ہوں۔
۳ سنمبر ۹۰۰۲ء
لاہور کے ہوائی اڈّے پر مسافروں کا زیادہ رش نہیں تھا۔ شاید اس کی وجہ رمضان کا مہینہ اور افطاری کا وقت تھا۔ میری پہلی پرواز اسلام آباد تک تھی۔ ہوائی جہاز میں مجھے ایک غیر ملکی کے ساتھ بیٹھنے کو نشست ملی۔ ہمارا آپس میں تعارف ہونے پر مجھے معلوم ہوا کہ وہ اسلام آباد میں ایک اہم یورپی ملک کے سفارت خانے میں ملازم ہے۔ ایک دوسرے سے سرسری گفتگو کرنے کے بعد میں نے پاکستان کے بارے میں اس کی رائے جاننی چاہی تو اُس نے مجھے بتایا کہ یہاں کے حکمران بیرونی ممالک کے سربراہان سے ہدایت لیتے ہیں اور اُنہیں بالعموم عوامی فلاح و بہبود کے کاموں سے دلچسپی نہیں ہوتی۔ جب میں نے اِن سے سوال کیا کہ میں اسے اِس کا اور اِس کے ملک کا حوالہ دے کر چھپوا سکتا ہوں تو اس نے مسکرا کر اور اپنے سر کو منفی انداز میں ہلا کر اس کا جواب دیا۔
مجھے ایک دوسرے جہاز سے براستہ بیجنگ، ٹوکیو کے عالمی ہوائی اڈّے ’’ نریتا‘‘ تک کا سفر کرنا تھا۔ اس پرواز کو پکڑنے کے لیے میرے پاس قریباََ ایک گھنٹہ تھا۔میں نے راولپنڈی میں مقیم اپنے ایک دوست عاصم بٹ کو پہلے سے اس پروگرام سے آگاہ کیا ہوا تھا، چنانچہ وہ مجھے ملنے کے لیے آیا۔ وہ ناول و افسانہ نگار اور ایک ادبی جریدے کا مدیر ہے۔ہم آپس میں حال ہی میں چھپنے والی بعض تحریروں اور اپنے مشترکہ دوستوں کے بارے میں باتیں کرتے رہے۔
میں پہلے کی نسبت ایک بڑے ہوائی جہاز میں داخل ہوا۔ اس میں زیادہ تر پاکستانی، چینی اور جاپانی مسافر تھے۔ میرے پیچھے کی دو سیٹیں خالی تھیں۔ان پر ایک پاکستانی نوجوان نیم دراز ہونے کے لیے آیا۔ وہ اپنے جسم کو حسبِ خواہش پوزیشن مین لا نا سکا تو ہم نے ایک دوسرے سے بات چیت شروع کی۔ اس نے مجھے بتایا کہ وہ چین میں طب کی تعلیم حاصل کرتا ہے کیونکہ وہاں پاکستان کے مقابلے میں کہیں کم خرچ آتا ہے۔میں نے اس سے کہا کہ پاکستام اور بیرونِ ملک مین بھی اس تعلیم پر خاصئی رقم اُٹھتی ہے اور پھر کئی ایک طالبِ علم رشوت دے کر بھی اس تعلیمی اداروں تک رسائی حاصل کرتے ہیں، اوربعض ایسے بھی ہوتے ہیں جو اس کے لیے قرض لیتے ہیں تو کیا وہ اپنی رقم کی واپسی کے لیے جدّوجہد نہیں کرتے؟ یقیناََ، اور ان میں سے زیادہ تر انسانی ہمدردی اور غریب نوازی کی پرواہ نہیں کرتے اور رقم کا حصول ہی اِ ن کااصل ہدف ہوتا ہے‘‘۔ اس نے مجھے جواب دیا، مجھے اس سے معلوم ہوا کہ اس کے اور اِس کے ہم وطن ساتھیوں کے چین میں چینی اور پاکستانی لڑکیوں کے ساتھ جنسی تعلقات تھے اور اب بھی موقع ملنے پر وہ اِن مصروفیات میں شریک ہوتے ہیں۔اس نے مجھے مزید بتایا کہ پاکستانی لڑکیاں جنجال ہوتی ہیں جو ہمیں اپنے بھائیوں اور دیگر رشتہ داروں کو غیر ممالک میں بلوانے کی ضد کرتی ہیں اور پھر ضرورت سے زیادہ شکی مزاج بھی ہوتی ہیں جس سے ان کی اپنی کوئی کمی وکجی ظاہر ہوتی ہے۔
ہماری دائیں طرف نشستوں کی ایک قطار میں دو پاکستانی لڑکیاں نقابیں اوڑھے بیٹھیں تھیں جنہوں نے کھانا پینا بھی اپنے نقاب کے اندر سے کیا تھا۔ میں نے ان کے متعلق اپنے ہم سفر سے بات کی تو وہ کھلکھلا کر ہنسا اور بول کہ وہ ایسی لڑکیوں کو جانتا ہے جو اس کے ساتھ یونیورسٹی میں پڑھتی ہیں اور یہ نقاب شناب دراصل اُنہوں نے اپنے والدین اور دیگر لواحقین کے چہروں پر منڈھا ہوتا ہے جس سے اِن کی حقیقت چھپی رہتی ہے اور جونہی یہ چین پہنچتی ہیںیہ نقابوں کو تھیلوں میں ڈال لیتی ہیں اور وہاں خوب گلچھرے اُڑاتی ہیں لیکن ہوائی جہاز می آنے کے بعدتو ان کے والدین اور عزیز و اقارب پیچھے رہ جاتے ہیں، چنانچہ پردہ داری کا یہ تسلسل کیا معنی رکھتا ہے؟میں نے اُس سے پوچھا ’’ ہوائی جہاز میں ان کے رشتے داروں کے جاننے والے مسافر ہو سکتے یں یا ہوائی جہاز کے عملے میں سے کوئی اس تعلقداری سے منسلک ہو سکتا ہے جس کی وجہ سے وہ کوئی خطرہ مول نہیں لینا چاہتیں‘‘۔ یہ کہہ کر اس نے مجھے لاجواب کر دیا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *