مرد

یاسر پیر زادہYasir Pirzada

دنیا میں دو قسم کے مرد ہوتے ہیں ، ایک وہ جو عورتوں کو پیر کی جوتی سمجھتے ہیں اور دوسرے وہ جنہیں عورتیں جوتی کی نوک پر رکھتی ہیں ۔پہلی قسم کے مرد چونکہ بہتات میں ہیں اور ان میں خباثت کا مادہ بھی قدرے زیادہ ہوتا ہے اس لئے ان کے بارے میں بات کرنا ایک طرح کا صدقہ جاریہ ہے ۔
مردوں کی اس قسم میں داماد کا درجہ سب سے افضل ہے ، داماد چاہے 70برس کا بھی ہو جائے داماد ہی رہتا ہے بالکل اس سیاسی پارٹی کے لیڈر کی طرح جسے تا حیات منتخب کر لیا جائے ۔داماد کے نخرے منگنی سے پہلے شروع ہوتے ہیں اور تا دم مرگ جاری رہتے ہیں ، ان کا بس نہیں چلتا کہ مرتے وقت اپنے سسرال والو ں کو وصیت کرکے فوت ہوں کہ ان کی قبر پر بھی کبھی خالی ہاتھ نہ آیا جائے !ایسے مردوں کی فرمائشیں اور اپنی ’’عزت‘‘ کروانے کے تقاضے تمام عمر ختم نہیں ہوتے …’’تمہارے بھائی نے اپنی شادی کے کارڈ پر میرا نام دوسرے نمبر پر کیوں لکھا ،کیا میں دو نمبر داماد ہوں؟ گذشتہ عید پر تمہارے چچا کا بیٹا منہ اٹھا کر ہمارے ہاں چلا آیا ، ہاتھ میں فقط ایک مٹھائی کا ڈبہ، کیا بہن کے گھر ایسے لہراتے ہوئے آ جاتے ہیں ؟ ساری عمر گذر گئی تمہارے ابا کو مشورہ دیتے ہوئے کہ انکل جی مجھے تو لالچ اور طمع چھو کر بھی نہیں گذری ، میں اپنے لئے نہیں کہتا مگر اپنی بیٹی کو ہی ایل ڈی اے کی سکیم میں دو چار کنال کا پلاٹ دلوا دو ، بیچاری کا مستقبل محفوظ ہو جائے گا، آخر آپ کے تعلقات کس دن کام آئیں گے، میرا کیا ہے مجھے تو کوئی اور بھی مل جائے گی ،مگر توبہ کرو ،تمہارے ابا کو تو ایمانداری کا ہیضہ ہے ، بیٹی سے زیادہ نوکری کی فکر ہے !اس دن میں نے تمہار ی بہن کو کہا کہ میرے سر میں بہت درد ہے ، ذرا دبا دو ، تڑاخ سے جواب دیا ،بھائی جان میں نوکر کو بھیجتی ہوں ، بھلا بتائو مجھے چھوت کی بیماری ہے ، اور بائی دی وے بہنوئی کو بھائی جان کہہ کر نہیں بلاتے ،بے شک مولبی صاحب سے پوچھ لیجئیو!‘‘
ایسے داما د کا برتائو شوہر کے رو پ میں بھی زیاد ہ مختلف نہیں ہوتا ، اس کی خواہش ہوتی ہے کہ سسرال کے ’’سولر سسٹم ‘‘ کے تمام سیارے فقط اس کی ذات کے گرد چکر کاٹتے رہیں ۔ گھر میں صرف اس کی ضروریات ، اس کی سہولت اور اس کی خواہش کو ہی مقدم جانا جائے ، عورت کی کسی ضرورت اور خواہش کی اتنی بھی اہمیت نہیں کہ اس پر غور کرکے وقت ضائع کیا جائے۔مرد نے کس وقت کیا پہننا ہے ، دفتر جانے سے قبل اس کے کپڑے کلف لگنے کے بعد استری ہو کرالماری میں لٹک رہے ہوں ، گرم ناشتہ میز پر اس کا منتظر ہو ، واپسی پر اسے پورا گھر الرٹ ملے، کھانا تیار ہو ، ہمیشہ اس کی مصروفیات اور دوستوں سے ملنے کے اوقات کو مد نظر رکھ کر باہر جانے کا کوئی پلان بنایا جائے اور اس ضمن میں مرد کے رشتہ داروں کو ہی فوقیت دی جائے ۔گھر میں اگر ایک گاڑی ہے تو اس پر بھی صرف مرد کا حق ہے ، عورت ملازمت کرتی ہو اور اس کا دفتر مرد کے راستے میں آئے تو ٹھیک ورنہ کہیں بھی راستے میں اتار کر کہہ دو کہ اب تو شہر میں سفر بہت آسان ہے ،کہیں سے بھی میٹر و لے لینا (چاہے وہاں میٹرو کی لائن ہی نہ پہنچتی ہو)۔ہمارے گھروں میں مرد کو یہ پروٹوکول اس لئے دیا جاتا ہے کہ وہ گھر کا خرچہ چلاتا ہے لہٰذا یہ فرض کر لیا گیا ہے کہ اسے یہ حق حاصل ہے کہ وہ گھر میں ایک آمر کی طرح برتائو کر ے ، گھر کے وسائل کی تقسیم اور ہر قسم کے فیصلوں پر صرف اسی کا اختیار ہے ، اسے گھر میں ایک شہنشاہ کی طرح ٹریٹمنٹ ملنی چاہئے ورنہ وہ سکون سے پیسے نہیں کما سکے گا ۔حالانکہ ایسے مردوں کو گھر سے باہر دو دو ٹکے کے لوگوں کی باتیں سننی پڑتی ہیں ، بسا اوقات ان کی اچھی خاصی بے عزتی بھی ہو جاتی ہے جسے وہ خندہ پیشانی سے قبول کرتے ہیں ، باس کی جھڑکیاں سنتے ہیں چاہے وہ عورت ہی کیوں نہ ہو او ر جن لوگوں سے انہیں کاروبار ملنے کی امید ہوتی ہے ان سے تو ایسے ملتے ہیں جیسے یہ ان کے داماد ہوں ۔ جونہی یہ لوگ گھر میں داخل ہوتے ہیں ان کا روپ ہی بدل جاتا ہے ، عور ت نے چاہے گھر کو کتنی ہی صفائی ستھرائی سے کیوں نہ رکھا ہو انہیں اس میں کیڑ ے نظر آتے ہیں ، وہ بچوں کی پڑھائی میں جان ہی کیوں نہ مار رہی ہو انہوں نے نقص نکال کر ہی دم لینا ہے، عورت چاہے گھر کو ماڈل ہائوس ہی کیوں نہ بنا دے ان کا مزاج نہیں ملے گا، بالکل اس مرد کی طرح جو روزانہ صبح ناشتے کی میز پر یہ کہتے ہوئے بیوی پر برس پڑتا تھا کہ جس روز مجھے تلا ہوا انڈا کھانا ہوتا ہے تم آملیٹ بنا دیتی ہو اور جس دن آملیٹ کھانا ہوتا ہے تم انڈا فرائی کر دیتی ہو۔ایک روز اس بیچاری نے دونوں قسم کے انڈے بنا کر ناشتے کی میز پر سجا دئیے اور باندی بن کر کھڑ ی ہوگئی کہ اب سرکار کیا فرماتے ہیں ، شوہر نے ایک نظر انڈوں پر ڈالی اور غصے سے بولا ’’کردیا نا ستیاناس ، جس انڈے کو تلنا تھا اسے آملیٹ بنا دیا اور جسے آملیٹ بنانا تھا اسے فرائی کردیا!‘‘
ان نا خلف قسم کے مردوںکی وجہ سے عورتوں کو ہمارے ہاں تین طرح کے نقصان اٹھانے پڑتے ہیں ۔پہلا ، مرد کے ساتھ اگر عورت بھی ملازمت کرکے گھر کے خرچے میں ہاتھ بٹائے تب بھی ایسے مرد وں کی صحت پر کوئی فرق نہیں پڑتا ، ہمارے ہاں یہ بات طے کر لی گئی ہے کہ مرد نو سے پانچ بجے کام کرنے کے بعد گھر پہنچ کر آرام کرنے ، ٹی وی دیکھنے ، اخبار پڑھنے ، بچوں کو ڈانٹنے ، دوستوں سے ملنے اور گھر میں حکم چلانے کا مجاز ہے ،جبکہ عورت اگر نو سے پانچ کی ملازمت مکمل کرکے گھر واپس آئی ہے تو اس کی گھر کی ملازمت وہیں سے شروع ہوگی جو وہ صبح نو بجے سے پہلے چھوڑ کر گئی تھی ، گھر کے تمام کام کاج کی ذمہ داری اب بھی اسی کی ہے مرد کی نہیں ، کھانا پکانے سے لے کر بچوں کی دیکھ بھال تک اور مرد کے ناشتے سے لے کر کلف والے کپڑوں کو استری کرنے تک کسی قسم کی کوئی رعایت اسے نہیں ملتی ۔دوسرا نقصان عورت کو یہ ہوتا ہے کہ وہ گھر کے خرچ میں حصہ ڈالے یا نہ ڈالے ، ملازمت کرے یا صرف گھر کی دیکھ بھال ، اس کا گھر میں کوئی مالی حصہ اس وقت نہیں ہوتا جب تک مرد اس کے نام کسی قسم کی کوئی جائیداد نہ کرے ، ہمارے ہاں ایسا کوئی قانون نہیں جس کے تحت طلاق کی صورت میں مرد، عورت کو جائیداد کا نصف حصہ دینے کا پابند ہو، الٹا شادی کے بیس برس بعد بھی اگر عورت کو طلاق ہو جائے اور اس کے نام کوئی جائیداد نہ ہو تو وہ بے یارو مدد گار ہو جاتی ہے ، اس کی گھر میں کی گئی محنت اور جان مارنے کا کوئی ذکر نہیں کرتا گویا یہ تو عورت کا پیدائشی فرض تھا۔
تیسرا نقصان یہ ہوتا ہے کہ اگر عورت کسی قسم کی کوئی ملازمت یا کاروبار نہ کرتی ہویا اس کے پاس کوئی ایسی تعلیمی سند یا ہنر نہ ہو جس کے بل بوتے پر وہ اپنے پیروں پر کھڑ ی ہو سکے تو سار ی عمرمرد پر انحصار کرنے والی عورت طلاق یا بیوگی کی صورت میں اس سفاک معاشرے میں جن مسائل کا شکار ہوتی ہے اسے احاطہ تحریر میں نہیں لایا جا سکتا ۔زیادہ پر مرد چونکہ اپنے تئیں گھر کے حاکم ہوتے ہیں اور تمام گھر کا دارومدار ان کی ذات پر ہوتا ہے اس لئے مردوں کا آمرانہ رویہ نہ صرف ان کی موجودگی میں عورت کے لئے باعث ذلت ہوتا ہے بلکہ اس کے بعد بھی وہ مسائل کی آگ میں ہی جھلستی ہے ،او ر یہ اس قسم کے مردوں کی وجہ سے ہوتا ہے جو عورت کو پیر کی جوتی سمجھتے ہیں ۔حالانکہ یہ عورتیں ہی ہیں جنہوں نے اس ملک کے لئے آسکر اور نوبل انعام جیتا ہے ، مرد اب صرف عورتوں کی طرح طعنے دینے کے لئے رہ گئے ہیں!

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *