کچھ سلگتے مسائل

mukhtar

میں پاکستان کے اندر مختلف مسائل کا بغور مشاہدہ کرتا رہتا ہوں اور ان کے حل اور بہتری کے لئے بھی اپنی حد تک سوچتا اور تگ و دو کرتا ہوں چونکہ پاکستان میں اپنی بات میں اثر پیدا کرنے کے لئے پہلے خود بااثر ہونا شرط ہے جب کہ میں بااثر یا بااختیار نہیں ہوں اور نہ ہی میری بات یا لکھے کا کوئی خاص وزن ہے لیکن پھر بھی میں سوچتا ہوں کہ مجھے خاموش ہو کر بیٹھ تو نہیں جانا چاہیے،  اور جس طرح جانور پیٹ بھر کر بیٹھ رہتے ہیں یا اپنے مالک کے آگے سر خم کر کے اس کا حکم بجا لاتے ہیں۔ آخر میں ایک انسان تو ہوں اور وہی انسان جس کو اپنی حرکیات کی وجہ سے جنت سے دھتکارنے کے باوجود اشرفالمخلوقات کا درجہ حاصل ہے تو پھر میں کیوں کوشش نہ کروں؟ میں اپنی سی کوشش کر رہا ہوں شاید کبھی کوئی میری بات پر غور کرنے کی زحمت گوارا کرے اور معاشرے سے برائیوں کے خاتمے کے لئے کوئی قدم اٹھے۔ میرا اپنا ابھی تک سب سے بڑا مسلہ یہ ہے کہ مجھے کہنا نہیں آتا،  مجھے لکھنا نہیں آتا لیکن مجھے کہنے یا لکھنے پر داد کی بھی کوئی حاجت نہیں ہے میرا مقصد تو صرف ان خرابیوں کی نشاندہی کرنا ہے جس کی وجہ سے وطن عزیز عالمی برادری میں اپنا مقام شرم کی حد تک نیچلے درجے میں رکھتا ہے۔ جو ممالک مہذب کہلاتے ہیں، جن کا دنیا میں سکہ چلتا ہے،  جن کے اشارے اور بیانیے پر پوری دنیا جھومتی ہے جن کی سرزمین پر قدم رکھنے کے لیے لاکھوں انسان بیتاب رہتے ہیں اور بعضے اس کوشش میں سمندروں کی نذر ہو کر مچھلیوں کی خوراک بھی بن جاتے ہیں آخر ان ممالک میں ایسی کونسی خوبی ہے؟  کیا ان ممالک کی زمین ہماری زمین سے زیادہ زرخیز ہے؟  کیا وہاں آسمان سے من و سلوی اترتا ہے؟  کیا وہاں دودھ کی نہریں بہتی ہیں؟  کیا ان کے درختوں پر پتوں کی جگہ سونے کی ڈلیاں لگتی ہیں؟ میں نے خود بھی ایسے بہت سے ممالک کا سفر کیا ہے لیکن ایسی تو کوئی چیز نہیں دیکھی تو پھر آخر کیا وجہ ہے کہ وہ ممالک ترقی کی منازل طے کرتے ایسے مقام پر جا پہنچے ہیں جہاں سے وہ زمین اور آسمانوں پر اپنا اثر رسوخ رکھتے ہیں اور اسی وجہ سے کائینات کے بیشتر وسائل پر قابض ہو رہے ہیں؟ جو کچھ میری سمجھ میں آ سکا ہے اور میں نے جن ممالک کا سفر کیا اور ان کی ترقی اور خوشحالی کا مشاہدہ کیا ہے اس سے تو مجھے یہی سمجھ آسکی ہے کہ ان ممالک کے لوگوں نے سوچنا شروع کیا آپس میں بیٹھ کر بات چیت کی،  اپنی غلطیوں سے سبق حاصل کیا، اپنی ذمداریوں کو محسوس کرنا شروع کیا، اپنی خامیوں پر قابو پانے کے طریقے ایجاد کیئے، اپنے اداروں کو تشکیل دیا، اداروں کی صیح سمت میں تربیت کی اور ان کو ان کی حدود وقیود تک محدود کر کے آزادی سے  (سیاسی اور فوجی مداخلت کے بغیر) کام کرنے کی اجازت دی، اپنے تعلیمی نظام کی خامیاں دور کیں، خود کو اور اداروں کو وقت کے ساتھ ساتھ بدلتی ضرورتوں کے مطابق خود کو بدلا، نرسری سے لیکر یونیورسٹی تک اپنی تعلیم کو بامقصد اور تربیت اور ٹکنیک سے بھر پور ہم آہنگ کیا، اور پھر اسی ٹیکنیک اور ٹیکنالوجی کو بروئے کار لا کر اپنی سرحدوں کے اندر اپنے وسائل کی تلاش شروع کی اور ان سے بھر پور فائدے اٹھائے اور خوشحالی ان کا مقدر بنی۔ پھر " جس کے گھر دانےاس کے جھلے بھی سیانے" کے مصداق وہ عقل مند ٹھہرے اور دنیا پر اپنا حق حکمرانی حاصل کیا اسی لئے آج پاکستان جیسے کئی ممالک ان کے زیر نگیں ہیں، ان کے محتاج ہیں۔ اب ایک بات سوچنے کی ہے کہ یہ سب کرنے کا طریقہ کیا ہے؟  کام شروع کہاں سے ہوتا ہے یا ہوگا؟ تو بظاہر جو مجھے سمجھ آتی ہے وہ یہ ہے کہ بنیادی طور پر ایک اچھا راہنما ہی اس کی ابتدا کرتا ہے لیکن اچھے راہنما اتنی آسانی سے میسر نہیں ہوتے عام طور پر یہ کہا جاتا ہے کہ ایک صدی دنیا میں ایک لیڈر پیدا کرتی ہے اور کبھی کبھار ایک صدی میں بھی یہ ممکن نہیں ہوتا، تو پھر کیا ہم اس صدی کا انتظار کرتے رہیں جس میں کوئی راہنما پاکستان میں بھی پیدا ہو جائے؟  اس کا جواب تو یقینا نفی میں ہے تو پھر دوسرا طریقہ یہ ہو سکتا ہے کہ قوم اپنے اجتماعی دماغ،  اجتماعی سوچ کو بروئے کار لائے اور ایک ایماندرانہ سوچ کے ساتھ آگے بڑھے۔ تو ہماری اجتماعی سوچ کا دوسرا نام قومی اسمبلی ہے اگر قومی اسمبلی کو اس کا کام باور کرایا جائے اور کام کرنے دیا جائے تو وہ وطن عزیز کے ایک ایک مسلے پر بحث کریں، اس پر قانون سازی کریں اور اداروں کو اپنی مداخلت سے پاک کر کے ان کو کام کرنے کا موقع دیں۔ یہاں میں ایک مثال  پیش کرتا ہوں  " ناروے کی قومی اسمبلی میں 1916 میں ایک بل پیش ہوا کہ ملک میں انسانوں کی تعداد میں اضافہ اور درختوں کی تعداد میں کمی ہو رہی ہے اس طرح آگے چل کر ماحول پر منفی اثرات مرتب ہوں گے لہذا اس کا کچھ کیا جائے  (یاد رہے کہ اس زمانے میں ناروے کوئی بہت امیر ملک نہیں تھا) اسمبلی میں بحث ہوئی اور یہ فیصلہ ہوا کہ اپنے جنگل میں اضافہ کیا جائے اور اس پر 1919 سے عمل درآمد شروع کیا گیا اب 100 سال ہونے کو ہیں اس وقت سے اب تک ناروے کے جنگل میں مسلسل اضافہ جاری  ہے اور پچھلے 25 سالوں میں ناروے کے جنگل کو ملکی سرزمین کے 25 %رقبے سے بڑھا کر لگ بھگ 32 %تک لے جایا گیا ہے اور آج ناروے میں مشہور اقسام کے بڑے درختوں کی تعداد 10 ارب سے زائد ہے اور چھوٹے درخت اور جھاڑیوں کو شامل کیا جائے تو یہ تعداد 80 ارب بنتی ہے اور اس طرح یہ 15000 درخت فی انسان بنتی ہے۔ اب بات کرتے ہیں اور سوچتے ہیں کہ پاکستان میں عام لوگوں کی سوچ کو کیسے بدلہ جائے اور ان کو ان کی ذمداریوں کا احساس کیسے دلایا جائے!  تو اس کے کئی طریقے ہو سکتے ق اداروں کے علاوہ سکول کالج اور میڈیا اس میں خاصا کردار ادا کر سکتا ہے لیکن میں آج کے اپنے کالم میں ایک اور طرف بات کرنا چاہتا ہوں اور وہ یہ کہ ہمارے ملک میں مساجد لوگوں کی تربیت کے لئیے ایک بہت بڑا پلیٹ فارم اور ذریعہ ہو سکتی ہیں اور علمائے کرام اگر چاہیں تو قوم کی صیح سمت میں تربیت کر سکتے ہیں کیوں کہ لگ بھگ 10 سے 15 %لوگ نماز جمعہ ادا کرتے ہیں اور ملک کا کوئی کونہ ایسا نہیں  (اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین مولانا شیرانی کے ضلع شیرانی بلوچستان کے علاوہ جہاں شیرانی صاحب کے فتوے کے مطابق جمعہ کی نماز نہیں ہو سکتی کیوں کہ وہاں کوئی بڑا بازار نہیں ہے لہذا پورے ضلع میں نماز جمعہ نہیں پڑھائی جاتی ) جہاں جمعہ کی نماز نہ ہوتی ہو اور سیکڑوں لوگ اس میں حصہ نہ لیتے ہوں اور پھر اللہ کے گھر میں کی گئی بات کا اثر بھی زیادہ ہوتا ہے اور علمائے کرام کی بات لوگ غور سے سنتے ہیں اور اس پر عمل بھی ہو سکتا ہے پھر اگر اللہ کے گھر میں لوگ کوئی وعدہ کر لیں گے تو اس کو نبھائیں گے بھی۔ تو میں اپنے اس کالم کی وساطت سے تمام پاکستان کے علماء سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ ہر جمعہ کے موقع پر کسی ایک مسلے کو اپنا موضوع بنا کر اس پر بات کریں اس کے حوالے سے کچھ معلومات اور کچھ تجاویز پیش کریں لوگوں کو اس کے نقصانات اور فوائد کے بارے ادراک کروائیں اور آخر میں لوگوں سے وعدہ لیں کہ وہ اس مسلے کے حل کیلئے اپنا کردار ادا کریں گے ۔ میرے خیال میں اس کا آغاز صبر، برداشت اور قطار بنانے کی روایت سے کرنا چاہیے ۔ صبر،  برداشت اور قطار بنانے کا آپس میں گہرا تعلق ہے۔ پاکستان میں بے صبری، بے اعتمادی،  بے اعتباری اور عدم برداشت بہت بڑے مسائل اور کئی مسائل پیدا کرنے کا باعث ہیں لہذا ان پر بات کرنی چاہیے۔ اس کا پہلا نقطہ یہی ہوگا کہ لوگ قطار بنانا سیکھیں اور صبر سے اپنی باری کا انتظار کریں۔ کسی بھی قوم کے مہذب ہونے کا پتا اس کے نظم و نسق سے چلتا ہے اور نظم و نسق کی پہلی سیڑھی قطار بنانا ہے چاہے وہ کسی دکان یا بنک میں باری کے حوالے سے ہو، کسی اجتماع کی بابت ہو، کسی شادی بیاہ میں کھانے کے حوالے سے ہو یا پھر سڑکوں پر گاڑیوں کی آمدورفت کے حوالے سے ہو۔ اگر علمائے کرام لگاتار 2 یا 3 ہفتوں تک صرف قطار بنانے پر بات کریں اور اگلے جمعہ میں لوگوں سے دریافت کریں کہ کتنے لوگوں نے اس پر عمل کیا ہے تو یقینا لوگ اس پر عمل کریں گے اور اس تربیت کو آگے بھی بڑھائیں گے۔  بات اس طرح بھی شروع ہو سکتی ہے کہ جو لوگ جمعہ پڑھنے جاتے ہیں ان میں سے کوئی مولوی صاحب سے درخواست کر دے کہ آج قطار بنانے پر خطاب فرمائیں یا پھر اگلے جمعہ سے پہلے اس پر تیاری کر کے آئیں اور بہتر انداز میں بات کریں۔ میں نے اکثر و بیشتر محسوس کیا ہے کہ پاکستان میں لوگ قطار بنانے کے عادی نہیں ہیں اور اگر کسی جگہ پر باامر مجبوری قطار بناتے بھی ہیں تو وہ اس طرح کہ ایک دوسرے کے ساتھ جڑ کر چھپی لگانے کے انداز میں کھڑے ہوتے ہیں اور سب سے آگے والے 3 یا 4 لوگ بیک وقت کھڑکی میں سر پھنسانے کی کوشش کر رہے ہوتے ہیں۔ اور بعض اوقات کوئی تھوڑا بااثر آدمی  (دوسرے لفظوں میں بے شرم آدمی) قطار کو روند کر آگے بڑھ جاتا ہے تو کوئی اس کو روکنے کی کوشش بھی نہیں کرتا، یہ قوم کا مجموعی رویہ ہے جو کہ بہت ہی افسوسناک ہے ۔ میں اپنے تمام پڑھنے والوں سے بھی گزارش کرتا ہوں کہ وہ آج سے یہ وعدہ کریں کہ وہ ہر جگہ قطار بنائیں گے،  اپنی باری کا صبر سے انتظار کریں گے اور دوسروں کو بھی اس کی تلقین کریں گے۔ اور آپ میں سے جتنے لوگ بھی اگلا جمعہ پڑھنے جائیں گے وہ اپنی مسجد میں مولانا صاحب سے بات کریں گے کہ وہ قطار بنانے کو اپنے خطبہ کا موضوع بنائیں۔ اسی طرح ہم سب اپنا اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں۔ ورنہ ہمیں دوسروں پر تنقید کا کوئی حق نہیں پہنچتا۔ ہم مل کر ہی مضبوط اور کامیاب ہو سکتے ہیں تو پھر اللہ کا نام لیکر آج سے شروع کرو ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *