ریٹائرمنٹ کے ساتھ ہی جنرل راحیل شریف کو کونسا بڑا عہدہ ملنے جارہا ہے!

gen

لاہور ۔ پاک فوج کے آج ریٹائر ہونیوالے چیف آف آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف نے دہشت گردی کے خلاف اسلامی فوجی اتحاد کی سربراہی قبول کرنے پر مشروط آمادگی ظاہر کردی ہے جبکہ ایران نے یمن کی صورتحال پر پاکستان کی ثالثی اور جنرل راحیل شریف کے مصالحتی کردار کو قبول کرنے کی یقین دہانی کروادی ۔ذمہ دار ذرائع کے مطابق جنرل راحیل شریف نے شرط عائد کی ہے کہ انہیں متحارب گروپوں کے درمیان مصالحت کرانے کا اختیار بھی دیا جائے تو وہ اسلامی فوجی اتحاد کی کمان سنبھالنے کے لئے تیار ہیں ،اگر انہیں مصالحتی کردار ادا کرنے کی اجازت نہیں دی جاتی تو وہ محض کسی ایک فریق کی حمایت میں لڑنے والی فوج کو کمان کرنے کیلئے تیار نہیں ہیں۔ ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کی حکومت نے اپنے پاکستانی سفارتکاروں کے ذریعے جنرل راحیل شریف کو تحریری پیغام بھجوایا ہے کہ اگر وہ مصالحتی اختیار کے ساتھ اسلامی فوجی اتحاد کی کمان سنبھالتے ہیں تو ایران نہ صرف یمن کی صورتحال کو کنٹرول کرنے کیلئے ان کا ساتھ دے گا بلکہ حوثی باغیوں کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لئے بھی تیار ہے ،اس سلسلے میں ایرانی حکومت نے عندیہ دیا ہے کہ یمن کے معاملہ پر پاکستان کے ثالثی کردار کو بھی قبول کرلیا جائے گا۔ذرائع کے مطابق جنرل راحیل شریف سعودی عرب کے شاہ سلمان بن عبدالعزیز سے ملاقات کے دوران اپنی اس خواہش کا اظہار کرچکے ہیں جبکہ ترک حکومت تک بھی یہ پیغام پہنچا چکے ہیں ۔ دہشت گردوں کے خلاف متحدہ اسلامی فوج کے قیام کے منصوبہ کا اعلان 15دسمبر 2015ء کو سعودی عرب کے وزیردفاع شہزادہ محمد بن سلمان نے کیا تھا جبکہ 34ممالک کے اسلامی فوجی اتحاد کا باقاعدہ اعلان مارچ2016ء میں کیا گیا تھا ۔اسلامک ملٹری الائنس ٹو فائٹ ٹیررسٹ (IMAFT)کے رکن ممالک کی تعداد 39ہوچکی ہے ،اس فہرست میں شامل متعدد ممالک نے اسلامی فوجی اتحاد کی حمایت کی ہے تاہم فوجی کردار ادا کرنے کے لئے تاحال 7ممالک نے رضامندی ظاہر کی ہے جن میں ترکی ،بحرین ،لیبیا، نائیجیریا ،بنگلہ دیش ،سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات شامل ہیں جبکہ اس فوجی اتحاد کی مکمل حمایت کرنے والے دیگر اسلامی ممالک میں پاکستان ،ملائشیا،مصراور اردن بھی شامل ہیں ۔ذرائع کے مطابق سعودی عرب کی طرف سے اس اسلامی فوجی اتحاد کی سربراہی کے لئے جنرل راحیل شریف کو پیش کش کی گئی تھی جو تاحال برقرار ہے تاہم جنرل راحیل شریف مصالحتی اختیارات حاصل کئے بغیر یہ عہدہ قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں ۔ ذرائع کے مطابق ایرانی حکومت نے یمن کے معاملہ پر ثالثی کے لئے پہلے پاکستانی وزارت خارجہ سے رابطہ کیا تھا جس نے اس معاملہ پر چپ سادھ رکھی ہے جس کے بعد پاکستان میں موجود ایرانی سفارت کاروں نے اپنی حکومت کی طرف سے تحریری طور پر جنرل راحیل شریف کو یہ پیغام بھجوایا ،ذرائع کے مطابق ترک سفارت کار کے ذریعے جنرل راحیل شریف اس صورتحال سے ترک حکومت کو بھی آگاہ کرچکے ہیں:۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *