Site icon DUNYA PAKISTAN

’’تماشہ‘‘ مزید کچھ روز جاری رہنے کا امکان 

Share

پیشہ وارانہ تقاضوں کی وجہ سے سیاستدانوں کے طرز عمل پر گہری نگاہ رکھنا میری جبلت کا حصہ بن چکا ہے۔ اپنے دل کی بات وہ قریب ترین رشتہ داروں کو بھی نہیں بتاتے۔ ہم صحافی ان کی کہی باتوں سے ’’اندر کی بات‘‘ ڈھونڈنے کی کوشش کرتے ہوئے ’’تجزیہ کار‘‘ بن جاتے ہیں۔پیر کی صبح اُٹھ کر لیکن ہاتھ میں قلم لئے بیٹھا رہا۔ فیصلہ نہیں کرسکا کہ عمران خان اور چودھری پرویز الٰہی کے راستے ایک دوسرے سے کاملاََ جدا ہوچکے ہیں یا نہیں۔پہلی نظر میں آپ کو میرا کنفیوژن احمقانہ محسوس ہوگا۔

اتوار کی دوپہر سے پنجاب کے وزیر اعلیٰ کے ’’جواب آں غزل‘‘ مارکہ کلمات ریگولر اور سوشل میڈیا پر چھائے رہے۔ جنرل باجوہ کے دفاع میں انہوں نے سینہ پھلاکر عمران خان صاحب کا نام لئے بغیر سخت کلمات ادا کئے۔حال ہی میں ریٹائر ہوئے آرمی چیف کو انہوں نے تحریک انصاف اور اپنی جماعت کا ’’محسن‘‘ قرار دیا۔ ان کے خلاف ہوئی تنقید کو احسان فراموش ٹھہرایا۔ کئی واقعات گنوائے جن کی بدولت عمران حکومت ’’سیم پیچ پر‘‘تین برسوں تک متحد ہوئی نظر آتی رہی۔جوش جذبات میں یہ انکشاف بھی کردیا کہ عمران خان صاحب انہیں اور مونس الٰہی کو گرفتار کروانے کو بے چین تھے۔اپنے تحفظ کے لئے چودھری صاحب کو بالآخر جنرل باجوہ سے رجوع کرنا پڑا۔

چودھری صاحب کو ان کے فرزند سمیت گرفتار کروانے کے لئے مبینہ طورپر بے چین عمران خان بھی بالآخر اپنے ’’وسیم اکرم پلس‘‘ کو قربان کرتے ہوئے پرویز الٰہی کو پنجاب کا وزیر اعلیٰ تعینات کروانے کو مجبور ہوئے۔ اب ان سے توقع باندھے ہوئے ہیں کہ وہ 23دسمبر کو صوبائی اسمبلی تحلیل کرنے کی ایڈوائس گورنر پنجاب کو بھجوادیں گے۔

چودھری صاحب کے دئے انٹرویو کو غور سے سنیں تو فوری تاثر یہ ابھرتا ہے کہ وہ عمران خان صاحب کے جارحانہ انداز سے اُکتاچکے ہیں۔ ’’اوتاروں‘‘ کو ’’اپنی اوقات‘‘ میں رہنے کا مشورہ دے رہے ہیں۔اتوار کی شام ہی مگر ان کے فرزند مونس الٰہی زمان پارک تشریف لے گئے۔ عمران خان صاحب کے ساتھ ان کی اکیلے میں طویل ملاقات ہوئی۔مذکورہ ملاقات کے اختتام پر انہوں نے ایک ٹویٹ لکھا جو سابق وزیر اعظم سے وفادار رہنے کا دعوے دار سنائی دیا۔ساتھ ہی نون لیگ پر چودھری مونس الٰہی نے ’’ماتم‘‘ جاری رکھنے والی پھپتی بھی کس دی۔ اس ٹویٹ کے بعد میں کس منہ سے اپنے ’’تجزیہ کار‘‘ ہونے کا بھرم رکھ سکتا ہوں۔غالبؔ کی طرح حیران ہوکر فقط رونے یا گریبان چاک کرنے کا انتخاب ہی کرسکتا ہوں۔

چودھری پرویز الٰہی اور ان کے فرزند کے رویے سے کہیں زیادہ حیرت مجھے عمران خان صاحب کی بابت بھی ہورہی ہے۔ عاشقان عمران خان اپنے ہیرو کو اصولوں پر ڈٹ کے کھڑا کپتان تصور کرتے ہیں۔وہ مگر چودھری پرویز الٰہی کے ادا کردہ کلمات سوشل میڈیا پر وائرل ہوجانے کے باوجود مونس الٰہی سے ملاقات کو رضا مند ہوگئے۔ جنرل باجوہ کے دفاع میں پنجاب کے وزیر اعلیٰ نے جو انکشافات کئے اس کی بابت عمران خان صاحب کیا محسوس کررہے تھے، ہمارے علم میں یہ کالم لکھنے تک نہیں آپایا ہے۔

پنجاب اور خیبرپختونخواہ کی اسمبلیوں کی تحلیل کے لئے 23دسمبر کی تاریخ کا اعلان کرتے ہوئے تحریک انصاف کے قائد نے زمان پارک سے جو خطاب کیا اس کے دوران پرویز الٰہی صاحب ان کے دائیں ہاتھ بیٹھے ہوئے تھے۔ جنرل باجوہ کے خلاف عمران خان صاحب کے ادا کردہ کلمات کا آغاز ہوتے ہی ان کے چہرے پر کامل بے بسی نمایاں ہونا شروع ہوگئی۔ ’’اندیشہ ہائے دور دراز‘‘ کے انبار سے وہ انتہائی پریشان دکھائی دئے۔ پیغام یہ دیا کہ عمران خان صاحب کو رام رکھنا اب ان کے بس میں نہیں رہا۔پنجاب اسمبلی بھی ان کی خواہش کے مطابق انہیں توڑنا ہی پڑے گی۔

سوال اٹھتا ہے کہ زمان پارک سے گھر لوٹنے کے بعد چودھری پرویز الٰہی صاحب نے کب اور کیوں یہ فیصلہ کیا کہ پانی سر کے قریب آنے کو ہے۔ عمران خان صاحب کے برپا کئے تلاطم سے خود کو محفوظ رکھنے کے لئے انہیں جنرل باجوہ کے دفاع میں کھڑا ہونا پڑے گا۔بطور صحافی میرے لئے حیران کن یہ امر بھی تھا کہ ’’جواب آں غزل‘‘ سنانے کے لئے چودھری صاحب نے ایک ایسے ٹی وی چینل اور اینکروں کا انتخاب کیا جو محبان عمران خان صاحب میں بہت مقبول ہیں۔چودھری صاحب کو مذکورہ پلیٹ فارم استعمال کرنے کوکس ’’ماہر ابلاغ‘‘ نے مائل کیا‘‘ اس کی خبر متحرک ترین شمار ہوتے صحافیوںکے علم میں بھی نہیں تھی۔چودھری صاحب کا دیا انٹرویواگرچہ میڈیا مینجمنٹ کا ہنر جاننے کے لئے ایک نصابی مثال شمار ہوسکتا ہے۔اس انٹرویو کے باوجود پنجاب کے وزیر اعلیٰ اب بھی مصر ہیں کہ وہ پنجاب اسمبلی کی تحلیل کے لئے ایڈوائس پر دستخط کرکے اسے عمران خان صاحب کے حوالے کرچکے ہیں۔وہ درست کہہ رہے ہوں گے۔

ان کی نیت پر شبہ کئے بغیر البتہ سیاسی عمل کو آئینی اور قانونی شکل دینے سے متعلق قواعد وضوابط کا دیرینہ شاہد ہوتے ہوئے یاد دلانے کو مجبور ہوں کہ پنجاب اسمبلی تحلیل کرنے کی ایڈوائس وزیر اعلیٰ کے دفتر سے جاری ہونا لازمی ہے۔وزیر اعلیٰ کو اس کے متن پر دستخط کرنے کے بعد اسے سرکاری خط کی شکل دینے کے لئے اس کی تاریخ اور وقت بھی لکھنا ہوگا۔اس کے بعد ہی ’’سرکاری چٹھی‘‘ اگر گورنر پنجاب کے دفتر میں ’’باقاعدہ‘‘ وصول ہوجائے تو 48گھنٹوں کے بعد صوبائی اسمبلی کا تحلیل ہوجانا لازمی قرار پائے گا۔ زمان پارک میں عمران خان صاحب کے گھر سے ایسی چٹھی بھجوانے کی دفتری قواعد وضوابط گنجائش ہی فراہم نہیں کرتے۔پنجاب کے وزیر اعلیٰ نے 23دسمبر کی صبح اپنے دفتر سے صوبائی اسمبلی تحلیل کرنے والی سمری نہ بھجوائی تو تحریک انصاف کے صوبائی حکومت میں شامل وزراء کو دبائو بڑھانے کے لئے فی الوقت کم از کم صوبائی کابینہ سے مستعفی ہونا پڑے گا۔ سوال اٹھتا ہے کہ تحریک انصاف کے کوٹے سے صوبائی وزیر بنے افراد میں سے کتنے لوگ اس امر کو تیار ہوں گے۔وفاداریاں تبدیل کرنے کیلئے بنائے قوانین اس امر کی بابت خاموش ہیں کہ ’’پارٹی قیادت‘‘ کے حکم پر اگر کوئی دفاقی یا صوبائی وزیر اپنے عہدے سے استعفیٰ دینے کو راضی نہ ہوتو’’لوٹا‘‘ شمار ہوگا یا نہیں۔یہ فیصلہ بھی بالآخر عدالتوں ہی میں ہوگا۔تماشہ یوں مزید کچھ روز تک جاری رہ سکتا ہے۔

Exit mobile version