کیا ' بیٹ می کمپین'  مؤثرہو گی؟

سعدیہ احمد

sadia-ahmed

میں کبھی بھی کسی جگہ فٹ نہیں ہو پائی۔ موٹے لوگ سوچتے تھے میں بہت پتلی ہوں اور پتلے لوگوں کو لگتا تھا میں بہت موٹی ہوں اس لیے ان کی محفل کے قابل نہیں ہوں۔ میں عقلمندوں کے ساتھ بیٹھنے کے لیے سنجیدہ نہیں تھی اور کم عقل لوگوں کے ساتھ رہنے میں بہت زیادہ ہی سنجیدہ تھی۔ میں ایسے تھی جیسے پالتو جانور جنگلی جانوروں سے مختلف ہوتے ہیں۔ یہ تو بہت کم چیزیں ہیں ۔

میرا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ میں دیسی لوگوں کے لیے برگر ہوں اور برگر کے لیے دیسی ۔ اس وجہ سے میں ہمیشہ گھر سے نکل کر اپنی مرضی کا ڈنر کرنے پر مجبور ہو جاتی ہوں۔ میں خواتین پر ہونے والی تنقید سے اچھی طرح واقف ہوں لیکن میں اپنا آپ دکھانے سے ڈرتی نہیں ہوں۔ جی ہاں میں ایک فیمنسٹ ہوں اور مجھے اس پر فخر ہے۔ میں عورتوں کی ترقی کی سب سے بڑی حمایتی ہوں لیکن بات یہیں ختم نہیں ہوتی۔ کبھی کبھار میرے اپنے ساتھی اپنے سسرالیوں کے ساتھ اچھا سلوک کرنے اور خاوند کے لیے بڑھیا کھانے بنانے پر اکیلا چھوڑ دیتے ہیں۔ بہت کھل کر گفتگو کرنے کی عادت کی وجہ سے گھریلو عورتیں بھی مجھ پر برس پڑتی ہیں۔ اس لیے میں مِس فٹ ہو کہلائی نا۔

کل میں جلد گھر آئی لیکن پہنچتے ہی کچن کا رخ نہیں کیا۔ بلکہ میں نے سوشل میڈیا پر تھوڑا وقت گزارنے کی ٹھانی ۔ ٹویٹر پر مجھے 'بیٹ می' نامی ویڈیو نظر آئی جو 'یو این وومین پاکستان' نے پیش کی تھی۔

سب سے پہلے تو نام نے ہی مجھے حیران کر دیا۔ آخر ویڈیو میں پیغام کیا تھا؟ گھریلو تشدد بین الاقوامی مسئلہ بن چکا ہے۔ لیکن ہماری دنیا میں یہ زیادہ ہی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ ہماری عورتیں آزاد اور خود مختار نہیں ہیں۔ یہاں عورت کو مرد کی جذباتی اور جسمانی پراپرٹی سمجھا جاتا ہے۔ چالاک عورتوں کو بھی ایسے ہی ڈیل کیا جاتا ہے ۔ بھائی، باپ، خاوند اور بیٹے سب عورتوں سے ایسے ہی پیش آتے ہیں۔ اس حقیقت کو دیکھتے ہوئے یہ کہہ سکتے ہیں کہ گھریلو تشدد متوسط اور لوئر طبقہ کے لوگوں کا مسئلہ ہے۔

یہ مسئلہ سب سے زیادہ ان خاندانوں کی عورتوں کو متاثر کرتا ہے جو مالی اور ذہنی لحاظ سے بہت تیز اور شاطر نہیں ہوتیں۔ واپس ویڈیو کی طرف چلتے ہیں۔ کتنے مرد اس ویڈیو کو دیکھ کر پیغام کو سمجھ پائیں گے جب کہ پیغام انگریزی میں دیا گیا ہو؟ ہمارے مردوں کی اکثریت اس زبان پر عبور نہیں رکھتی۔ میں یو این وومن پاکستان کی شکر گزار ہوں کہ انہوں نے اس مسئلے کو سامنے لانے کی کوشش کی ہے لیکن میرے ذہن میں بہت سے سوالات ہیں جن کا جواب میرے لیے بہت اہم ہے۔

جہاں تک ویڈیو کے ٹائٹل کا تعلق ہے، تو یہ مردوں کو اپنی طرف مخاطب کرتا ہے ۔ میں ویڈیو کی فلمنگ کو نہ سمجھ پانے پر بھی معذرت خواہ ہوں۔ اس فلم میں معاشرے کی جانی پہچانی عورتیں اپنے مردوں کو چیلنج کر رہی ہیں کہ ان کے مرد ان کو ٹیلنٹ کے ذریعے شکست دے کر دکھائیں ۔ میشا شفیع نے اپنی آواز کے ساتھ مردوں کو چیلنج کیا ہے۔ ان کے بارے میں تو میں اپنا تبصرہ ابھی نہیں کروں گی۔ مومنہ مستحسن جنہوں نے قندیل بلوچ پر تنقید کی تھی؟ وہ مردوں کو چیلنج کرنے میں سنجیدہ ہیں؟ کیا کوک سٹوڈیو پر ایک بار جلو ہ گر ہونا ان کو پاکستانی عورتوں کا رول ماڈل بنا دینے کے لیے کافی ہے؟

نسیم حمید البتہ واقعی قابل احترام ہیں اور میں ان کے ٹیلنٹ کی عظمت کی معترف ہوں۔ میں اقوام متحدہ کی شکر گزار ہوں کہ انہوں نے گھریلو تشدد کے مسئلے پر آگاہی کا یہ قدم اٹھایا لیکن کوئی بھی میسج پھیلانے کے لیے اپنے ناظرین کی سمجھ کی قابلیت کو مد نظر رکھنا چاہیے۔ عجیب و غریب الفاظ ااور متنازعہ شخصیات کو استعمال کر کے معاشرے کی خدمت کا مقصد حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ آپ پاکستانی مردوں کو ایک عجیب و غریب ویڈیو کے ذریعے اپنی عورتوں سے اچھا سلوک کرنے کا طریقہ نہیں سکھا رہے۔ یہ ملک انڈس ویلی تہذیب کا ہے۔ یہاں کی عورتیں ہمیشہ سے گھریلو تشدد کا سامنا کرتی آئی ہیں۔ ایک زیادہ مضبوط اور فوکسڈ اپروچ کے ذریعے مقصد کو بہتر طریقے سے حاصل کیا جا سکتا ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *