اسرا نعمانی کو ایک کھلا خط

رضا حبیب راجا

raza-habib-raja

محترمہ مس اسرا

میں پچھلے 5 سال سے یو ایس اے میں ایک طالب علم کی حیثیت سے رہ رہا ہوں۔ اس وقت میں پی ایچ ڈی کے تیسری سمیسٹر میں ہوں۔ میں نےآپ کا سابقہ کام پڑھا ہے۔ میں آپ کے لبرل خیالات کا بھی احترام کرتا ہوں لیکن ٹرمپ کو ووٹ دینے کی جو وجہ آپ نےبتائی ہے اس سے میں بہت حیران ہوا ہوں۔ بہت سے لوگ آپ کے خط کو شئیر کر کے اپنا ووٹ دینے کا فیصلہ اسی پر مبنی قرار دے رہے ہیں ۔

ظاہری طور پر ایک لبر ل شخص کا ٹرمپ جیسے امیدوار کو ووٹ دینا بہت بہادر قدم نظر آتا ہے۔ لیکن میں ایک قدم مزید آگے جا کر یہ کہنا چاہتا ہوں کہ لبرل خیالات اور اقدار کے منافی نظریات رکھنے والے شخص کو ووٹ دینا بہت حیران کن بات ہے۔ ویسے تو ووٹ ایک ذاتی فیصلہ ہوتا ہے۔ کوئی کسی کو یہ اختیار استعمال کرنے سے روک نہیں سکتا۔ یہاں میں اس ہجوم کی مذمت کرنا چاہوں گا جوٹویٹر پر آپ کو طعن و تشنیع کا نشانہ بنا رہا ہے۔ میرے خیال میں کسی سے اختلاف پر امن رہ کر بھی کیا جا سکتا ہے۔ میں یہی پر امن طریقہ اختیار کرتے ہوئے اختلاف کا اظہار کرنا چاہتا ہوں۔

میں اس لیے لکھ رہا ہوں کہ پہلے آپ نے ٹرمپ کو ووٹ دیا، پھر کھلے عام اس پر فخر کا اظہار کیا اور اپنے فیصلے کو جسٹیفائی کرنے کی کوشش کی جب کہ آپ کا یہ بھی دعوی ہے کہ آپ لبرل ہیں۔ جب ہم عوام کے سامنے جاتے ہیں تو توقع کرتے ہیں کہ ہمارے خیالات سے لوگ اتفاق کریں گے۔آپ کے لبرل ہونے کا دعوی کرنے کے بعد ٹرمپ کو ووٹ دینے کی جو وجہ بتائی وہ بہت کمزور ہے۔ لبرل ہونے کے ساتھ آپ عورت بھی ہیں ، مہاجر بھی ہیں، مسلمان بھی ہیں اور ایسے رنگ کی نسل سے ہیں جسے ٹرمپ نے اپنی مہم کے دوران تنقید کا نشانہ بنایا۔

آپ نے بتایا کہ اوباما اور ہیلری ریڈیکل اسلام کے ارد گرد گھوم کر جیتنا چاہتے تھے اور قطر اور سعودی عرب کے اثاثوں کی وجہ سے بھی وہ ان ممالک کے بھی زیر اثر تھے ۔ یہی وجہ تھی جس نے آپ کو تمام غیر لبرل لوگوں کو مسترد کر کے اور ٹرمپ کے تمام متنازعہ بیانات کو نظر انداز کرتے ہوئے انہیں ووٹ دیا۔ اب آپ نے اس الیکشن کو ایک ایشو تک محدود کر دیا ہے لیکن یہاں بھی آپ کی وضاحت زیادہ پر اعتماد نہیں ہے۔ لیکن سب سے پہلے میں یہ بتاوں گا کہ آپ نے جو صحیح نکتہ چنا وہ کیا ہے۔ آپ کا کہنا ہے کہ بعض اوقات لبرل خیالات کے سیاستدان بھی اسلامی شدت پسندی کا دفاع کرتے نظر آتے ہیں۔ یہ بات سچ ہے کہ ثبوت ہونے کے باوجود بھی یہ لوگ شدت پسندی کو کھل کر مذمت نہیں کرتے۔ کچھ ایسے لبرل بھی ہوتے ہیں جو اسلامی ریفارمرز کے سپورٹر ہونے کے باوجود اسلام کی مخالفت کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

آپ کی یہ بات درست ہے کہ اسلامی شدت پسندی ایک اہم مسئلہ بن چکا ہے جو فوری طور پر حل طلب ہے۔ میں خود ایک اسلامی ملک سے تعلق رکھتا ہوں او ر براہ راست اس شدت پسندی کا سامنا کر چکا ہوں۔ میرا قریبی ساتھی اورناصح رضا رومی صاحب پاکستان میں شدت پسندوں کے ہاتھوں بال بال بچے۔ چونکہ میں پاک ٹی ہاوس میں ایک ایڈیٹر کا کام کرتا ہوں جو ایک لبرل بلاگ ہے جسے رضا رومی صاحب چلا رہے ہیں اس لیے مجھے بھی دھمکی آمیز ای میلز ملتی رہی ہیں۔ اس بات میں شک نہیں کہ اسلامی شدت پسندی کو سنجیدگی سے لینا ہو گا اورکسی حد تک یہ بھی ٹھیک ہے کہ کچھ لبرل حضرات معاملے کی خرابی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ البتہ جہاں لبرل حضرات کو تنقید کا نشانہ بنانا آسان ہے وہیں ہمیں مسئلے کو پوری طرح سمجھنے کی بھی ضرورت ہے۔

بائیں طرف کے سیاسی سپیکٹرم سے تعلق رکھنے والے بہت سے لوگ مسئلے کو سمجھنے سے قاصر ہیں۔ البتہ لبرل لوگ مسلمانوں کا دفاع اس لیے کرتے ہیں کہ کہیں وہ مسلمان بھی انتقام کا نشانہ نہ بن جائیں جو ایسی سرگرمیوں میں ملوث نہیں ہوتے۔ کئی بار وہ ریڈیکل اسلام پر بھی تنقید اس لیے نہیں کرتے کہ انہیں خوف محسوس ہوتا ہے کہ اس بات کو دشمن عناصر اسلام دشمنی کو جائز قرار دینے کے لیے استعمال نہ کر پائیں۔ یہی خوف بعض لبرل حضرات کو اپنا نقظہ نظر کھل کر بیان کرنے سے روکتا ہے۔ بعض لوگ تو اسلام کا دفاع کرنے میں حد پھلانگ جاتے ہیں لیکن یہ ان کی بیوقوفی نہیں بلکہ مسلمانوں کہ ساتھ یکجہتی کا اظہار ہوتا ہے۔ کچھ لوگ واقعی حد پار کر لیتے ہیں لیکن ان کے اس رویہ کی ایک واضح وجہ ہے۔

انہیں اپنا رویہ بدلنا چاہیے لیکن ٹرمپ کےتعصب کو اس طرح ڈھانپنے کی کوشش اس کا صحیح جواب نہیں ہے۔ آپ نے اوباما اور ہیلری پر عربوں کے زیر اثر رہتے ہوئے اسلامی شدت پسندوں کی خفیہ حمایت کا الزام لگایا ہے۔ لیکن اس سے یہ کہاں معلوم ہوتا ہے کہ ٹرمپ کی اپروچ ان دونوں سے بہتر ہے؟ آپ کے خیال میں سعودی عرب کی طرف سے کلنٹن فاونڈیشن کو ڈونیشن دیا جانا ہیلری کو ناقابل یقین رہنما بنانے کے لیے کافی ہے ؟ اور ساتھ آپ ٹرمپ کے اس تجویز پر غور نہیں کیا جس میں انہوں نے کہا کہ سعودیہ کو ایٹمی ہتھیار رکھنے کی اجازت دی جانی چاہیے۔

اس کے ساتھ ساتھ ٹرمپ کا خیال ہے کہ تمام مسلمانوں کے امریکہ سے دور رکھ کر دہشت گردی پر قابو پایا جا سکتا ہے ۔ آپ بھی اس نظریہ سے اختلاف رکھتی ہیں۔ اس کے علاوہ ان کے پاس دہشت گردی کے مسئلے کا کیا حل ہے؟ ٹرمپ کے اس نظریہ کی مدد سے جہادی تنظیموں نے مزید خود کش بمبار اپنی فوج میں بھرتی کر لیے ہیں اور اس مقصد کے لیے انہوں نے ٹرمپ کے اس خیال کو بہترین طریقے سے استعمال کرنا شروع کر دیا ہے۔ جب ہم اسلام کی شدت پسندی سے ہٹ کر دوسرےمسائل کی طرف دیکھتے ہیں تو آپ کا ٹرمپ سرکار کا ساتھ دینے کا مسئلہ اور بھی غیر واضح ہو جاتا ہے۔

خاندانی منصوبہ بندی کے حوالے سے آپ کی کیا رائے ہے؟ پورا جی او پی جس میں ٹرمپ بھی شامل ہے، عورتوں کو ولادت کےکنٹرول کے حقوق دینے کے خلاف ہے ۔ یہاں تک کہ ٹرمپ اسقاط حمل کرنے والی عورتوں کو جیل بھیجنے کے متمنی ہیں۔چونکہ جی او پی حکومت کی تمام برانچز کو اپنے کنٹرول میں رکھتا ہے اوراسے سپریم کورٹ کے فیصلوں پر بھی اثر انداز ہونے کا بھی حق ہے، اس لیے یہ کہا جا سکتا ہے کہ ولادت کنٹرول کے حقوق چھین لیے جائیں گے۔ کیا آپ کو واقعی لگتا ہے کہ ایسے شخص کو ووٹ دے کر آپ لبرل ہونے کا حق ادا کر رہی ہیں؟

ایک لبرل کی حیثیت سے آپ جی او پی کے گن کنٹرول کے بارے میں نظریات کو کیسے دفاع کریں گی؟ آپ نے اس شخص کو ووٹ دیا ہے جو معاشرے کے ہر شخص کے ہاتھ میں گن تھما دینا چاہتا ہے ۔ لبرل لوگ ہمیشہ آمریت کے خلاف ہوتے ہیں لیکن ٹرمپ کی فتح کے بعد لگتا ہے کہ آمریت ایک بات پھر پنپ رہی ہے۔ مانا کہ امریکی جمہوریت میں چیک اور بیلنس کا انتظام موجود ہے لیکن ایک ایگزیکٹو کی حیثیت سے صدر کو پورا اختیار دیا جاتا ہے۔ جی او پی کے کنٹرول میں اس اتھارٹی کا زیادہ استعمال ہونے کا خدشہ ہے اور اس مسئلے نے زیادہ تر تجزیہ نگاروں کو پریشان کر رکھا ہے۔ میں ان کے نسل پرستی اور صنفی تعصب پر مبنی بیانات کی طرف نہیں جاونگا۔

ایسا لگتا ہے کہ ٹرمپ نے اپنی مہم کے دوران جو کچھ کہا وہ ووٹ حاصل کرنے کی ایک چال تھی۔ لیکن ہو سکتا ہے وہ ایسا ہی سوچتے ہوں۔ میں آپ کے اس بیان سے اتفاق کرتا ہوں کہ ٹرمپ کو فی الحال نسل پرست یا صنفی تعصب کا شکار شخص قرار نہیں دیا جا سکتا۔ لیکن یہ بات ضرور ہے کہ ان کے جیتنے کے بعد بہت سے نسل پرست اور متعصب لوگ اپنا حق جمانے لگے ہیں۔ جب ڈیوڈ ڈیوک جیسے لوگ خوشیاں منانے لگیں تو سمجھو کچھ گڑ بڑ ضرور ہے۔ آپ کو یہ بھی محسوس ہوتا ہے کہ زیادہ تر مسلمان مظلومیت کا رونا روتے ہیں۔ اگر آپ کے اس خیال سے اتفاق کر بھی لیا جائے تو یہ بات ذہن میں رکھیں کہ اس وقت صرف مسلمان ہی خوف کی فضا میں نہیں بلکہ دوسری بہت سی قومیں سخت خوف بھری زندگی بسر کر رہی ہیں۔ سیاہ فارم لوگ، ایشیا سے آنے والے مہاجرین اور بہت سی جوان عورتیں سخت گھبراہٹ کا شکار ہیں۔

ٹرمپ کی کمپین سے ہی ایک خوف کا ماحول پیدا ہو گیا تھا۔ آپ اس بات کے لیے لبرل میڈیا پر الزام لگا سکتی ہیں لیکن سچ یہ ہے کہ اس طرح کی جارحانہ کمپین آج تک کبھی نہیں دیکھی گئی۔ دنیا بھر کے لوگ اس کمپین کو بہت برا قرار دیتے تھے۔ ایک مسلمان عورت ہوتے ہوئے بھی آپ خوف محسوس نہیں کر رہی لیکن یہ تو دیکھیں کہ کتنی عورتیں آ پ کی طرح بے خوف ہیں؟ عوام سڑک پر آ کر تعصب اور نسل پرستی نہیں رو ک سکتے۔ اقلیتوں پر بربریت کے واقعات پہلے ہی شروع ہو چکے ہیں۔ سٹیفن بینن کو ایڈوائز ر مقرر کر دیا گیا ہے جس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ سفید فام نیشنلزم بڑھنے والی ہے۔ آپ نے اپنا فیصلہ بتایا اور اپنے آپ کو لبرل قرارد یتے ہوئے اپنے بیان کا جواز بھی پیش کیا۔ اگرچہ میرا خیال ہے کہ آپ ایک بہادر عورت ہیں اور آپ کچھ حد تک لبرل خیالات کی حامی بھی لیں لیکن ٹرمپ کو ووٹ دینے کے معاملے میں مجھے نہیں لگتا کہ آپ کا فیصلہ صحیح ہے۔

آپ کا مخلص

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *