اور ذوالقرنین بھی داغِ مفارقت دے گئے

شہباز انور

ابھی شفیق مرزا کی رحلت کے آنسو خشک بھی نہ ہوپائے تھے کہ اہلِ صحافت کو ایک اورصدمہ برداشت کرنا پڑا ۔ہمارے یارِ دیرینہ اور صحافت کے اسی قبیلے کے ایک سرخیل ذوالقرنین بھی دنیائے فانی سے رخصت ہوکر عالم جاودانی کوسدھار گئے ۔دونوں دوست حقیقی معنوں میں عالم ، فاضل اور دانش ور کادرجہ رکھتے تھے کہ دونوں کا تبحرِ علمی قابلِ رشک اور اپنی مثال آپ تھا۔

ذوالقرنین صاحب سے دوستی اور تعلق بھی خوب ہوا ۔یہ تعلق آج سے تین عشرے قبل ہوا تھا ۔پیچھے مڑ کر دیکھتا ہوں تو ایک خواب سا لگتا ہے ۔ یہ میرے کالج کا ابتدائی زمانہ تھا ۔اسی دور میں مجھے اخبارات ورسائل میں لکھنے اور چھپنے کا شوق چرایا اور میں نے مختلف موضوعات پر مضامین لکھنے شروع کیے ۔کامرس کا سٹوڈنٹ ہونے کی وجہ سے ان دنوں میری دلچسپی کا عمومی موضوع پاکستان کے معاشی یااقتصادی مسائل ، بہبود آبادی ، بجٹ ، اہم قومی شخصیات اور ادب ہوتاتھا۔ لکھنے لکھانے کا شوق مجھے اپنے وقت کے معروف اخبارات و رسائل اور ان میں لکھنے والے اہل قلم کے ساتھ ربط وتعلق کی طرف راغب کرنے کا باعث بنا ۔

اسی پس منظر میں ایک دن مجھے ریگل چوک کے قریب واقع عمارت میں قائم روزنامہ ’’ جسارت ‘‘ کے لاہور آفس جانے کا موقع ملا۔اس وقت روزنامہ ’’ جسارت ‘‘ کے بیورو چیف ذوالقرنین ہوا کرتے تھے ۔بڑ ے نفیس ، دھیمے مزاج ، خوش اخلاق و خوش طبع اور علم وادب کے شناور ۔ان کے ساتھ ملاقات ایسی خوشگوار ہوئی کہ دوستی میں بدل گئی اور پھر ملاقاتوں کا سلسلہ چل نکلا۔ ان کی رہائش گاہ کے راستے میں میرا غریب خانہ آتا تھا سو اس لیے بھی کسی نہ کسی انداز میں ملاقات ہوہی جاتی تھی ۔

ان کا جھکاو کسی حد تک جماعت اسلامی اور دیگر دائیں بازو کے نظریات رکھنے والی جماعتوں کی طرف تھا لیکن وہ ان کے نظریات، کردار عمل اور طریق کار سے سوفیصد اتفاق نہیں کرتے تھے ۔ یہی وجہ تھی کہ ان سے متاثر ہوئے بغیر وہ اپنی رائے بلا کم و کاست بیان کرنے اور اپنے نقطہ نظر کا اظہار کرنے میں کبھی مصلحت سے کام نہیں لیتے تھے ۔ان کا طرز استدلال اس قدر جاندار ہوتا تھا کہ ان سے اختلاف رکھنے کے باوجود ا ن کی بات کو ایک وزن دینا پڑتا تھا۔

آج کے میاں نواز شریف وزیر اعظم پاکستان کے ترجمان روف طاہر سے ملاقات بھی پہلی مرتبہ اسی جسارت کے دفتر میں ہوئی تھی جہاں وہ اکثر آیا کرتے تھے ۔ ذوالقرنین سے جسارت کے دفتر کے علاوہ ادبی محفلوں میں بھی ہوجاتی تھی ۔بعد میں جب روزنامہ ’’ پاکستان ‘‘ مجیب الرحمان شامی کی زیر ادارت شائع ہونا شروع ہوا تو ذوالقرنین نے اس اخبار سے وابستگی اختیار کرلی اور اس کے ادارتی صفحہ میں خدمات انجا م دینا شروع کردیں ۔یہ سلسلہ ایک عرصہ تک جاری رہا ت۔

روزنامہ ’’ نئی بات ‘ ‘ کا اجرا ہوا تو جناب ذوالقرنین نے زقند بھری اور اس نئی اخبار میں چلے گئے اور یہاں پر بھی ادارتی صفحہ ہی کی ذمہ داریاں سنبھال لیں ۔اداریہ نویسی میں انہیں کمال دسترس حاصل تھی ۔ذوالقرنین کو مجلسی گفتگو میں بات کرنے کاسلیقہ آتا تھا ۔بحث و مباحثے میں وہ بہت سوں کو پیچھے چھوڑدیتے بلکہ انہیں پسپائی پر مجبور کردیتے تھے ۔کرنٹ افیئرز، ملکی و عالمی حالات، سیاست ، تاریخ کے ساتھ ساتھ ادب کے ساتھ بھی انہیں خاصی دل بستگی تھی ۔

وہ جراءتِ اظہار کے وصف سے بھی آراستہ تھے ۔جس طرح وہ اپنی بات کسی لگی لپٹی کے بغیر بے لاگ انداز میں کہنے کی جرائت و حوصلہ رکھتے تھے اسی طرح وہ دوسرے کے نکتہ نگاہ کو بھی پوری اہمیت دیتے تھے ۔پی آر شپ کے اس دور میں ،کہ جب بڑے بڑے بونے اسی عفیفہ کے سہارے بڑے بڑے مناصب پر قابض ہوچکے ہیں ، انہوں نے خود کو اس سے آلودہ نہیں ہونے دیا ۔

انتقال سے قبل وہ کینسر ایسے موذی مرض کے باعث صاحبِ فراش ہو گئے تھے اور معمول کی اپنی سرگرمیوں کو یوں جاری نہ رکھ سکے ۔کنجِ تنہائی میں زندگی کے دن بتاتے رہے اور پھر آخر کار یہ دیا بھی اپنی لو دکھا کر بجھ گیا ۔

ع حق مغفرت کرے عجب آزاد مرد تھا

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *