جنہیں جرمِ عشق پہ ناز تھا

رؤف طاہرrauf

سفارتی مصلحتیں ہوں گی جو فارن آفس خاموش رہا، ورنہ اپنے عشاق سے ایسے بھی کوئی کرتا ہے۔ ایسے میں پروفیسر غلام اعظم کے انتقال پر امیرِ جماعتِ اسلامی سراج الحق کے نام وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خاں کے تعزیتی خط اور وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق کے تعزیتی بیان کو ریاستِ پاکستان کی طرف سے فرضِ کفایہ سمجھ لیتے ہیں: ’’پروفیسر غلام اعظم ایک صاحبِ ایمان، صاحب ِ استقامت ، صاحبِ عزم اور صاحبِ عزیمت شخصیت تھے جنھوں نے اصول اور نظرئیے کے ساتھ وفاداری کی لازوال اور قابلِ قدر تقلید مثال قائم کی۔ 1971 کے بحران میں اُنہوں نے قائداعظم کے پاکستان کے اتحاداور سلامتی کی جدوجہد میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ کیا، اس میں جان و مال کے کسی خطرے کو خاطر میں نہ لائے ۔ اسی جرم میں انہیں 99 سال قید کی سزا سنائی گئی اور اسی اعزاز کے ساتھ وہ اپنے خالقِ حقیقی کے حضور حاضر ہوگئے۔‘‘پروفیسر غلام اعظم کے ساتھ آخری ملاقات یاد آئی۔ حافظہ ساتھ نہیںدے رہا کہ یہ کونسا سال تھا، شاید 2004-5ہو، ہمارے قیامِ جدہ کے ماہ و سال۔ پروفیسرصاحب سعودی عرب تشریف لائےتھے۔ اِن کا ایک صاحبزادہ ورلڈ اسلامک بنک میں ملازم تھا اور پروفیسرصاحب جدہ میں اسی کے ہاں مقیم تھے۔ ہم پروفیسرصاحب کی خدمت میں حاضرہوئے۔ (جدہ کا نوجوان صحافی سراج وہاب بھی ساتھ تھا)۔ گھٹنوں کی تکلیف کے سوا، پروفیسر صاحب کی عمومی صحت اچھی تھی۔ ڈھائی،تین گھنٹے کی ملاقات میں بنگلہ دیش کی سیاست اور اس میں جماعتِ اسلامی کے کردار کے علاوہ ہندوستان کے ساتھ بنگلہ دیش کے تعلقات اور مستقبل کے امکانات پربھی گفتگو رہی۔ ایک مرحلے پرمتحدہ پاکستان کا ذکربھی آیا۔ پروفیسر صاحب کے چہرے پر ایک رنگ آیا اور گزر گیا۔ بوڑھی آنکھوں میں نمی سی اُتر آئی تھی۔ یوں لگا، دُنیائے دل زیروزبر تو ہوئی لیکن انہوں نے اسے سنبھال لیا، سیلاب کو کناروں سے باہر نہ آنے دیا۔ اِن کا صاحبزادہ گراؤنڈ فلور تک الوداع کہنے آیا۔ لفٹ سے نکل کر پُرجوش مصافحہ کرتے ہوئے، وہ بتارہا تھا ،حرمین میں پروفیسرصاحب کی ہچکیوں میں پاکستان بھی شامل ہوتا ہے۔ نواب زادہ نصراللہ خاں کے ساتھ ایک ملاقات یاد آئی۔ 32نکلسن روڈ پر شام کی ایک محفل میں ایوب خاں کے مقابل صدارتی انتخاب میں مادرملت کی انتخابی مہم کا ذکر ہوا۔ مادرِ ملت مشرقی پاکستان گئیں تو نواب زادہ بھی ان کے ہمراہ تھے۔ بانیٔ پاکستان کی ہمشیرہ محترمہ جہاںبھی گئیں، بنگالیوں نے دیدہ و دل فرشِ راہ کردیئے۔ چارسُو محبت کا ایک طوفان تھا، عقیدت اور احترام کا ایک سیلاب‘ جو اُمڈ اچلا آتا تھا۔مشرقی پاکستان میں اس قافلہ ٔ جمہوریت کے ہراول دستے میں شیخ مجیب بھی شامل تھا۔ یہ دسمبر 1964 تھا۔ نواب زادہ صاحب خاموش ہوئے تو ہمیں ایک فقرہ سوجھا ’’اور پھر سات سال بعد دسمبر 1971 میں یہی مشرقی پاکستان بنگلہ دیش بن گیا‘‘۔ ہمارے اس فقرے پربزرگ سیاستدان کے چہرے پر ایک سایہ سا لہرا گیا، بوڑھی آنکھیں نم ہوگئیں۔ اب یہی سایہ متحدہ پاکستان کی یاد میں پروفیسر غلام اعظم کے چہرے پر لہرایا اور گزر گیا تھا۔ یہی نمی پروفیسر صاحب کی بوڑھی آنکھوں میں اُتر آئی تھی۔ لاہور سنت نگر کے افغان پارک (سابقہ نہرو پارک) میں میاں طفیل محمد کے انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے سید مودودی نے کہا تھا، علاقائی جماعتیں جیت گئیں تو فوج بھی ملک کو متحد نہیں رکھ سکے گی اور 7دسمبر 1970 کے بعد یہی ہوا۔ مشرقی پاکستان کی 162 میں سے 160 نشستوں پر شیخ مجیب کی عوامی لیگ کامیاب ٹھہری ۔ ملک کے مغربی حصے کی 138 میں سے 80نشستیں بھٹو صاحب کی پیپلز پارٹی کے حصے میں آئیں۔اسے اصل کامیابی پنجاب میں حاصل ہوئی تھی۔ (آپ اسے کلین سویپ بھی کہہ سکتے ہیں)۔ اپنے آبائی صوبے (سندھ) کی اسمبلی میں بھٹو سادا اکثریت بھی حاصل نہیں کر پائے تھے۔ (60 میں سے 28 نشستیں ) صوبہ سرحد میں پیپلز پارٹی تیسرے یا چوتھے نمبر پر تھی۔خود بھٹو صاحب ڈیرہ اسماعیل خاں میں مفتی محمود سے ہار گئے تھے ،بلوچستان میں ان کے لئے کچھ نہ تھا۔ مشرقی پاکستان میں پیپلز پارٹی نے ایک اُمیدوار بھی کھڑا نہیں کیا تھا۔
جہاں تک شیخ مجیب کا تعلق تھا، اس کی عوامی لیگ نے ’’مغربی پاکستان‘‘ میں علامتی طور پر ہی سہی، حصہ ضرور لیا۔ لاہور میں ملک حامد سرفراز اس کے اُمیدوار تھے۔ ملک صاحب (مرحوم) کا شمار ممتاز سیاسی رہنماؤں میںہوتا تھا، انہوں نے ساری عمر اپوزیشن کی سیاست کی، ایوب خاں کی آمریت کے خلاف ان کی دلیرانہ جدوجہد تاریخ کا حصہ ہے۔ شیخ مجیب ان کی انتخابی مہم کے لیے لاہور آئے لیکن لاہور کے گول باغ میں ان کا انتخابی جلسہ ’’محب وطن‘‘ نوجوانوں کے ہنگامے کی نذر ہوگیا ان کی ’’حب الوطنی‘‘، ڈھاکہ کی پکار سننے پر آمادہ نہ تھی۔
7دسمبر 1970 کا الیکشن مشرقی پاکستان میں کس حد تک صاف شفاف اور آزادانہ و منصفانہ تھا، یہاں اس سے بحث نہیں۔ مختصراً یہ کہ عوامی لیگ کے مدمقابل کسی جماعت کو وہاںانتخابی مہم چلانے کی ’’اجازت ‘‘ نہ تھی۔ جماعتِ اسلامی کی انتخابی مہم کے آغاز کے لیے مولانا مودودی ڈھاکہ گئے اورپلٹن میدان میں جلسے تک نہ پہنچ پائے۔ پلٹن میدان پر عوامی لیگی حملے میں جماعت کے تین کارکن جاں بحق اور درجنوں زخمی ہوگئے تھے۔ اس سے پہلے اسلامی جمعیت طلبہ ڈھاکہ کے ناظم عبدالمالک ڈھاکا یونیورسٹی میں قتل کر دیئے گئے تھے۔ مشرقی پاکستان میں شیخ مجیب کے مینڈیٹ کو جینوئین بھی مان لیا جائے پھر بھی یہ پاکستان سے علیحدگی کے لیے نہیں تھا۔ 6نکات کو ان کے سیاسی مخالفین ، پاکستان کو کمزور کرنے کا ایجنڈا قرار دیتے تھے، جبکہ شیخ صاحب اس کی تردید کرتے اور اسے متحدہ پاکستان میں صوبائی اختیارات کا پروگرام قرار دیتے۔
قیامِ پاکستان کے 23سال بعد ہونے والے یہ انتخابات ، دستور ساز اسمبلی کے لیے تھے۔ یحییٰ خاں کے ایل ایف او کے مطابق اسے 120 دن کے اندر دستور بنانا تھا۔ وفاق اور صوبوں میں انتقالِ اقتدار کا مرحلہ اس کے بعد آنا تھا۔ انتخابات کے بعد ایک نئے کھیل کا آغاز ہوگیا اور نوبت 25مارچ کو مشرقی پاکستان میں فوجی ایکشن اور شیخ مجیب کی گرفتاری تک جاپہنچی اور عوامی لیگ خلافِ قانون قرار پائی۔ پروفیسر غلام اعظم ان سیاسی رہنماؤں میں تھے، جو آخری لمحے تک فوجی آپریشن کی مخالفت کرتے اور بحران کے سیاسی حل پر زور دیتے رہے تھے۔ خود مجیب نے 25مارچ کو فوجی آپریشن کے آغاز تک پاکستان سے علیحدگی کا اعلان نہیں کیا تھا۔ اسمبلی کے 3مارچ کے اجلاس کے غیر معینہ التوا کے بعد ڈھاکہ میں شورش انتہا کو پہنچ گئی تھی۔ اس عالم میں بھی سات مارچ کو ڈھاکا میںہونے والے احتجاجی جلسے میں مجیب نے اپنی تقریر کا اختتام ’’جئے بنگلہ، جئے پاکستان‘‘ کے ساتھ کیا۔
25مارچ کے فوجی ایکشن اور مجیب کی گرفتاری کے بعد علیحدگی پسندوں کو کھُل کھیلنے کا موقع مل گیا تھا۔ اِن میں سے بعض سرحد پارکر کے ہندوستان چلے گئے، ہندوستان کی سرزمین پر بنگلہ دیش کی جلاوطن حکومت کے قیام کا اعلان کر دیا، جسے اندرا گاندھی نے تسلیم کرنے میں تاخیر نہ کی۔ انڈین رأ نے بنگالی نوجوانوں کی ’’مکتی باہنی‘‘ تیار کرنے کا فیصلہ کیا۔ اب مسئلہ مشرقی پاکستان کے سیاسی ، جمہوری اور آئینی حقوق کا نہیں، اس کی علیحدگی کا بن گیا تھا۔ جس میں محب پاکستان عناصر نے، انڈین اسپانسرڈعلیحدگی کی تحریک کی بجائے پاک فوج کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا۔ پروفیسر غلام اعظم کا بھی یہی جرم تھا۔ اور اسی ’’جرم ‘‘ میں انہیں گزشتہ سال 92سال کی عمر میں 99سال قید کی سزا سنا دی گئی۔ فاضل جج کے خیال میں وہ مستحق تو سزائے موت کے تھے لیکن ان کی پیرانہ سالہ اور صحت کے مسائل کو دیکھتے ہوئے، اس نے انسانی ہمدردی کے تحت سزائے موت کی بجائے 99سال قید کی سزا کو مناسب سمجھا۔
جرمِ عشق کے مرتکب کو اپنے کئے پرکوئی پچھتاوا تھا، نہ ندامت، یا معذرت۔ جیل سے اپنے تحریری پیغام میں اس نے لکھا، ’’میں اس سے پہلے چار بار جیل جاچکا ہوں۔ مجھے جیل یا موت کا کوئی خوف نہیں۔ الحمد اللہ میں اللہ تعالیٰ کے سوا کسی سے نہیں ڈرتا۔میں شہادت کی تمنا لے کر ہی تحریکِ اسلامی میں شامل ہوا تھا اب اگر اس جھوٹے مقدمے میں مجھے پھانسی پر لٹکا دیا گیا تو مجھے شہادت کا درجہ ملے گا اور یہ یقینا میرے لیے خوش بختی کا باعث ہوگا‘‘۔
فیض یاد آئے
جو رُکے تو کوہِ گراں تھے ہم، جو چلے تو جاں سے گزر گئے
ذرہِ یارہم نے قدم قدم تجھے یادگار بنا دیا

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *